منی بجٹ، علیمہ جائیداد، نیب مقدمات؛ اپوزیشن کا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان

احمد منصور  ہفتہ 12 جنوری 2019
 قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے فوٹوفائل

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے فوٹوفائل

 اسلام آباد:  قومی اسمبلی کا اجلاس 3ہفتے کے وقفے کے بعد پیر سے شروع ہو گا گزشتہ اجلاسوں کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت کو دباؤ میں رکھنے کی متفقہ حکمت عملی پر عمل پیرا رہیں گی جس کے تحت اپوزیشن نے نہ صرف متوقع منی بجٹ کی سخت مخالفت کا فیصلہ کیا ہے بلکہ دیگر ایشوز پر بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی تیاری ہے۔

دوسری جانب قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے زیر التوا معاملہ پر پیش رفت متوقع ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے جو 2ہفتے جاری رہے گا، اس حوالے سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے جن ایشوز کو ایوان زیریں میں زیر بحث لایا جائے گا ان میں مالی بحران کی وجہ سے ملکی معیشت کو درپیش سنگین خطرات، مہنگائی اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف نیب مقدمات سرفہرست ہیں، اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی امریکا میں پراپرٹی کی میڈیا پر آنے والی تفصیلات کا معاملہ بھی اٹھائے گی۔ اس کیساتھ ساتھ اجلاس میں قومی ایشوز بھی زیر بحث لائے جانے کی توقع ہے جن میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال، فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا منی بجٹ کی جو خبریں ہیں اگر ایسا ہوا تو اپوزیشن اس کی سخت مخالفت کرے گی، اس سال میں یہ تیسرا بجٹ آ رہا ہے، اپوزیشن اس صورتحال پر خاموش نہیں رہے گی۔ خورشید شاہ نے کہا اسپیکر اسد قیصر نے ملاقات میں کہا ہے حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے عوامی مفاد کی قانون سازی ناگزیر ہے، جس پر انھیں یقین دلایا ہے کہ اپوزیشن عوامی مسائل کے حل کیلیے قانون سازی میں تعاون پر تیار ہے۔

جہاں تک آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات کا تعلق ہے ابھی تو میاں صاحب جیل میں ہیں، جب باہر آئیں گے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ خورشید شاہ نے کہا نواز شریف ایک دو ماہ میں باہر آ جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اپوزیشن ان تمام ایشوز کو اٹھائے گی جن کی وجہ سے عوام مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ علاوہ ازیں ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق پی پی رہنما خورشید شاہ نے اسپیکر اسد قیصر سے سپیکر ہاؤس میں ملاقات کی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔