میٹرو بس منصوبے پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے، پی ٹی آئی نے تسلیم کرلیا

ویب ڈیسک  جمعـء 11 جنوری 2019
سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غیر ملکی دوروں کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، رپورٹ۔ فوٹو : فائل

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غیر ملکی دوروں کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، رپورٹ۔ فوٹو : فائل

 لاہور: میٹرو بس منصوبے کی لاگت سے متعلق پی ٹی آئی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا اور تحریک انصاف کی اپنی حکومت نے ہی تسلیم کرلیا کہ منصوبے پر تقریبا 30 ارب روپے خرچ ہوئے۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں تحریک انصاف کی اپنی حکومت نے ہی تسلیم کرلیا کہ لاہور میٹرو بس منصوبہ پر 29 ارب 42 کروڑ 42 لاکھ روپے خرچ ہوئے، اس سے پہلے تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ میٹرو منصوبے پر 70 ارب روپے لگے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور میٹرو بس سروس کا آغاز 10فروری 2013 میں ہوا، لاہور میٹرو بس پراجیکٹ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی ہدایت کے تحت 27 فروری 2012 میں شروع کیا گیا، میٹرو بس کے تعمیراتی کام کی زمہ داری ٹیپا ایل ڈی اے کے سپرد تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میٹرو بس کا منصوبہ پیپرا رولز کے تحت دیا گیا، لاہور میٹرو بس پراجیکٹ پر اس وقت 64 بسیں چلائی جارہی ہیں اور بسوں کی پروکیورمنٹ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بزریعہ 2009 پیپرا رولز کے مطابق کی جب کہ میٹرو بس منصوبے کو چلانے کی مد میں 2018 اور 2017 میں حکومت پنجاب نے 26۔2 ارب روپے سبسڈی ادا کی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات کی رپورٹ بھی پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ نے جون 2013 سے مئی 2018 تک 40 غیر ملکی دورے کیے اور دوروں کے تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کیے، وزیراعلیٰ کے ہمراہ جانے والے سرکاری افسران کے اخراجات حکومت نے ادا کیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔