دوائیں مہنگی، مریض کہاں جائیں؟

ایڈیٹوریل  ہفتہ 12 جنوری 2019
غریب طبقہ جس کے پاس علاج کی بنیادی سہولتیں بھی ناپید ہیں (فوٹو: فائل)

غریب طبقہ جس کے پاس علاج کی بنیادی سہولتیں بھی ناپید ہیں (فوٹو: فائل)

حکومت نے معاشی بریک تھرو کے دلفریب وعدوں اور اقتصادی ریلیف کے دعوؤں کے ساتھ اچانک دوائیں مہنگی کردیں جس کے نتیجہ میں غریب طبقہ جس کے پاس علاج کی بنیادی سہولتیں بھی ناپید ہیں اسے اب مارکیٹ سے مہنگی دوائیں خریدنے کی سکت نہ ہونے کی لاچاری کا سامنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق ادویات بنانے والی کمپنیاں دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے کافی عرصہ سے مطالبہ کر رہی تھیں اور ادویات کی فراہمی بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی جب کہ سپریم کورٹ سے بھی ریلیف لینے کے لیے ان کمپنیوں نے رجوع کر رکھا تھا۔ میڈیا کے مطابق  ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ( ڈریپ ) نے ملک بھر میں مختلف ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے، یہ اضافہ دوا کی پیکنگ پر تحریر کرنا ہوگا۔

جمعہ کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تو کر دیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے مگر ارباب اختیار کو ادراک کرنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ملک مین صحت کے نظام کی زبوں حالی اور اسپتالوں میں علاج و معالجہ کی سہولتوں کے ناپید ہونے پر جس دکھ اور کرب کا اظہار کرتے آرہے ہیں کم از کم اسے وزارت صحت کے حکام ملحوظ رکھتے، حقیقت یہ ہے کہ دوائیں ہمیشہ سے مہنگی ہی بکتی رہی ہیں۔

میڈیکل اسٹورز پر دواؤں کی قیمتیں موسم کی طرح بدلتی رہتی ہیں، جس کی مرضی ہوتی ہے دوا پر اپنے من مانے نرخ کی چٹ چسپاں کی جاتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے طب مشرق اور ہومیوپیتھک دوائیں تک مہنگی ہوئی ہیں، عام آدمی اپنی بیماری کے ہاتھوں شدید ڈپریشن کا شکار رہتا ہے، پھر جعلی دواؤں اور عطائی علاج کا عذاب الگ ہے۔

اکثر ملک کے دورافتادہ یا شہری علاقوں کے مضافاتی یا پسماندہ علاقوں میں مریض دوائیں خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے یا ڈاکٹروں کی دی ہوئی میڈیسن لسٹ کے مطابق دوا نہیں خرید سکتا تو وہ کہاں جائے، سرکاری ہسپتولوں میں دکھی انسانیت کے ساتھ دردناک سلوک جاری ہے، جو غریب صحت کی بھیک مانگتا ہے وہ غربت اور مہنگائی کے گھاؤ سے تلملا کر پوچھتا ہے کہ ’’تم کیسے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت کا شعبہ کرپشن میں کمر تک دھنسا ہوا ہے،ادھر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں9  اور 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ادویات میں یہ اضافہ مختلف وجوہات کی بناء پر ناگزیر تھا ، پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد تک اضافہ کے بعد مارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اسی طرح یوٹیلیٹی (جس میں گیس اور بجلی شامل ہیں) کی قیمتیں بڑھنے سے بھی فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر اضافی بوجھ پڑا ، مزید برآں ایڈیشنل ڈیوٹی میں بھی اضافہ ہوا ، ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہو سکا ادویات کی قیمتوں کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا لیکن جب مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی عدم دستیابی بڑھنے لگی تو مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا ۔

ہمارے ہیلتھ رپورٹر کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دواؤں کی قیمتوں میں15فیصد تک اضافے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد مارکیٹ  میں دواؤں میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ مٹیریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں خون کے کینسر، تھیلیسیمیا اور دماغی امراض میں استعمال ہونے والی دواؤں کی قلت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان امراض میں مبتلا مریضوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

ان مریضوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جان بچانے والی دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، کیموتھراپی میں استعمال کی جانے والی دواؤں کا کوئی متبادل بھی دستیاب نہیں جب کہ  بچوں میں حفاظتی ٹیکوں میں استعمال کی جانے والی ٹائیفائیڈ ویکسین، ایم ایم آر(ممز اورروبیلا)، چکن پاکس اورہیپاٹائیٹس اے سمیت کی حفاظتی ویکسین کی بھی قلت ہوگئی ہے۔ پاکستان میں ہر سال 10ہزار مریض خون کے کینسر لمفوما اورلیوکیمیا میں رپورٹ ہوتے ہیں جب کہ اس وقت ملک بھر میں 30 ہزار مریض ان امراض میں مبتلا ہیں ،ڈالر کی قدر میں 40فیصد اضافے کے بعد مارکیٹ میں دماغی امراض  مرگی Epilipsy   کے مرض میں استعمال کی جانے والی Tegral  مکمل طور پر ناپید ہیں۔

ڈریپ ہوسکتا ہے صورتحال کے درست سمت میں ہو مگر پاکستان میں صحت کے شعبے میں حکومت کو اپنے ان پانچ ماہ میں علاج معالجے میں ریلیف کا پہلا پتھر پھینک دینا چاہیے تھا، کجا  ناداراور خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے دوائیں مزید مہنگی ہوگئیں۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت سستی دواؤں کے امکانات کا در کھلا رکھے۔ صحت کے شعبے میں زبردست ریلیف کی ضرورت ہے۔ لاعلاجی ملک کے غریب طبقات کے لیے ایک درد انگیز سی حقیقت ہے جس پر نظرثانی ناگزیر ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔