حق فرید ویلفیئر کے تحت غریبوں کو سستے کھانے کی فراہمی

نمائندہ ایکسپریس  پير 15 جولائ 2013
ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی صابر حسین قائمخانی نے بھی بابا فرید دستر خوان کا دورہ کیا اور انتظامات اور کھانے کے معیار کو سراہا۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی صابر حسین قائمخانی نے بھی بابا فرید دستر خوان کا دورہ کیا اور انتظامات اور کھانے کے معیار کو سراہا۔

حیدرآباد: حق فرید ویلفیئر سوسائٹی نے غربا و مساکین اور خود دار افراد کو ماہ صیام کی خوشیوں میں شریک کرنے کے لیے انتہائی سستے نرخ 10 روپے میں کھانے کی فراہمی شروع کر دی ہے۔

حق فرید ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے گورنمنٹ بھٹائی اسپتال چوک پر کھاناسب کے لیے  پروگرام کے تحت  لگائے گئے دستر خوان پرآنے والوں کو دو روٹی اور سالن پر مشتمل کھانا صرف 10 روپے میں فراہم کیا جاتا ہے اور ایسے افراد جو کہ دس روپے ادا کرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں مفت کھانا دیا جاتا ہے، جب کہ غریب خاندانوں کو یہ کھانا پارسل کی صورت میں گھر لے جانے کی بھی سہولت ہے۔ اس دستر خوان کی خاص بات یہ ہے کھانے میں چاہے دال ہو یا آلو یا پھر چھولے تمام اشیاء میں مرغی کا گوشت لازمی طور پر شامل ہوتا ہے۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی صابر حسین قائمخانی نے بھی بابا فرید دستر خوان کا دورہ کیا اور انتظامات اور کھانے کے معیار کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی نا اہلی کی وجہ سے وہ کام بھی اب عوام نے سنبھال لیے ہیں جو کہ حکومت کو کرنا تھے، حق فرید ویلفیئر سوسائٹی جس طریقے خلق خدا تک کھانا پہنچا رہی ہے، وہ ہم سب کے لیے لائق تحسین اور تقلید ہے اور وہ تمام مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہیں وہ اس کارخیر میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں، تاکہ اس سلسلے کو مزید دراز کیا جاسکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی سطح پر اربوں روپے ریلیف کے نام پر چند لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں، اسے روکا جائے اور ریلیف کا کام حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کیا جائے۔ سوسائٹی کے منتظمین صابر حسین نظامی، محمد احسان ماموں اور محمد بابر نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہماری تنظیم نہ تو حکومتی چندہ لیتی ہے اور نہ ہی اسے کسی این جی او کی مدد حاصل ہے، ہماری آرگنائزنگ کمیٹی ہے جو کہ اپنے طور پر پورے سال آپس میں اس سلسلے میں مالی حصہ ڈالتے ہیں اور ماہ رمضان میں جمع ہونے والی رقم سے ہم یہ کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہے تو اس سلسلے کو سارا سال جاری رکھ سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔