خبر کے اِدھر اُدھر ؛ میاں بِکتا ہے۔۔۔ بولو خریدو گی!

محمد عثمان جامعی  اتوار 13 جنوری 2019
ایک خاتونا اپنے خاوند کو ’’استعمال شدہ شوہر برائے فروخت‘‘ کی سُرخی کے ساتھ نیلام کرنے لے آئیں

ایک خاتونا اپنے خاوند کو ’’استعمال شدہ شوہر برائے فروخت‘‘ کی سُرخی کے ساتھ نیلام کرنے لے آئیں

صحیح بات ہے بھئی ’’ہر چیز یہاں پر بِکتی ہے، بولو جی تم کیا کیا خریدو گے۔‘‘ خیر چیزیں تو بکتی ہی ہیں، لیکن ایک محترمہ نے شوہر جیسے ناچیز کو بھی بیچنے کے لیے پیش کردیا۔

جرمنی کے شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے گذشتہ دنوں خریدوفروخت کی سائٹ ’’ای بے‘‘ پر اپنے خاوند کو ’’استعمال شدہ شوہر برائے فروخت‘‘ کی سُرخی کے ساتھ نیلام کرنے لے آئیں۔ انھوں نے نیلامی کی شروعات 18یورو سے کی، کیوں یہ اٹھارہ موصوفہ کے لیے خوش قسمتی کا عدد ہے۔Dorte L کے فرضی نام سے اپنے میاں جی کو بیچنے کا اشتہار دینے والی ان خاتون کا کہنا ہے کہ اپنے شوہر کے منفی طرزعمل سے وہ تنگ آچکی ہیں اور اب انھیں یقین آگیا ہے کہ وہ دونوں مزید ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اپنے اشتہار میں یہ شوہرفروش بی بی لکھتی ہیں،’’پیاری خواتین! جو (شوہر خریدنے میں) دل چسپی رکھتی ہیں، میں اپنے شوہر کو دینا پسند کروں گی۔ میں قیمت پر گفت وشنید کے لیے بہ خوشی آمادہ ہوں۔ براہ مہربانی مجھے اپنے سوالات میل کے ذریعے بھیجیے۔‘‘ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے اشتہار پر ردعمل تو آیا، لیکن کوئی سنجیدہ پیشکش موصول نہیں ہوئی۔

آخرکار ان محترمہ نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اس اشتہار کو محض برائے تفریح قرار دے دیا۔

ہمارے خیال میں ان خاتون نے تفریح نہیں کی بلکہ واقعتاً اپنی شوہر کو نیلام کردینا چاہتی تھیں، لیکن ’’مال‘‘ کے دام اچھے نہیں لگے، اس لیے ارادہ منسوخ کردیا۔ اور بھئی مال بکے بھی کیسے جب بیچنے والا خود اُس کی بُرائی کر رہا ہو۔ خاتون کو چاہیے تھا کہ اس متن کا اشتہار دیتیں،’’میرے پاس ایک عدد خوب صورت، خوب سیرت، وفادار، سلیقہ مند، سعادت مند، منہ بند، اچھی ذات کا شوہر موجود ہے، جسے میں فروخت کرنا چاہتی ہوں، حالات کی مجبوری ہے، بیچنا بہت ضروری ہے۔ معاشی حالات سے مجبور نہ ہوتی تو اتنی اچھی نسل کا شوہر کبھی نہ بیچتی۔ جس بہن کو بھی ضرورت ہو نیلامی میں شریک ہوکر بولی لگائے، جس کی بھی بولی سب سے زیادہ ہوئی میں اپنے شوہر کو ’بولی بولی چھو‘ کہہ کر اس کے پیچھے بھیج دوں گی۔‘‘

اس اشتہار کے بعد دیکھتیں کیسی شان دار نیلامی ہوتی اور کتنی بھاری بولیاں لگتیں۔

ان خاتون نے تو خیر استعمال شدہ کار کی طرح استعمال شدہ شوہرِ نام دار کا سودا کھرا نہ ہونے پر اپنی اس کوشش کو مذاق قرار دے دیا، لیکن ان کی یہ حرکت بہت سی بیویوں کو ’’پُرانا بیچ کر نیا لینے‘‘ کا آئیڈیا دے گئی۔ اب ہوگا یہ کہ کسی خاتون نے پڑوسن سے اپنے شوہر کی ذرا بُرائی کی تو فوراً مشورہ آئے گا،’’اے بہن۔۔۔۔اُٹھا کر بیچ دو باہر گلی میں۔‘‘

یہ چلن عام ہوگیا تو تقریبات میں خواتین ایک دوسرے سے پوچھ رہی ہوں گی،’’یہ آپ کے شوہر ہیں، کتنے کے لیے؟‘‘ جواب آئے گا،’’جمعہ بازار سے لیا ہے۔ وہ بیس مانگ رہی تھی، میں نے کہا نئی بھی، پندرہ میں دینا ہے تو دو، سولہ میں لے کر آگئی۔‘‘ کہیں دو سہلیاں ملیں گی تو ایک استفسار کرے گے، ’’ارے تمھارے میاں کہاں ہیں؟‘‘ دوسری منہہ بنا کر کہے گی’’ارے قسطوں میں لیے تھے، قسط نہیں جمع کراسکی، آخر شوہر کو واپس جمع کرانا پڑا۔‘‘ اس کاروبار میں ہوگا یہ کہ جس بیوی کا جتنا شریف پتی وہ اُتنی ہی لکھ پتی ہوجائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔