تحریک طالبان سمیت عسکریت پسند گروپوں کیساتھ مذاکرات کے لیے رولنگ گروپ بنانے پر غور

کامران یوسف  پير 15 جولائ 2013
سیاستدانوں اور اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا جائیگا، اے پی سی کے بعد اعلان متوقع، زیرحراست شدت پسندوں کو استعمال کرنیکا بھی منصوبہ  فوٹو: فائل

سیاستدانوں اور اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا جائیگا، اے پی سی کے بعد اعلان متوقع، زیرحراست شدت پسندوں کو استعمال کرنیکا بھی منصوبہ فوٹو: فائل

اسلام آباد: حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کیساتھ مذاکرات کیلیے ورکنگ گروپ بنانے پر غور کر رہی ہے۔

امکان ہے کہ ورکنگ گروپ کا اعلان کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے بعد کیا جائیگا۔ن لیگ پہلے ہی قیام امن کیلئے طالبان اور دیگر گروپوں کیساتھ مذاکرات کا اعلان کرچکی ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ حکومت کو بریفنگز کے دوران طالبان سے مذاکرات میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی تجویز دے چکی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات کیلیے ورکنگ گروپ بنانے سمیت مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے، ورکنگ گروپ سیاستدانوں اور دیگر ایسی شخصیات پر مشتمل ہوگا جو اپنی حیثیت اور اثرورسوخ کو مذاکرات کامیاب بنانے کیلیے استعمال کرسکیں۔

پالیسی کے مطابق نام نہاد جہادی تنظیموں کو چھوڑنے والوںکیلئے طریقہ کار وضع کیا جائیگا۔ زیر حراست اور سابق عسکریت پسندوں کو تحریک طالبان پاکستان تک رسائی کیلیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے ابہام کا شکار ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسی کوششوں کے مثبت نتائج نہیں نکلے۔ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کو زمینی صورتحال اور ممکنہ آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک فوجی افسر نے بتایا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کی مخالفت نہیں کر ے گی مگر اس کیلیے صورتحال کا محتاط تجزیہ ضروری ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سب سے پہلے ایسے شدت پسند گروپوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں مگر بہت سے ایسے گروپ بھی ہیں جو کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے۔ تحریک طالبان پاکستان ایسے گروپوں کیلیے ایک چھتری کی حیثیت تو رکھتی ہے مگر ضروری نہیں کہ تمام شدت پسندگروپ اس کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کریں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کثیرالجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر(ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ حکمت عملی کا بنیادی نکتہ انتہائی سخت رویہ رکھنے والے شدت پسندوں کو الگ کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کیلئے حکومتی کوششوں کے باوجود انتہائی سخت رویہ رکھنے والے شدت پسندوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائیاں کرنا ہونگی۔ محمود شاہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل پاکستان کو قبائلی پٹی میں  ناقابل اصلاح شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ایک حکومتی افسر کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں ناکامی ہوئی تو باقی تمام آپشنز پر غور کیا جائیگا۔ فوجی اتھارٹیز حکومت کی نئی سکیورٹی پالیسی پر عملدرآمد کیلیے تیار ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز کا رابطہ کرنے پر کہنا تھا کہ مشاورت مکمل ہونے کے بعد نئی پالیسی کا اعلان کیا جائیگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔