2019 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے قیدی کا تبادلہ

آصف محمود  جمعـء 11 جنوری 2019
بھارتی شہری کو 2015 میں لاہورسے گرفتارکیاگیا،سیکورٹی ذرائع، فوٹو: ایکسپریس

بھارتی شہری کو 2015 میں لاہورسے گرفتارکیاگیا،سیکورٹی ذرائع، فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: پاکستان اوربھارت کے شہریوں کا ایک دوسرے کے ممالک میں شادی اورغیر قانونی قیام کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا ۔

پاکستان نے جمعہ کے روزایک 53 سالہ بھارتی شہری کو رہا کیا ہے جس نے 2001 برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی خاتون سے ٹیلی فون پر نکاح کیا اور 2001 میں اس سے ملنے کراچی آگیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے بھارتی شہری افضل احمد کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا، افضل احمد کے مطابق وہ دہلی کا رہائشی ہے اور وہاں جوتوں کی ایک بڑی دکان میں کام کرتا تھا ، اس کی برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی خاتون مسرت قریشی سے  سوشل میڈیا پردوستی ہوئی جس کے بعد دونوں کا ٹیلی فون پر نکاح ہوگیا۔

وہ 8 ستمبر2001 کو دوستی بس کے ذریعے سے دہلی سے لاہور آیا اور یہاں سے کراچی چلا گیا جہاں مسرت قریشی کی فیملی مقیم تھی، افضل کے مطابق مسرت قریشی نے برطانیہ میں بھی ایک شادی کررکھی تھی ، اسے ایک ماہ کا ویزہ ملا تھا ،مگرویزہ ختم ہونے کے بعد وہ واپس بھارت جانے کی بجائے کراچی میں ہی مقیم ہوگیا۔

افضل نے بتایا کہ وہ 2014 تک کراچی میں مقیم رہا ، ا س دوران اس کی بیوی صرف چار، پانچ ماہ  ہی اس کے پاس رہی اور پھرواپس برطانیہ چلی گئی ، 2015 میں اس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ اب واپس نہیں آئے گی جس کے بعد مایوس ہوکرلاہور آگیا جہاں سے اسے گرفتار کرلیا گیا۔

افضل کے مطابق اسے 4 ماہ کی سزاہوئی تھی جو 2 جولائی 2016 میں مکمل ہوگئی مگربھارت کی طرف سے اس کی شہریت کی  بروقت تصدیق نہ ہونے کے باعث ا سکی رہائی میں تاخیرہوئی ہے اوراسے اب 11 جنوری کو رہا کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی قید سے 10 سال بعد رہائی پانے والا عمران وارثی 

گزشتہ ماہ  26 دسمبرکو بھارت نے بھی کراچی کے رہائشی ایک پاکستانی شہری عمران وارثی کو رہا کیا تھا جو ایک بھارتی خاتون سے شادی کے بعد وہیں مقیم ہوگیا اورپھراسے گرفتارکرلیاگیا تھا،عمران وارثی کو دس سال بعد رہائی نصیب ہوئی تھی ، اس کے بیوی بچے اب بھی بھارت میں ہی مقیم ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔