پاکستان، بھارت کیخلاف ایک مضبوط کیس بنا سکتا ہے

مظہر عباس  پير 15 جولائ 2013
کیا اجمل قصاب اور افضل گورو کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے والی بھارتی سپریم کورٹ، انٹیلی جنسن افسر کے اعترافی بیان کا ازخود نوٹس لے گی۔  فوٹو: فائل

کیا اجمل قصاب اور افضل گورو کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے والی بھارتی سپریم کورٹ، انٹیلی جنسن افسر کے اعترافی بیان کا ازخود نوٹس لے گی۔ فوٹو: فائل

کراچی: بھارت کے ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر کے  ان سنسنی خیز انکشافات کے بعد کہ  ممبئی اور پارلیمنٹ پر حملے بھارتی حکومت نے خود کرائے تھے اور ان کا مقصد انسداد دہشت گردی قوانین کو پارلیمنٹ سے منظور کرانا تھا۔

پاکستان کو اس  معاملے کو سنجیدگی سے لیناچاہیے،لیکن سوال  یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا  کرے گا؟  یاد رہے کہ ان دونوں مواقع پر پاکستان اور بھارت جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے، ایک بھارتی اخبار کے مطابق  ریٹائرڈ انٹیلی جنس آفیسرساتیش رائو نے اپنے ایک عدالتی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ  مذکورہ بالا دونوں حملے بھارتی حکومت نے خود کرائے تھے اور اس کا مقصد سخت انسداد دہشت گردی قوانین کو منظور کرانے کیلیے پارلیمنٹ پر دبائو بڑھانا تھا، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس قیمت پر؟  یہ سنسنی خیز انکشاف ایسے وقت پر آیا ہے جب وزیر اعظم نواز شریف بھارت کیساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، تاہم بھارت مذاکرات کی بحالی کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ  محمد سعید کی حوالگی سے مشروط کر رہا ہے ، اب پاکستان ، ساتیش کے بیان کی مشترکہ تفتیش کا مطالبہ کر سکتا ہے ، یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا جانا چاہیے، بدقسمتی سے بین الاقوامی محاذ پر ہم اب تک  بہت  کمزور رہے ہیں، اس سے پہلے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا جاتا رہا۔

بعد ازاں ایک بھارتی ریٹائرڈ فوجی افسر نے بیان دیا کہ پاکستان اس کیس میں ملوث نہیں ہے اور یہ بھی بھارتی انٹیلی جنس کا کام تھا، پاکستانی دفتر خارجہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کا  ردعمل  آج آنے کی توقع ہے، مذکورہ سانحات نے نہ صرف پاکستان، بھارت تعلقات کو ہلاکر رکھ دیا بلکہ بھارت کے عام شہریوں میں بھی پاکستان اور پاکستانیوںکے بارے میں غلط  تاثر پیدا ہوا، دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات بھی بحال نہیں ہوسکے بلکہ بھارت کا دورہ کرنے والے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا گیا، اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا تصور بھی خراب ہوا، کیا پاکستان اب دنیا سے کہے گا کہ اسے بے گناہ قرار دیا جائے اور مذکورہ واقعات کی غیرجاندارانہ تحقیقات کرائی جائے۔

بھارت کو اگر اپنے افسر کے بیان کو قبول کرنے میں پریشانی ہو سکتی ہے  تاہم اسے  مذاکرات بحال کرنے کیلیے کم از کم اپنی شرائط پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور کرکٹ کے تعلقات بحال کرنے چاہئیں کیونکہ دونوں ممالک کے عوام کرکٹ سے محبت کرتے ہیں، اب کیا  پاکستانی اجمل قصاب اور کشمیری افضل گورو کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے والی بھارتی سپریم کورٹ، انٹیلی جنسن افسر کے اعترافی بیان کا ازخود نوٹس لے گی، بھارت کو اپنی سیاست کا بھی ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، وہ پاکستان پر مذہبی انتہا پسندی کا الزام لگاتا ہے، لیکن اگر اس حوالے سے بھارت کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہاں کے عوام نے  انتہا پسندوں  کو کبھی ووٹ دیے ہیں نہ منتخب کیاہے، بھارتی الیکشن کے برعکس یہاں کبھی بھارت سے نفرت کو انتخابی ایشو نہیں بنایا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔