حکومت اسپتال نہیں۔۔۔ شفاخانے بنائے!

عبدالرحمان منگریو  ہفتہ 12 جنوری 2019

دنیا کے مختلف ممالک کی اولین ترجیح اپنے عوام کو مفت و معیاری بنیادی سہولیات بالخصوص صحت کی سہولیات کی فراہمی رہی ہے۔ جس کے لیے مختلف پالیسیاں اور اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔

اس ضمن میں امریکا دنیا میں سب سے زیادہ اپنی مجموعی بجٹ کا 17% صحت کے شعبے پر خرچ کرنیوالا ملک ہے اور سوئیڈن ،سوئٹرز لینڈ، فرانس ، کینیڈا ، آسٹریا تقریباً 11فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جب کہ ایشیا میں مالدیپ سب سے زیادہ صحت پر 13%جی ڈی پی کا حصہ خرچ کرنیوالا ملک ہے ۔

پاکستان صرف جی ڈی پی کا 2 فیصد ہی صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک تو چھوڑیں ہم اپنے ہمسایہ ترقی پذیر ممالک سے بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بہت پیچھے ہیں۔ جب کہ ملک میں موجود صحت کی سہولیات بھی شہری و دیہی بنیادوں پر عدم مساوات کا شکار نظر آتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 78%عوام سرکاری صحت مراکز و اسپتالوں پر اعتماد نہیں رکھتے اور ان اسپتالوں میں موجود مہنگی و جدید ترین مشینری و ایکوپمنٹس عوام کو کوئی فیض نہیں دے پاتے ۔ جس کی بنیادی وجہ سرکارکی انتظامی غفلت ہے۔

ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں میں ملازمت کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں میں بھی بھاری فیسوں پر پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں، جعلی ادویات کی ریل پیل اور بدعنوانی و رشوت ستانی کے گرم بازار کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کے جذبے سے عاری عملہ ملک میں انسانی زندگیوں کے زیاں کا باعث ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 6کروڑ لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر ہی نہیں ہیں ۔

آج بھی تقریباً 80فیصد زچگیاں گھروں میں دایائیں ہی کرواتی ہیں۔ ملک میں 1837مریضوں پر ایک ڈاکٹر، 1503 مریضوں پر اسپتال کا ایک بیڈ اور 46000 مریضوں پر ایک ڈینٹسٹ دستیاب ہے ،جب کہ تقریباً 15000 لوگوں کے لیے ایک پرائمری ہیلتھ کیئر فیسلٹی یونٹ ہے۔ اس وجہ سے ملک میں عوام روز بروز بڑھتی ہوئی فیسوں کی حامل نجی اسپتالوں پر ہی انحصار کرتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ملک کی 70%فیصد آبادی صحت کی احتیاطی خدمات کی سہولیات کا استعمال ہی نہیں کرتی بلکہ وہ مرض بڑھنے کے بعد علاج معالجے کی طرف توجہ دیتی ہے ۔ دنیا میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ غریب وترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے کی ریگولیشن ایک اہم مسئلہ رہا ہے لیکن جن ممالک نے نجی شعبے کی ریگولیشن پر سختی پر عمل کیا ہے وہ ممالک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بننے کی منازل تیزی سے طے کرتے جا رہے ہیں۔

سرکاری اسپتالوں پر عدم اعتماد کی حامل 78% ملک کی اس آبادی میں 70% صوبہ سندھ کی آبادی شامل ہے۔ سندھ میں صحت عامہ کا شعبہ انتہائی سخت دشواریوں اور عدم توجہی کا شکار ہے ۔ صوبہ کے دیہی علاقوں میں غربت اور وسائل کی کمی اورسہولیات تک آسان رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ہلاکت کی 81%شرح تو ملک کی مجموعی 78%شرح سے بھی زیادہ ہوچکی ہے ۔

ملک بھراور صوبہ سندھ میں صحت کی صورتحال اس قدر بھیانک ہے کہ جس جناح اسپتال کراچی میں لوگوں کو بیڈ نہیں ملتا ، مریض اسٹریچر اور راہ داری میں پڑے دکھائی دیتے ہیں ، جہاں الٹرا ساؤنڈ کے لیے 15، 15دنوں کی تاریخ دی جاتی ہے ، اُس جناح اسپتال کو بہترین اسپتال سمجھا جارہا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں “Contracting out Management” جیسا کامیاب فارمولہ بھی یہاں کارگر ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔ اس فارمولے کے تحت اسپتال پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت سماجی تنظیموں کے حوالے کی جاتی ہیں۔

اس فارمولے کے تحت نتائج کے حامل اقدامات پر فوکس کیا جاتا ہے ، انتظامات میں سیاسی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جاتا اور حکومت خدمات کی فراہمی کے بجائے نگرانی اور رہنمائی کے فرائض پر فوکس رکھتی ہے ۔

اس کے تحت ہی سندھ میں مختلف اسپتال ایک نجی سماجی تنظیم مرف کو دی گئیں ۔ لیکن صورتحال میں بہتری کے بجائے مزید ابتری یوں نظر آتی ہے کہ پہلے عملہ و سہولیات کی کمی کی مقامی سطح پر شکایات کا کم از کم کچھ نہ کچھ تدارک تو ہوتا تھا، لیکن اب تو مقامی انتظامیہ ، سماجی تنظیم کی انتظامیہ اور صوبائی انتظامیہ کے سہ فریقی نظام سے عوام کی شکایات ہوا میں ہی ہوا ہوجاتی ہیں ۔ جب کہ اس پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار سے انڈیا ، ساؤتھ آفریقہ اور سینیگال جیسے ممالک اپنے اپنے ملک میں صحت عامہ کی صورتحال کو مستحکم کرچکے ہیں۔

سندھ میں اس فارمولے کو ناکام بنانے میں اُسی روایتی سیاسی مداخلت کا بڑا ہاتھ ہے ، کیونکہ ضلعی نیٹ ورک کی سپردگی حاصل کرنیوالی اس تنظیم کی شارٹ لسٹ میں وہی پسند ناپسند اورسیاسی اثر کارفرما رہنے کی افواہیں زد عام رہی ہیں ۔اور اب بھی حکومت اپنی نگرانی کی ذمے داریاں بھرپور نمونے ادا کرنے میں شش و پنج کا شکار ہے۔ ورنہ تعلقہ اور بنیادی صحت مراکز و دیہی صحت مراکز سطح کی اسپتالوں کے انتظامات میرٹ پر حاصل کرنیوالی سماجی تنظیم PPHIبڑی ہی شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے ۔

دوسری جانب سندھ میں سماجی تنظیموں (NGOs) کا بھی اہم کردار رہا ہے ۔ شعبہ صحت میں اس وقت ایدھی سینٹر، سیلانی ، ہینڈز ، ہوپ ، NRSPاور یو ایس ایڈ جیسی ملکی و بین الاقوامی سماجی تنظیمیں کام کررہی ہیں ۔لیکن جس طرح بنیادی اور ہنگامی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں ایدھی اور چھیپا سر فہرست ہیں، اُسی طرح انڈس اسپتال مفت و معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

یہ ملک کا پہلی پیپر لیس کمپیوٹرائیزڈ اسپتال ہے۔ یہ عمومی بیماریوں کے علاج معالجے کی خدمات کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کے آپریشن سمیت گردوںکی ٹرانسپلانٹیشن اور مصنوعی اعضاء کی پیوندکاری کی مفت سہولیات بھی عوام کوفراہم کررہا ہے۔ اس میں ویڈیو کانفرنس کی سہولت بھی موجود ہے، جس سے دنیا کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیز اور ریسرچ سینٹرز تک براہ راست رسائی و رہنمائی کے مواقع حاصل ہیں۔

ایک طرف یہ کامیاب و بہترین ادارے کے طور پر فعال کردار ادا کر رہا ہے تو دوسری جانب اپنے ذیلی ادارے انڈس اسپتال ریسرچ سینٹر سے طب کے شعبہ میں تحقیق کے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہے ۔ زکوٰۃ اور چندے کے محدود وسائل پر چلنے والا یہ نجی اسپتال جب اس قدر وسیع نیٹ ورک اوریقینی معیارکے ساتھ فعال رہ سکتا ہے توسرکاری طور پر مختص کردہ مناسب بجٹ کے ساتھ حکومتی مشنری کے ماتحت سرکاری اسپتال کیوں صحت عامہ کی جنرل سہولیات بھی فراہم نہیں کرپارہے ؟ اس کی بنیادی وجہ روایتی لاپرواہی اور بدعنوانی پر مشتمل خراب طرز ِ حکمرانی ہی نظر آتی ہے۔

2015ء میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ اینڈ سائنسز جامشورو اور مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں صوبہ سندھ کی جغرافیائی و ڈیموگرافیکل صورتحال کی بناء پر صوبہ کی میڈیکل یونیورسٹیز میں ای ہیلتھ (E-Health) رائج کرنے کا مشورہ دیا گیا جوکہ عالمی ادارہ ٔ صحت(WHO) کی جانب سے صحت کے شعبے میں انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی (ICT) کے استعمال پر مبنی جدید نظام ہے۔

اس سے صحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ہونے والی جدید تحقیق تک رسائی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ماہرین سے مشوروں کی سہولت بھی حاصل ہوجاتی ہے جو کہ خاص طور پر سندھ جیسے ترقی پذیر خطے کے لیے نہایت مؤثر اور کارآمد ثابت ہوگا۔ لیکن آج تک یہ نظام لاگو نہیں ہوسکا ہے۔

دو عشروں سے ’’زمانے کے انداز بدلے گئے ‘‘ سنتے آرہے ہیں لیکن ملک بالخصوص سندھ کے گھڑیال کے کانٹے لگتا ہے وہیں رُکے ہوئے ہیں ۔ یہاں نہ زمانہ بدلتا نظر آرہا ہے اور نہ ہی اُس کے انداز ۔۔! تھر میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی ہلاکت کی خبریں معمول بنی ہوئی ہیں ۔جب کہ تھرپارکر سے کوئلہ نکلنے کے بعد اینگرو کمپنی اور سماجی تنظیموں و حکومتی اور میڈیا کی توجہ اس طرف بڑھنے سے مکمل طور پر نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ اقدامات ہوتے نظر آتے ہیں لیکن خیرپور تا سانگھڑ تک پھیلے تھر کے دوسرے مشرقی حصے اچھڑو تھر ( سفید صحرا) تواب تک کسی کی نظر کرم کا منتظر ہے۔

وہاں تھر پارکر سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے ۔ 23ہزار ایکڑ اراضی پر پھیلے اس حیرت انگیز وادی میں بسنے والے لوگوں کا کوئی پُرسان ِ حال نہیں ۔ اُس کے باوجود 13سال سے قائم موجودہ حکومت ِ سندھ کوئی مؤثر تدارکی اقدامات کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ جب کہ وفاقی حکومت کا رول بھی نظر نہیں آتا ۔سندھ حکومت عوام کی خدمت کا عزم بارہا دہراتی رہتی ہے لیکن عملی طور پر صورتحال اس سے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

اسی طرح کا اظہار سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سابقہ سی ای او نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے بھی کیا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’ سندھ حکومت تھر میں قحط کی صورتحال پر اپنے قول اور فعل میں فرق رکھتی ہے اور مجھ سے تھر میں انسانی زندگیوں سے ہونے والا کھلوار برداشت نہیں ہوتا ‘‘۔

یوں تو 18ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر صحت عامہ کے شعبے میں جدید و بنیادی اصلاحات کے لیے سروے اور سفارشات پر مبنی رپورٹس اور دستاویزات تیار کیں اور اُن کی روشنی میں اقدامات بھی کیے ہیں ۔ اس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے ترمیم شدہ جدید نصاب و دائرہ کار کا اجراء نہایت ہی موزوں قدم تھا ۔ کیونکہ اس کے تحت نمونیا اور ڈائریا (دست کی بیماری) کے علاج معالجے کے جدید ترین رہنما اُصول شامل کیے گئے۔

ویسے تو یہ دونوں مرض قابل ِ علاج ہیں مگرافسوس کی بات ہے کہ ان امراض سے ہمارے یہاںسال 2015 کے دوران لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے لیکن اب بھی اس شعبے میں عملی طور پر بہت ساری اصلاحات کی گنجائش موجود ہے ، جیسے صوبائی بجٹ میں صحت کا حصہ بڑھانا سب سے اہم ضرورت ہے ، جب کہ نگرانی اور انتظامی اُمور میں سختی ایسا کام ہے جو بلا کسی اضافی اخراجات کے فوری طور پر کیا جاسکتا ہے اور اس سے بلاشبہ 100فیصد بہتر نتائج کی اُمید بھی ہے ۔

انڈس اسپتال ، این آئی سی وی ڈی ، ایس آئی یو ٹی اور پی پی ایچ آئی جیسے ادارے سندھ میں انسانی خدمت کی اعلیٰ مثال کے طور پر کام کرنے والے اداروں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ، لیکن اُن کی تعداد کم ہے جب کہ صوبہ میں ضروریات کا تقاضہ ہے کہ کم از کم ہر ضلع کے سول اسپتال میں یہ تمام سہولیات مفت و معیاری طور پر عوام کو میسر ہونی چاہئیں۔

اس کے لیے عالمی ادارہ ٔ صحت سمیت ملکی وصوبائی سطح پر کام کرنے والے انڈس اسپتال اور دیگر خود کو اس Causeکے لیے  وقف کرنے کا جذبہ رکھنے والے افراد کے توسط سے صرف تھوڑی سے سرمایہ کاری ، بہت ساری توجہ اور غیر متزلزل Willکے ساتھ صوبہ بھر میں موجود محکمہ صحت کے وسیع نیٹ ورک میں شامل ان اسپتالوں کوعوام کے لیے ’’شفا خانے‘‘ بنایا جاسکتا ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔