قبائلی اضلاع میں اختیارات،گورنر اوروزیراعلیٰ کے درمیان کوئی جنگ نہیں، ترجمان کے پی حکومت

شاہد حمید  جمعـء 11 جنوری 2019
فاٹا سیکرٹریٹ ختم ہوچکی جسے بھرتیوں کا اختیار نہیں،ترجمان ، فوٹو: سوشل میڈیا

فاٹا سیکرٹریٹ ختم ہوچکی جسے بھرتیوں کا اختیار نہیں،ترجمان ، فوٹو: سوشل میڈیا

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اختیارات کے حوالے سے گورنر اوروزیراعلیٰ کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اجمل خان نے کہا کہ عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے غلام خان چیک پوسٹ کا دورہ کیاجب کہ وزیراعلی محمود خان نے طورخم سمیت کئی قبائلی اضلاع کے دورے کیے اور اب صوبائی وزراءسے بھی چھ ماہ کا شیڈول مانگ لیاگیاہے تاکہ ہفتے میں پانچ دن کوئی نہ کوئی وزیر کسی نہ کسی قبائلی ضلع میں رہا کرے ۔

ترجمان  نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں قبائلی اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو ایک ماہ کے اندر فعال کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے لیے ڈاکٹروں کی کنٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کی جائے گی اور یہی صورت حال تعلیم کے شعبے کے حوالے سے بھی ہوگی ۔

اجمل خان نے مزید کہا کہ  قبائلی نوجوانوں کو ایک ارب روپے کے قرضوں کا اجراءجلد کیاجائے گا جب کہ قوانین کی وہاں توسیع آرڈیننس کے ذریعے کی جائے گی جس کے لیے تیاری جاری ہے کیونکہ اس وقت قبائلی اضلاع میں ایف سی آر کے خاتمے کے بعد قوانین موجود نہیں ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔