درندوں کی دنیا…

شیریں حیدر  ہفتہ 12 جنوری 2019
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’ میری جان، میری گڑیا، میرے جگر کے ٹکڑے… یہ دنیا بہت مشکل امتحان گاہ ہے!! ‘‘ اس نے ننھی سی بچی کو اپنے ساتھ لپٹا کر سسک کر کہا۔’’ وہ کیا ہوتا ہے مما؟ ‘‘ پانچ برس کی معصوم سی بچی، جس کے لیے زندگی فقط تتلیوں کے رنگوں اور پھولوں کی خوشبوؤں کا نام تھا۔

’’بیٹا… گھر سے باہر، قدم قدم پر بڑے بڑے عفریت ہیں، درندے ہیں، وہ آپ جیسی پیاری گڑیوں کو نوچ کھسوٹ دیتے ہیں!!‘‘ آسان الفاظ میں اسے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔’’ جیسے فلموں میں مانسٹرز Monsters ہوتے ہیں مما؟ ‘‘ اس نے اپنے معصوم ذہن سے سوچا۔’’ نہیں جان… فلموں میں تو سب کچھ یوں ہی بنایا ہوتا ہے… یہ والے مانسٹرز تو ایسے ہوتے ہیں… ‘‘ الفاظ ناپید ہو گئے۔

’’ صرف آپ کے پاپا کے علاوہ، اس طرح کے سب لوگ مانسٹرز ہیں، وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر پاپا کے علاوہ کوئی بھی آپ کو اٹھانا چاہے، اپنی گود میں بیٹھنے کو کہے، آپ کے گال پر بوسہ دے، آپ کو عجیب طرح سے چھوئے، کہیں ساتھ چلنے کو کہے، کوئی چیز کھانے کو دے، کوئی ایسی حرکت کرے جو آپ کو اچھی نہ لگے، کچھ ایسا کرے اور آپ سے کہے کہ یہ ہمارا راز ہے کسی اور کو نہیں بتانا، آپ کو اپنا لباس اتارنے کو کہے یا آپ کے جسم کے کسی ایسے حصے کو چھوئے جسے صرف آپ یا مما دیکھ سکتے ہوں تو آپ نے اس وقت خاموش نہیں رہنا… ایسی بات کو راز میں نہیں رکھنا، فوراً مما یا پاپا کو بتانا ہے۔

اگر مما اور پاپا نزدیک نہ ہوں تو بھی شور مچا دینا ہے، آپ کے شور مچانے پر اللہ تعالی کسی کو آپ کی مدد کے لیے بھیجیں گے!!‘‘ مناسب اور آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ۔

’’ اللہ میاں فرشتوں کو بھیجیں گے ؟ ‘‘ بچی کو ایسا کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا تھا اس لیے اس نے ماں کے الفاظ میں سے صرف آخری حصے پر دھیان دیا تھا کہ جب وہ چیخے گی، شور مچائے گی تو اللہ تعالی کسی کو اس کی مدد کے لیے بھیج دیں گے۔

’’ ہاں بیٹا… ‘‘ ماں نے اس کی بات کی تائید کی۔ جو قسمت سے ایسی بچیوں کی مدد کو پہنچ جائے جب کوئی اسے پامال کرنا چاہتا ہو تو اسے فرشتہ ہی تو کہتے ہیں ۔

’’ لیکن مما، اگر کوئی مانسٹر مجھے بے ہوش کر لے یا مجھے اٹھا کر کہیں لے جائے جہاں کوئی بھی نہ ہو تو؟؟ ‘‘ تشویش سے پوچھا گیا۔

’’ آپ نے کبھی کسی کے ساتھ نہیں جانا بیٹا… کبھی ایسا موقع نہیں آنے دینا جب آپ مما یا پاپا کا ہاتھ چھوڑ کر کسی اور کا ہاتھ پکڑ کر چل دیں۔ چاہے کوئی آپ کو کیسا بھی لالچ دے!! ‘‘

’’ آئس کریم بھی نہیں؟ ‘‘ آنکھیں پٹپٹا کر سوال کیا گیا۔’’کچھ بھی نہیں ، آئس کریم بھی نہیں ، چاکلیٹ اور پیسے بھی نہیں، چاہے جو بھی کچھ ہو جائے۔ مما جو آپ کو سمجھا رہی ہیں اسے ذہن میں بٹھا لیں بیٹا! ‘‘ زور دے کر کہا گیا، ’’ پاپا کے علاوہ کوئی آپ کا اپنا نہیں ہو سکتا، کوئی کہے کہ مجھ سے دوستی کر لو تو قطعی اس سے دوستی نہیں کرنی۔

اپنے پاپا اور مما کے علاوہ اور کوئی دوست نہیں ہوتا۔ اسکول کی کسی دوست کے پاپا بھی کہیں کہ ان کے ساتھ چلو تو آپ نے نہیں جانا، اسکول کا چوکیدار، مالی، سویپر، کوئی ریڑھی والا… غرض کوئی بھی آدمی جو چھوٹے بچوں کے ساتھ کچھ غلط کرنا چاہتا ہو ،مانسٹر ہوتا ہے اور وہ چھوٹے بچوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے، ان کو گندا کر دیتا ہے اور پھر انھیں جان سے مار بھی دیتا ہے!! ‘‘

’’ وہ آدمی ایسے مانسٹر کیوں بن جاتا ہے مما؟ ‘‘ معصوم ذہن کو سمجھ میں ہی نہ آرہا تھا، ’’ چھوٹے چھوٹے بچے تو سب کو اچھے لگتے ہیں، ان سے ہر کوئی کھیلنا چاہتا ہے، دوستی کرنا چاہتا ہے، گود میں اٹھانا چاہتا ہے… ان کے پیارے پیارے گال سب کو اچھے لگتے ہیں!‘‘ لہجے میں افسوس بھی تھا۔

’’ ایسا ہی ہے بیٹا، ہر کوئی مانسٹر نہیں ہوتا… کچھ لوگ مانسٹر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ پیارے پیارے بچوں کو دیکھ کر مانسٹر بن جاتے ہیں!! ‘‘

’’ لیکن یہ کیسے پتا چلے گا مما کہ کون مانسٹر ہے اور کون بن سکتا ہے؟ ‘‘

’’ کہا ہے نا کہ پاپا کے علاوہ کوئی بھی مانسٹر ہو سکتا ہے، کوئی بھی بن سکتا ہے…‘‘

’’ تو پھر ان سے بچنے کے لیے بچوں کو اپنے گھر سے باہر ہی نہیں جانا چاہیے؟ ‘‘

’’ بچوں کو اپنے مما اور پاپا کے ساتھ باہر جانا چاہیے بیٹا! ‘‘

’’ مگر ہم اسکول بھی تو جاتے ہیں، اسکول میں تو مما پاپا ساتھ نہیں ہوتے… اسکول جاتے ہوئے ٹیکسی میں نہ اسکول میں، شام کو اپنی دوستوں کے ساتھ باہر کھیلنا ہوتا ہے تو اس وقت پاپا دفتر ہوتے ہیں اور آپ گھر پر، اس وقت بھی تو بچے سب اکیلے اکیلے آتے ہیں نا!! ‘‘

’’ جب آپ شام کو کھیلنے کے لیے جاتی ہیں تو گھر سے میر بھائی ساتھ جاتے ہیں نا… مما بھی کچن کی کھڑکی سے آپ کو مسلسل دیکھ رہی ہوتی ہیں!! ‘‘

’’ اوکے مما!! ‘‘ اس نے سمجھ کر کہا، ’’ میں اپنی دوستوں کو بھی بتاؤں گی کہ کوئی بچہ اکیلا نہ باہر نکلے اور نہ ہی کسی اجنبی کے ساتھ دوستی کرے… نہ کسی کو اپنے آپ کو ہاتھ لگانے دے، نہ کسی کی گود میں بیٹھے!!‘‘

’’ شاباش… میری پیاری بیٹی !! ‘‘ ماں خوشی سے سرشار ہو گئی کہ اس نے کتنی محنت سے اپنی بیٹی کو اس کی عمر کے حساب سے، اس کے تحفظ کا وہ بنیادی سبق سکھا دیا تھا جو ہم سب کو اپنے بچوں کو سکھانے کی ضرورت ہے۔

بچے معصوم ہوتے ہیں، انھیں آپ سادہ سے الفاظ سے بہت کچھ سمجھا سکتے ہیں۔ ہم بڑے ہیں اور سب کچھ سمجھتے ہیں تو اس شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم بچوں کو ان کے جسمانی تحفظ کے لیے بتائیں گے تو شاید ہم انھیں جنسی تعلیم دے رہے ہوں گے۔ انھیں جنسی تشدد اور کسی درندے کی ہوس کا جسمانی شکار ہونے سے بچانے کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ اپنے باپ، بھائی اور دیگر محرم رشتوں، حتی کہ محرم رشتوں میں سے بھی کسی کو خود سے نزدیک آنے کا موقع نہ دیں کیونکہ یہ ان کے لیے خطر ناک ہو سکتا ہے۔

بچہ اتنا سمجھ سکتا ہے کہ اسے نقصان پہنچنا یا تکلیف ہونا اچھی چیز نہیں ہے۔ اگر بچوں کو ذرا سا خطرہ محسوس ہو تو فوراً اپنے ماں باپ کو بغیر جھجکے، کی گئی پیش رفت کا بتائیں تا کہ کسی کی جرات نہ ہو کہ کسی بچے کو حرمت کی آڑمیں پامال کرے۔

’’آپ سو جاؤ بیٹا… میں نماز پڑھ لوں !! ‘‘ بیٹی کو کمبل اوڑھا کر، ماں نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے آواز دی، ’’ میر علی! ‘‘

’’ جی؟ ‘‘ نوجوان سا لڑکا، جس کی مسیں بھیگ رہی تھیں، سر جھکائے شرافت سے سوالیہ اندازمیں کھڑا ہو گیا۔’’ میں نماز پڑھنے لگی ہوں، صاحب آنے ہی والے ہوں گے… آپ ایک گلاس دودھ گرم  کر کے بے بی کو دے دو اور اس کے بعد اپنے کمرے میں چلے جانا!! ‘‘ بچی کو اتنا سمجھا کر ، بے وقوفی کا مظاہرہ کرتی ہوئی ماں نماز پڑھنے کی شتاب میں یہ نہ دیکھ سکی کہ اس کے حکم پر سر خم کر کے واپس مڑنے والے میر علی کے چہرے پر کتنی بھیانک مسکراہٹ آئی تھی، جسے چھپانے کو وہ فورا پلٹ گیا تھا، اس کے پورے جسم پر نوکیلے کانٹے اگ آئے تھے، منہ سے باقاعدہ رالیں ٹپک رہی تھیں … اس کے اندر کا درندہ جاگ رہا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔