خبر کے اِدھر اُدھر ؛ روبوٹ کے پردے میں انسان نکلتا ہے

محمد عثمان جامعی  اتوار 13 جنوری 2019
قومی تعصب اور تفاخر جب احساس کمتری سے ناتا جوڑلیں تو عجیب تماشے ہوتے ہیں

قومی تعصب اور تفاخر جب احساس کمتری سے ناتا جوڑلیں تو عجیب تماشے ہوتے ہیں

قومی تعصب اور تفاخر جب احساس کمتری سے ناتا جوڑلیں تو عجیب تماشے ہوتے ہیں، ایسا ہی ایک تماشا روس میں ہوا۔ روس کے سرکاری ٹیلی ویژن ’’روسیا ٹوئنٹی فور نیوز چینل‘‘ نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں روس کی ترقی کا ڈھول پیٹنے کے لیے اپنی نشریات میں ایک مصنوعی ذہانت کا حامل روبوٹ پیش کیا تھا، مگر ڈھول کا پول کُھل گیا اور پتا چلا کہ روبوٹ کے لبادے میں گوشت پوست کا ایک انسان چُھپا تھا۔

روسی چینل کا دعویٰ تھا کہ یہ روبوٹ گاتا ہے، ناچتا ہے۔ جب اس روبوٹ کی نمائش کی گئی تو اسے دیکھنے والوں خاص طور پر صحافیوں نے محسوس کیا کہ اس کی حرکات وسکنات انسانوں ہیں، بعد میں یہ حقیقت سامنے آگئی کے بورس نامی یہ روبوٹ انسان ہی ہے، جس نے روبوٹ کا کاسٹیوم پہنا ہوا ہے۔ ’’بھاجیسی ئی بورس ‘‘ کی جب رونمائی کی گئی تو انھوں نے اظہارِخیال بھی کیا اور فرمانے لگے،’’میری ریاضی اچھی ہے، لیکن اب میں آرٹ اور موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ گویا یہ روبوٹ صاحب خواہشات بھی رکھتے تھے۔

وہ تو بھانڈا بہت جلدی پھوٹ گیا، ورنہ ’’بورس جی‘‘ کو روس کی روبوٹک ٹیکنالوجی کا شاہ کار بنانے کے لیے جانے اور کیا کچھ کیا جاتا۔ ابھی تو موصوف میں آرٹسٹ اور موسیقار بننے کی خواہش جاتی تھی، اگلے مرحلے میں ’’روسی روبوٹک ٹیکنالوجی‘‘ اتنی ترقی کرجاتی کہ بروس میں سارے انسانی جذبات، احساسات، خیالات، تصورات، لوازمات معہ تمام تر خرافات منتقل کردیے جاتے۔ پھر اپنی کسی نمائش کے موقع پر وہ چھنگلیا اُٹھا کر کہتے،’’بس ابھی کے ابھی آیا۔‘‘ کچھ دنوں بعد موصوف پر کسی خاتون روبوٹ کو ہراساں کرنے کے الزام کی خبر آتی، جس سے ان میں مزید انسانی خواہشات کی بیداری کا پتا چلتا، جس کے بعد وہ کسی محترمہ سے محبت کا اظہار کردیتے، اگر اُن محترمہ کو بیوہ ہونے کی آرزو ہوتی تو یہ کہہ کر منع کردیتیں کہ ’’ارے تم تو مرکے نہ دوگے، پھر میں کس کے لیے چوڑیاں توڑوں گی۔‘‘ یقیناً کوئی نہ کوئی خاتون ان کا مشینی ہاتھ تھام ہی لیتیں، اب روسی ٹیکنالوجی میں نیا انقلاب آتا اور دنیا بھر کے ٹی وی چینل چیخ رہے ہوتے روسی روبوٹ باپ بن گیا۔ خیر ہوئی کہ پہلے سین ہی میں اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔

ہر ایک ملک کی اپنی اپنی کہانی ہے، روس میں روبوٹ کی پوشاک میں آدم زاد چھپا ہوا تھا اور پاکستان میں بہت سے روبوٹ انسان کی کھال پہنے ہوئے ہیں۔ یہ چرم انسانی میں چُھپے روبوٹ سیاسی جماعتوں اور الیکٹرانک میڈیا میں کثرت سے پائے جاتے ہیں، جو وہی کچھ بولتے اور کرتے ہیں جو ان کے پروگرام میں فیڈ کردیا جاتا ہے۔ جانے ان کی کھال کب اُتر ے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔