شہر کا ملبہ کون اٹھائے گا؟

نسیم انجم  ہفتہ 12 جنوری 2019
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

سپریم کورٹ سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ ایک حکم اور صادر فرمائے کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ملبہ اٹھانے کی ذمے داری کو متعلقہ ادارے پورا کریں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہدام کا کام تیزی سے جاری ہے اور غیر قانونی جگہوں کو خالی کرالیا گیا ہے، لیکن پتھر، بجری، اینٹیں اور دوسرا کباڑ دکانوں اور راستوں پر پڑا راہ گیروں کو چلنے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن تجاوزات کا ملبہ ، مٹی، پتھر جوں کے توں پڑے ہیں کسی کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ آسانی پیدا کرنے کی بجائے پریشانی بڑھا دی گئی ہے۔

حال ہی میں اچانک آنے والی افتاد نے ایک ایسے شخص کو سربازار نوحہ اور بین کرنے پر مجبورکردیا جو تجاوزات کی زد میں آگیا تھا، اس کی غم ناک کہانی کچھ اس طرح ہے کہ وہ جوان بیٹیوں کا غریب باپ ہے،اس کی ایک دکان تھی جو والد صاحب سے ورثے میں ملی تھی اور وہی دکان معاشی استحکام کا ذریعہ بھی تھی، گھر کا خرچ اور دال دلیہ اس سے ہی چلتا تھا، مہنگائی زوروں پر ہے غریب کا گزارا تو دورکی بات، امیر بھی کچھ کچھ پریشان ہیں ، تو وہ بے چارے دکاندار تجاوزات کے ہاتھوں خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوئے اس کی وجہ موصوف چالیس سال سے اس دکان کے ذریعے کاروبار زندگی کی رعنائیاں اور بھوکے شکم کو ایندھن مہیا کر رہے تھے، آس کے دیے روشن تھے امید کی نئی نئی کلیاں کھل رہی تھیں کہ اسی اثنا میں وہ دکان ملبے میں بدل گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 1962 میں ان کے والد کو یہ دکان ملی تھی۔ خریدی تھی یا تحفتاً ملی تھی اس کا ذکر نہیں ہے ،ذکر ہے تو اس بات کا ہے کہ 1975 سے یہ دکان وہ صاحب چلا رہے تھے جن پر دن دہاڑے قیامت ٹوٹی ہے، قیامت توڑنے والے ان کے اپنے شہر کے میئر وسیم اختر ہیں، انھوں نے وسیم اختر کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر کے ایم سی انتظامیہ ان کے ساتھ تمام دکانداروں کو تین ماہ کا ٹائم دیتی تو وہ خود ثمردار شجر پر کلہاڑی مارنے کا فریضہ انجام دیتے۔ منتظمین نے 21 جنوری کا نوٹس دیا اور نوٹس کی ابھی مدت باقی تھی کہ انھوں نے اسی دوران دکان کو گرا دیا، یہ انتہائی ظلم ہے، اب ہمارا گھر کیسے چلے گا، ہمارا واحد ذریعہ معاش دکان تھی ، یہ حالات دیکھ کر میرا دل پھٹا جا رہا ہے، سمجھ میں نہیں آتا زندگی کیسے گزرے گی۔ دوسرے دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میئر وسیم اختر انکروچمنٹ اور صفائی کی آڑ میں ہزاروں خاندانوں کا رزق چھین رہے ہیں۔

یہ تو ایک انسان کی کہانی تھی جس نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے اور اپنی مجبوریوں اور آنیوالے دنوں کا اظہار کیا ہے کہ اسے اس کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے ایک طرف ٹھیلے، پتھارے والوں کو ہٹایا جاتا ہے تو دوسری طرف پولیس اہلکار پیسے رشوت کے طور پر لے کر انھیں اجازت دے دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ کافی دنوں سے جاری ہے۔بے شک افلاس سو بیماریوں کی ایک بیماری اور ہزاروں برائیوں کی جڑ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بے شمار لوگوں نے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا اور مکانات بنا لیے لیکن کچھ کے ساتھ یہ المیہ ہوا کہ ماضی کی حکومتوں نے اپنے خاص اداروں کے ذریعے ان جگہوں کو فروخت کیا یا پھر ماہانہ کرائے کی مد میں رقم وصول کرتے رہے، کرایہ قلیل تھا اسی لیے ادا کرنیوالوں کو مشکل پیش نہ آسکی۔

حکومت بدلی، حالات بدلے، کچھ نے سکون کا سانس لیا اور کچھ کی سانسیں حلق میں اٹک گئیں، اٹکنی ہی تھیں کہ ان کے سب کام اور مصروفیت دولت کو مختلف طریقوں سے اکٹھا کرنا تھا، یہ بات بھی درویش صفت اور قناعت پسند لوگوں کے لیے عجیب و غریب ہے کہ پیٹ سب کے ساتھ ہے اور غذا بھی اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے یکساں اتاری ہے، جو سبزی، گوشت اور اناج غریب کھاتا ہے وہی امیر بھی کھاتا ہے اس کے لیے کسی خاص زمین پر کوئی خاص بیج نہیں بویا جاتا ۔ تزئین و آرائش اور ملازموں کی بھیڑ سے ہٹ کر اس کے امور زندگی تقریباً یکساں ہوتے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ اس کی ہوس زر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہ تعیشات زندگی کے پیچھے دوڑتا ہوا تھکتا نہیں اور قبرکی تنہائی اور تاریکی کو بھلا بیٹھا ہے جب کہ صابر و شاکر کا سرمایہ حیات ہی قناعت ہے اسے یہ دنیا خس و خاشاک کی مانند نظر آتی ہے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے میں پل پل گزارتا ہے۔

تجاوزات کے نام پر ہونے والے مظالم کی روداد وزیر اعظم پاکستان عمران خان تک پہنچ گئی ہے، اسی حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ غریبوں کو متبادل اور رہائشی جگہیں فراہم کی جائیں گی۔ شکایات کا ازالہ اور غریب شہریوں کی تکالیف کا احساس کرنا صاحب ضمیر ہونے کی علامت ہے اور عمران خان میں ہمدردی وایثار کے جذبات بدرجہ اتم موجود ہیں، جس کا اظہار شوکت خانم اسپتال، نمل یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی اداروں سے لے کر شیلٹر ہوم تک نظر آرہا ہے، آج شیلٹر ہوم میں قیام کرنے والے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ ماضی میں مریضوں کے لواحقین دور دراز سے سفر کر کے کراچی کے سرکاری بڑے اسپتالوں میں پناہ گزینوں کی طرح پارکوں میں وقت گزارتے تھے کھلا آسمان، موسموں کی سنگینی کا مقابلہ کرتے تھے، شیلٹر ہومزکا قیام بے بس لوگوں کے برے وقت میں آنسو پونچھنے کے مترادف ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے یہ اعلان کیا ہے کہ اب 75 سالہ بزرگ پورے پاکستان میں مفت سفر کرسکتے ہیں، ریلوے ان سے ٹکٹ وصول نہیں کرے گا۔ ساتھ میں کراچی میں مقامی سطح پر ٹرام اور ٹرین چلانے کے اقدامات بھی ہو رہے ہیں، ٹریک کی صفائی اور غیر قانونی مکانات کا انہدام پر کام ہو رہا ہے، لیکن پھر وہی بات کہ ریلوے کالونی اور اسی طرح دوسری جگہوں پر بسنے والے مکین عرصہ دراز سے یہاں آباد ہیں، لہٰذا انھیں ان کے آشیانوں سے بے دخل کرنے سے پہلے ان کے لیے گھروں کا انتظام کرنا انسانیت کا تقاضا ہے۔ میئر کراچی کا فرض ہے کہ وہ ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں، مکافات عمل کا سلسلہ سب کے ساتھ چلتا ہے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے وقتی فائدے کو مدنظر رکھنے والوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ جو بھی کام کریں اس میں دیانت داری کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں، بددیانتی اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے ایک نہ ایک دن قانون کے شکنجے میں ضرور پھنستے ہیں اگر متاثرین قبل از وقت ان جگہوں کو چھوڑ دیتے تو بچت ہوسکتی تھی۔

پی ٹی آئی حکومت کو آئے ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں لیکن منتخب ہونیوالے اراکین اپنی ذمے داریوں سے چشم پوشی کر رہے ہیں، جس کی مثال کراچی کے گورنر عمران اسماعیل ہیں وہ ماضی کی حکومتوں کی طرح پروٹوکول اور گاڑیوں کی لمبی قطار کے ساتھ باہر نکلتے ہیں، لیکن کراچی کی صفائی کے لیے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں، ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی سے مشاورت اور کراچی میں کوڑے کچرے کے ڈھیروں اور غلاظت کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں، کراچی سب کا ہے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ جگہ جگہ کھلے نالے موت کو دعوت دے رہے ہیں، آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایک طرف تجاوزات کے ملبے نے شہرکوکھنڈرات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے تو دوسری کچرا کنڈیوں اورگندگی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں نے شہریوں کی زندگی عذاب میں کردی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔