رسول اکرمؐ کا حُسن سلوک

محمد کامران خالد  جمعـء 11 جنوری 2019
 کیا آج کے نام نہاد مہذب زمانے میں بھی اس کی کوئی مثال مل سکتی ہےکہ دشمن کے جانور ہاتھ آجائیں اور پھر انہیں واپس لوٹا دیا جائے فوٹو: فائل

کیا آج کے نام نہاد مہذب زمانے میں بھی اس کی کوئی مثال مل سکتی ہےکہ دشمن کے جانور ہاتھ آجائیں اور پھر انہیں واپس لوٹا دیا جائے فوٹو: فائل

انسان اپنے عزیزوں، رشتے داروں، تعلق داروں اور دوست احباب سے تو حُسن سلوک کرتا ہے، مگر اپنے کسی مخالف اور جانیں دشمن سے تو شاید ہی کوئی حسن سلوک کرے۔ مگر جن کا ہم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں اور جن کی غلامی پر ہم کو ناز ہے، وہ ہمارے پیارے نبی پاک صاحب لولاک اﷲ کے محبوب کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا حسن سلوک مخالفین اور ظالم دشمنوں تک کے لیے بھی اس قدر وسیع اور عام ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں آپؐ کے محاسن اور کمالات اور عفو عام اور حسن سلوک کے چند ایمان افروز واقعات قارئین کی نذر ہیں۔

ایک بار ایک یہودی اور ایک مسلمان کا مقدمہ حضور پاک ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش ہوا، آپؐ نے مذہب اور عقیدے کا لحاظ کیے بغیر حقائق کی بنا پر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ عدل و انصاف پر زور دیتے ہوئے آپؐ نے قرآن کریم کی یہ تعلیم پیش فرمائی ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی سے کام لو، ہمیشہ عدل و انصاف کو قائم کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور پاک ﷺ نے مشرکین مکہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر مکہ سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ حضور کے پاس پہنچے گا تو اسے واپس کیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مدینہ سے واپس مکہ چلا جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ یہ شرط مسلمانوں کو اس وجہ سے سخت ناگوار تھی کہ بہت سے اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں کو مکہ میں دُکھ دیے جاتے تھے اور وہ مجبور تھے کہ مکہ سے ہجرت کرکے حضور پاک ﷺ کے پاس مدینہ آجائیں، ایسے ہی لوگوں میں ابوجندلؓ اور سہیلؓ بھی شامل تھے، جن کو مکہ میں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے سخت تکالیف دی جاتی تھیں، وہ مدینہ آگئے تھے۔ حضور پاک ﷺ کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپؐ نے دشمن قوم سے بھی معاہدہ کی اس حد تک پابندی کی کہ ابوجندلؓ کو واپس مکہ بھجوا دیا، حالاں کہ انہیں وہاں سخت  اذیتیں دی جاتی تھیں۔ فتح خیبر کے موقع پر مفتوح یہودیوں نے درخواست کی ہمیں یہاں سے بے دخل نہ کیا جائے، ہم نصف پیداوار مسلمانوں کے حوالے کر دیا کریں گے۔

حضور پاک ﷺ نے ان کی درخواست کو بھی قبول فرما لیا، مگر افسوس یہودیوں نے اس احسان کے باوجود حضور پاک ﷺ سے یہ سلوک کیا کہ ایک یہودی عورت نے حضور پاک ﷺ کو زہر ملا گوشت کھلا کر شہید کرنے کی کوشش کی۔ حضور پاک ﷺ کو جب اس خوف ناک سازش کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اس کو طلب فرمایا تو اس نے اقرار کیا کہ بے شک میری نیّت آپؐ کو قتل کرنا تھی۔ آپؐ نے فرمایا مگر اﷲ کی منشاء نہ تھی کہ تیری آرزو پوری ہوجائے۔ صحابہؓ نے اسے قتل کرنا چاہا تو آپؐ نے منع فرما دیا۔ حضور پاکؐ نے جب اس سے پوچھا کہ تمہیں اس ناپسندیدہ فعل پر کس بات نے آمادہ کیا تو اس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپؐ کی لڑائی ہوئی تھی، میرے دل میں آیا کہ آپؐ کو زہر دے دیتی ہوں، اگر واقعی آپؐ نبی ہوئے تو بچ جائیں گے۔

رسول پاک ﷺ نے جب اس کی یہ بات سنی تو اسے معاف فرما دیا۔ جان لیوا دشمنوں کے ساتھ ایسا سلوک یقینا عفو کی روشن مثال ہے جو تاریخ میں کہیں اور نہیں مل سکتی۔جنگ خیبر میں سرکار دوعالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا ایک اور عجیب اور ایمان افروز واقعہ بھی پایا جاتا ہے۔ ابھی محاصرہ جاری تھا کہ ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اس کی بکریاں چرایا کرتا تھا، مسلمان ہوگیا۔ مسلمان ہونے کے بعد اس نے کہا: یا رسول اﷲ ﷺ! اب میں ان لوگوں کے پاس تو جا نہیں سکتا اور یہ بکریاں اس یہودی رئیس کی امانت ہیں، اب میں کیا کروں ؟ سرکار ﷺ نے فرمایا: بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف پھیر دو اور ان کو پیچھے سے ہانک دو، اﷲ خود ان کو مالک کے پاس پہنچا دے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس چلی گئیں، جہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔

اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کس قدر امانت و دیانت کے اصولوں پر عمل فرمایا کرتے تھے۔ کیا آج کل کے نام نہاد مہذب زمانے میں بھی اس کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ دشمن کے جانور ہاتھ آجائیں اور پھر انہیں واپس لوٹا دیا جائے۔آپ ﷺ جنگ میں مشغول تھے، دشمنوں نے مسلمانوں کی صفوں میں کچھ بدنظمی پائی اور ایک اعرابی تلوار سونت کر آپؐ کے سر پر آگیا اور کہنے لگا: یامحمد ﷺ تمہیں کون بچا سکتا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا، اﷲ! یہ سن کر اس پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی، آپؐ نے فورا اسے اٹھا لیا اور فرمایا: اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ وہ کافر بولا آپؐ نے مجھے اسیر کر لیا، اب دوسرے قید کرنے والوں سے بہتر سلوک مجھ سے کیجیے۔

آپؐ نے اسے معاف کرکے رہا فرما دیا۔ جب وہ اپنے لوگوں میں واپس آیا تو کہنے لگا: میں اس وقت دنیا کے سب سے عظیم آدمی کے پاس سے آرہا ہوں۔ جس کسی نے حضور ﷺ کو آزار پہنچایا اگرچہ آپؐ ذی مقدرت تھے تاہم آپ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔ آپؐ سب سے زیادہ حلیم اور معاف کرنے والے تھے باوجود مقدرت دوسروں پر ہمیشہ رحم فرماتے۔ایک موقع پر ایک یہودی نے حضور اکرم ﷺ سے قرض کی ادائی میں سختی کرتے ہوئے گستاخی کے کلمات کہے اور حضور پاک ﷺ کے گلے میں چادر ڈال کر بل دیا، آپ سرکار ﷺ کی رگیں ابھر آئیں، حضرت عمر ؓ اس موقع پر موجود تھے وہ یہ صورت حال دیکھ کر بے قابو ہوگئے، انہوں نے بڑی سختی سے یہودی کو ڈانٹا اور کہا! او خبیث  اگر سرکار ﷺ نہ ہوتے تو میں تیرا سر توڑ دیتا۔ یہ سن کر رحمت عالم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو نرمی سے فرمایا عمر! تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، تمہیں چاہیے تھا کہ اس سے نرمی سے سمجھاتے، کیوں کہ ابھی اس کے قرض کی ادائی کی میعاد میں تین دن باقی ہیں، اور تمہیں مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ قرض وقت پر ادا کرو۔

اس کے بعد حضرت عمرؓ کو حکم دیا کہ تم میری طرف سے اس کا قرض بے باق کر دو اور بیس صاع کھجور مزید اپنی طرف سے اس سخت کلامی کے تاوان کے طور پر اسے ادا کرو۔ یہ رحمت دوعالم ﷺ کا کردار ہے کہ کس طرح آپؐ نے اپنے دشمنوں سے معاملہ فرمایا۔کعب بن زبیر جو عرب کا مشہور شاعر تھا اور ہمیشہ سرکار دوعالم ﷺ اور اسلام کی مخالفت میں شعر کہہ کر لوگوں کو اشتعال دلایا کرتا تھا اس کے دل کو اﷲ نے بدل دیا اسے بھی آپؐ نے معاف فرما دیا۔ وہ آپ ﷺ کی مدح میں ایک مشہور قصیدہ لے کر حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔

غزوہ بنو مصطلق میں رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی سلول نے سرکار دوعالم ﷺ کی شان میں گستاخی کا یہ فقرہ کہا کہ مدینہ جا کر میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں سب سے زیادہ ذلیل شخص کو مدینہ سے نکلوا دوں گا ( نعوذباﷲ)۔ ایسی گستاخی پر صحابہ کرامؓ نے چاہا کہ اسے قتل کر دیا جائے کیوں کہ یہ گستاخ رسول ﷺ ہے۔ مگر حضور پاک ﷺ نے انہیں اس سزا کی اجازت نہیں دی۔ گستاخی کے اس فقرے کا جب اس کے مخلص بیٹے کو علم ہوا تو اس نے حضور ﷺ سے اپنے گستاخ باپ کو خود قتل کر دینے کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے اسے بھی منع کیا اور فرمایا کہ ہم تمہارے باپ سے نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے اس کے باوجود غیرت مند بیٹے نے مدینہ میں داخل ہونے سے قبل اپنے باپ کو گھوڑے سے اتار لیا اور اس سے جب تک یہ کہلوایا کہ وہ خود مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل ہے اور محمد ﷺ سب سے زیادہ معزز ہیں، اس کو چھوڑا نہیں۔ یہی عبداﷲ بن ابی سلول جب فوت ہوا تو اس کے مخلص بیٹے نے حضور پاک ﷺ سے جنازہ پڑھنے کی درخواست فرمائی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں جنازہ پڑھ دیتا ہوں۔

یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدا پاک نے قرآن میں منافق کا جنازہ پڑھنے سے منع کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر آپ ستّر بار بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں تو پھر بھی اﷲ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ یہ سن کر سراپا رحمت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس کے لیے اکہتّر بار مغفرت کی دعا کروں گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنے نبی پاک ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور آپس میں پیار و رواداری و محبت بھائی چارہ قائم کریں۔

اﷲ اپنے محبوب پاکؐ کے صدقے ہماری اور پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔