پیمرا اور لچر پاکستانی ڈرامہ

وسعت اللہ خان  ہفتہ 12 جنوری 2019

پانچ روز قبل(آٹھ جنوری )پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا )نے ٹی وی چینلز کو متنازعہ اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات فوری طور پر روکنے کی تفصیلی ہدایات جاری کرتے ہوئے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ٹی وی ڈرامے بتدریج اپنا معیار کھوتے جا رہے ہیں اور سماجی و روایتی طرز ِ زندگی کے برعکس مواد نشر کر رہے ہیں۔متنازعہ و غیر اخلاقی معاملات و موضوعات پر ڈراموں کی عکس بندی معمول بن گیا ہے۔مزید برآں نامناسب لباس و حرکات بھی آج کل کے ڈراموں کا خاصہ بن چکی ہیں۔ اس طرح کے ڈرامے ناظرین کے لیے ذہنی اذیت و کوفت کا سبب بن رہے ہیں اور ناظرین کی جانب سے ڈراموں کے مواد اور عکس بندی سے متعلق لاتعداد شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

پریس ریلیزکے مطابق ناظرین کی کثیر تعداد موجودہ دور میں پیش کیے جانے والے ڈراموں میں عورت کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے پر شدید تنقید کر رہی ہے۔علاوہ ازیں بیشتر ڈرامے ساس بہو اور خاندانی لڑائیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے رجحانات کو فروغ دے رہے ہیں جو نوجوانوں میں بے راہ روی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔

حالیہ ڈراموں میں استعمال کی جانے والی زبان، مکالموں اور جملوں پر بھی ناظرین شدید تنقید کر رہے ہیں جو کہ خصوصاً بچوں پر منفی اثرات مرتب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایسے موضوعات کو ڈراموں میں پیش کریں جو حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کریں۔اسلامی ، سماجی اور معاشرتی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ڈراموں کے ذریعے بے راہ روی اور برائیوں کو بے جا طور پر اجاگر کرنے سے گریز کریں۔

حساس موضوعات جیسے طلاق اور حلالہ سے متعلق مواد نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے تاکہ مروجہ اسلامی اصولوں سے متعلق کسی بھی قسم کا ابہام جنم نہ لے سکے۔

پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ ڈراموں کے ذریعے کردار سازی اور معاشرتی استحکام کو فروغ دیں اور موضوعات کے چناؤ اور ڈراموں کی عکس بندی میں حد درجہ احتیاط برتتے ہوئے اسلامی ، سماجی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو مدِ نظر رکھیں۔تمام چینلز ادارہ جاتی کنٹرول کو فعال بنائیں اور ڈراموں کی تشکیل سے پہلے مناسب مشاورت یقینی بنائیں تاکہ ناظرین کو معیاری اور صحت مند تفریح میسر آ سکے جو پیمرا کے ضابطہِ اخلاق دو ہزار پندرہ کے بھی عین مطابق ہو۔ (محمد طاہر ، جنرل منیجر میڈیا و تعلقاتِ عامہ )۔

یہ پریس ریلیز پڑھ کے اندازہ ہوا کہ سنسر بورڈ یا کمیٹی کی وفات ہو چکی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پیمرا ڈرامے کو کتنا سمجھتا ہے اور چینلز پیمرا کو کیا سمجھتے ہیں۔اگر میں بطور چینل مالک یہ تمام سفارشات اپنے ہاں سے نشر ہونے والے ڈراموں پر لاگو کرنا بھی چاہوں تو کیسے کروں؟ میں تو شائد اس پریس ریلیز میں کیے گئے مطالبات کا مطلب سمجھنے میں ہی خرچ ہو جاؤں۔

مثلاً پیمرا کے نزدیک ڈراموں کے معیار کی کسوٹی کیا ہے جس سے اندازہ ہو کہ آج کا ڈرامہ اپنا معیار کھوتا جا رہا ہے ؟ پیمرا کے خیال میں پاکستان کی سماجی و روایتی طرزِ زندگی کیا ہے؟متنازعہ و غیر اخلاقی معاملات و موضوعات کی فہرست میں کیا کیا شامل ہے ؟ کیا ایسی کسی فہرست کا پیمرا سمیت کہیں وجود تھا یا ہے ؟ نامناسب لباس اور حرکات کی کیا متفقہ یا قانونی تعریف ہے ؟

’’ لاتعداد شکایتی ناظرین ’’سے کیا مراد ہے ؟ کتنے ہزار یا لاکھ شکایات کس ڈرامے کے بارے میں کہاں کب موصول ہوئیں ؟ کیا ان لاتعداد شکایات میں سے چند نمونے پیمرا اپنی ویب سائٹ پر ڈال سکتا ہے ؟

اور یہ کون سے ’’ لاتعداد ناظرین ’’ہیں جو مخربِ اخلاق،نامناسب حرکات و لباس ، نوجوانوں کو بے راہروی کی جانب راغب کرنے اور نوعمر بچوں کو خراب کرنے والے اورمذہبی اقدار کا مذاق اڑانے والے تمام ڈرامے کہ جن میں سے ایک کا نام بھی بطور مثال پیمرا کے پریس ریلیز میں نہیں مسلسل دیکھ رہے ہیں، جلتے کڑھتے جا رہے ہیں اور پھر پیمرا کو ’’ لاتعداد شکایات ’’ بھیج رہے ہیں مگر خود ریموٹ کنٹرول کا استعمال کرنے سے معذور ہیں تاکہ ایسے ڈراموں کی ریٹنگ آسمان چھونے کے بجائے زیرو ہو جائے اور چینلز یہ ڈرامے زیرو کمرشل ریٹنگ کے سبب خود ہی بند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

پیمرا پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایسے ڈرامے پیش کیے جائیں جو حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کریں۔ ’’لاتعداد ناظرین’’ نے عورت کو جس انداز میں ڈرامے میں پیش کیا ہے اس پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔شکر ہے کہ یہ ’’لاتعداد ناظرین ’’ ان ڈراموں میں مردانہ کرداروں کے معیار سے مطمئن ہیں۔

پیمرا نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ساس بہو کے جھگڑے، خاندانی لڑائیوں ، طلاق اور حلالہ جیسے حساس موضوعات اٹھانے سے گریز کریں اور بے راہروی اور برائیوں کو بے جا اجاگر کرنے سے گریز کریں۔کاش پیمرا یہ بھی بتا دے کہ حقیقی پاکستانی معاشرہ کیا ہے اور اس میں کون کون سی ایسی بے شمار خوبیاں ہیں جنھیں بہت زیادہ اجاگر کیا جائے اورکون سی ایسی بہت کم برائیاں ہیں جنھیں اجاگر تو کیا جا سکتا ہو مگر بے جا انداز میں نہیں۔اور یہ بے جا اجاگر کرنے سے کیا مراد ہے ؟

اگر مجھے کم سن بچوں کو اغوا کرنے والے کردار دکھانے ہوں تو کیسے دکھاؤں یا بالکل نہ دکھاؤں یا یہ دکھاؤں کہ اغوا کرنے والا اغوا ہونے والے بچوں سے نہایت شفقت سے پیش آ رہا ہے ، انھیں خود بیٹھ کے تعلیم دے رہا ہے اور دین و اخلاقیات کی اہمیت سمجھا رہا ہے اور ان بچوں کو اغوا کرنے کے فعل پر ندامت سے اس کی ہچکیاں بندھ گئی ہیں اور وہ اغوا کیے جانے والے بچے کے والدین سے فون پر تاوان مانگتے ہوئے زار و قطار رو رہا ہے اور جب والدین تاوان کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں تو یہ ظالم خود بچے کو اس کے گھر چھوڑ کر آتا ہے اور والدین کے قدموں میں گر جاتا ہے۔اور پھر ایک پولیس افسر اس اغوا کار کو اٹھا کر گلے لگاتے ہوئے کہتا ہے ’’ پگلے خطا سب سے ہوتی ہے۔ اللہ تیری ندامت قبول فرمائے۔آیندہ ایسی حرکت مت کرنا اور ایک اچھا پاکستانی شہری بننے کی کوشش کرنا۔جا ڈاکو جا جی لے اپنی زندگی ‘‘۔

پیمرا کے پورے پریس ریلیز میں کہیں یہ جملہ نہیں کہ آپ اپنے ڈراموں میں مثبت کرداروں کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی دکھا سکتے ہیں مگر گلیمرائز کیے بغیر۔ آپ معاشرتی برائیوں کی عکاسی کر سکتے ہیں مگر اس طرح کہ انھیں اپنانے کی خواہش پیدا نہ ہو بلکہ نہ اپنانے کی آگہی ملے۔ساس بہو کا جھگڑا دکھا سکتے ہیں مگر زبان و بیان کو بے لگام کیے بغیر ، آپ کرپٹ کردار دکھا سکتے ہیں مگر کسی ایک مخصوص فرد ، طبقے یا ادارے کو تخلیقی ضرورت کے بجائے جان بوجھ کر ٹارگٹ کیے بغیر۔

اس طرح کی مبہم سرکاری ہدایات سے نہ تو یہ پتہ چلتا ہے کہ کیا نہ دکھایا جائے نہ یہ واضح ہوتا ہے کہ پھر کیا دکھایا جائے۔بطور ناظر میرے پاس بے راہروی دشمن ریموٹ کنٹرول کی طاقت موجود ہے لہذا میں سوائے کارٹون نیٹ ورک ، نیشنل جیوگرافی ، ڈسکوری اور مدنی چینل کچھ نہیں دیکھتا۔جب بے راہرو ہونے کا موڈ ہوتاہے تو انٹرنیٹ استعمال کر لیتا ہوں یا بھارتی ثقافت سے متاثر ہونے کا شوق قابو سے باہر ہونے لگے تو سینما میں یہ دیکھ دیکھ کے دل پر چرکے کھاتا ہوں کہ ہال خالی ہونے کے بجائے بے راہرو ہجوم سے کچھا کھچ بھرا ہے اور صبح چار بجے تک ایک کے بعد ایک شو ہاؤس فل جا رہا ہے۔

ایسے تمام ’’بے شمار و نامعلوم ’’ ناظرین جو یہ سب لچر پن پسند نہیں کرتے اور گھٹیا و مخزبِ اخلاق پاکستانی ٹی وی ڈرامے دیکھ کے پیمرا پر شکایات کی ’’ بوچھاڑ ’’ کر دیتے ہیں۔انھیں ان شکایات کا انعام پیمرا سے منظور شدہ برادر ملک ترکی کے ڈراموں کی صورت ملتا ہے۔ اور کیا چاہیے جینے کے لیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔