رابطوں کا فقدان پاکستان کرکٹ کی کمزور کڑی قرار

اسپورٹس رپورٹر  ہفتہ 12 جنوری 2019
کسی سیریز کے دوران کپتان کو تبدیل کرنے کی باتیں شروع کرنا درست نہیں
فوٹو: فائل

کسی سیریز کے دوران کپتان کو تبدیل کرنے کی باتیں شروع کرنا درست نہیں فوٹو: فائل

 لاہور:  سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر وسیم باری نے رابطوں کے فقدان کو پاکستان کرکٹ کی کمزور کڑی قرار دے دیا ان کے مطابق کھل کر بات چیت نہ ہوتو سازشوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

پی سی بی ہائی پرفارمنس سینٹرکراچی کے سربراہ نے کہاکہ کسی بھی سیریز کے دوران کپتان کو تبدیل کرنے کی باتیں شروع کرنا درست نہیں، اگر بہتر متبادل نہیں تو ٹیم پر دباؤ بڑھانے والا کام کیوں کیا جائے،کھلاڑیوں کے ٹیسٹ فارمیٹ کیلیے ذہنی طور پر تیار نہ ہونے کی وجہ سے بیٹنگ ناکام ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویو میں کراچی میں پی سی بی ہائی پرفارمنس سینٹر کے سربراہ وسیم باری نے کہا کہ ماضی میں وکٹ کیپر بیٹسمین کو ٹیم میں شامل کیا جاتا تھا۔

اب بیٹسمین وکٹ کیپر کو ترجیح دی جاتی ہے، سرفراز احمد پر قیادت سمیت تہری ذمہ داری ہے لیکن اگر کوئی ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہوتو اس چیلنج پر پورا اترسکتا ہے، مہندرا سنگھ دھونی اس کی ایک مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیسٹ کپتان کو بدلنے کی باتیں بار بار ہوئیں،اگر کوئی تبدیلی کرنا ہے تو بہتری کیلیے ہونی چاہیے، سیریز کے دوران تو اس طرح کی بات بھی درست نہیں،ٹیم پر دباؤ بڑھانے والا کام کیوں جائے۔

اگر کوئی بہتر متبادل ہوتو کپتان تبدیل کیا جا سکتا ہے،دوسری صورت میں باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،اگر کرنا بھی ہے تو پہلے سرفراز احمد یا جو بھی کپتان ہو،اس کے ساتھ بات کی جائے،رابطوں کا فقدان  پاکستان کرکٹ کی کمزور کڑی ہے، کھل کر بات کرنے سے تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، اگر معاملات چھپائے جائیں تو سازشوں کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے، یہاں تک حالات پہنچنے ہی نہیں چاہیں۔

پاکستانی بیٹنگ بار بار فلاپ ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ نوجوان شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں،طویل فارمیٹ کیلیے ذہنی طور پر مضبوط اور تیار نہیں ہوتے،ٹیسٹ کرکٹ میں 5گھنٹے یا زائد بھی بیٹنگ کرنا پڑ جاتی ہے، ہر سیشن میں الگ پلان کرنا اور چیلنج لینا پڑتا ہے،ایک وکٹ پر 100رنز بنانے کے باوجود پوری ٹیم کا 200 سے کم ٹوٹل پر آؤٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کھلاڑی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔وسیم باری نے کہا کہ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سے اچھی کارکردگی کی امید رکھنا چاہیے لیکن فیورٹ قرار دینے یا درجہ بندی سے اضافی دباؤ پڑ جاتا ہے،چیمپئنز ٹرافی سے قبل کوئی گرین شرٹس کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا ، کھلاڑی توقعات کے بوجھ سے آزاد ہوکر کھیلے اورٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔