خیبر پختونخوا میں آئندہ تعلیمی سال سے نویں کا بورڈ امتحان ختم کرنےکا فیصلہ

محمد ہارون  جمعـء 11 جنوری 2019
خیبر پختونخوا میں 1996 تک آٹھویں جماعت کا سالانہ امتحان بورڈ کے تحت لیا جاتا رہا ہے فوٹو: فائل

خیبر پختونخوا میں 1996 تک آٹھویں جماعت کا سالانہ امتحان بورڈ کے تحت لیا جاتا رہا ہے فوٹو: فائل

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں اگلے سال سے نویں کا بورڈ امتحان ختم کرنے اور آٹھویں کا سالانہ امتحان بورڈ کے ذریعے کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کا اعلامیہ اگلے ہفتے جاری کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ تعلیم میں تبدیلی کے لئے نت نئے مگر 1996 کے پرانے طریقہ کار کو دوبارہ شروع کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، سابق پی ٹی آئی حکومت نے 2015 سے صوبے کے تمام پرائمری اسکولوں میں جائزہ امتحان شروع کیا، جس کا مقصد استاد اور طالب علم کے تعلیمی معیار کو جانچنا تھا، 2016 میں اس میں آٹھویں جماعت کو بھی شامل کیا گیا اور اعلان کیا تھا کہ مارچ 2018 میں پانچویں کا امتحان بورڈ اور آٹھویں جماعت کا جائزہ ہوگا یہ امتحانات عام طور پر فروری میں منعقد کے جاتے رہے جس کے لئے اسکولوں اور تعلیمی بورڈز میں تیاری موسم گرما کی تعطیلات کے بعد یکم ستمبر سے شروع کر دی جاتی ہے مگر امسال دسمبر تک اس کا فیصلہ نا کیا جا سکا۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال سے نویں جماعت کہ امتحان بورڈ نہیں ہو گا بلکہ یہ تمام ہائی و ہائر سیکنڈری اسکولوں میں عام سالانہ امتحان کے طور پر لیا جائے گا البتہ آٹھویں جماعت کا سالانہ امتحان بورڈ کردیا گیا ہے۔ اسی طرح امسال صوبہ بھر کے پرائمری اور مڈل جائزہ امتحانات لئے جائیں گے جس میں صرف سرکاری اسکول شامل ہوں گے مگر اس مرتبہ متعلقہ تعلیمی بورڈز صرف تمام اسکولوں کے 10 فی صد اسکولوں کے امتحان لے گی باقی 90 فی صد اسکولز اپنے طور پر جائزہ امتحان خود لیں گے البتہ امتحانی پرچے بورڈز کی طرف سے فراہم کے جائیں گے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں 1996 تک آٹھویں جماعت کا سالانہ امتحان بورڈ کے تحت لیا جاتا رہا ہے اور پھر 1997 سے یہ امتحان عام سالانہ امتحان میں تبدیل کر کے نویں سالانہ امتحان بورڈ کے تحت کیا گیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔