پنجاب پولیس کے سربراہ نے محکمہ کی حالت سنوانے کے لئے کمر کس لی

سید مشرف شاہ  اتوار 13 جنوری 2019
 ماسٹر ٹرینرز کی تربیت مکمل، تاریخ میں پہلی بار لیڈی پولیس آفیسرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب

 ماسٹر ٹرینرز کی تربیت مکمل، تاریخ میں پہلی بار لیڈی پولیس آفیسرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب

 لاہور:  آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد سے اب تک ہنگامی بنیادوں پر جو اقدامات کئے ہیں، ان سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس کی جدید بنیادوں پر تربیت ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب طارق مسعود یسین بھی ایک عرصہ سے پولیس کے تربیتی معیار کو بہتر بنانے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں، انہوں نے پولیس کے تربیتی کورسز کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اہم اصلاحات بھی کی ہیں۔

یوں اس ظاہر ہوتا ہے کہ آئی جی پنجاب کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیم بھی اس حوالے سے انتہائی متحرک نظر آتی ہے۔ اسی طرح پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ ان دنوں ہنگامی بنیادوں پر ٹریننگ کالج میں نت نئے کورسز اور اصلاحات متعارف کراتے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں آئی جی پنجاب نے پولیس ٹریننگ کالج لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تفتیشی افسروں کے ماسٹر ٹرینرز کے پہلے 72ٹرینیز کی تربیت مکمل ہونے پر سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی ایک تقریب میں شرکت کی اور جدید بنیادوں پر طریقہ تفتیش سے متعلق کورس مکمل کرنے والے افسروں کو سرٹیفکیٹس دیئے۔ یاد رہے کہ یہ 72 ٹرینرز پنجاب بھر سے بلائے گئے تھے، جو اپنے اپنے اضلاع میں پنجاب پولیس کو تفتیش کے جدید طریقوں سے آگاہ کرنے کے لئے تربیت دیں گے۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جرائم کی دنیا میں بڑھتی ہوئی جدت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو کاؤنٹر کرنے کے لیے تفتیشی نظام میں بھی جدت لانا ہو گی، اس کے ساتھ ناقص تفتیش اور تفتیشی عمل میں سست روی کو ختم کرنا ہو گا، جو صرف انویسٹی گیشن کے شعبے میں استعداد کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب پولیس میں اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، کیوں کہ اس شعبے کو مضبوط کیے بغیر انصاف کی فراہمی اور مجرموں تک رسائی نا ممکن ہے۔ استعداد کار کو بڑھانے کے لیے پنجاب پولیس کے 10ہزار تفتیشی افسروں کے لئے جدید ترین تربیت کے کورسز شروع کر دئیے گئے ہیں اور اگلے چار مہینوں میں صوبہ بھر کے تفتیشی افسران کی ٹریننگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

تقریب میں ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ طارق مسعود یٰسین، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ، ڈی آئی جی ٹریننگ محمد ادریس اور اے آئی جی ٹریننگ زاہد نواز مروت، ڈی ایس پی خالد سعید خان کے علاوہ دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے توقع ظاہر کی کہ تربیت حاصل کرنے والے ماسٹر ٹرینرز اپنے اضلاع میں تفتیشی افسران کو نہ صرف جدید ترین تقاضوں کے مطابق حاصل کی گئی تربیت منتقل کریں گے بلکہ انہیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق جرائم کے نت نئے طریقے اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے مجرموں سے بہتر انداز میں تفتیش کرنے کی تربیت بھی دیں گے۔ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے مزید کہا کہ پولیس فورس کو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت گزار بنانے کے ساتھ احتساب کے عمل سے بھی گزرنا ہو گا۔ انہوں نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جس تفتیشی افسرکو ضمنی لکھنی نہیں آتی ہو گی وہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈیوٹی نہیں کر سکے گا۔

بعد ازاں آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں بالترتیب 5سے 20ہزار اور ہر ٹرینی کو 5ہزار روپے نقد انعام جبکہ سی ایل آئی پولیس ٹریننگ کالج لاہور ڈی ایس پی خالد سعید خان اورانسپکٹر لیگل اسلم شہزاد کو بھی بہتر کارکردگی پر ایک ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب طارق مسعود یٰسین سے کہا کہ وہ بطور فرسٹ رسپانڈنٹ پنجاب ہائی وے پٹرولنگ کے لیے بھی ٹریننگ کورسز شروع کروائیں تا کہ شہریوں کے سفر کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔

اسی طرح آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی ہدایت پر کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ نے پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی بار لیڈی پولیس آفیسرز کی گریجویشن تقریب آڈیٹوریم پولیس ٹریننگ کالج لاہور میں منعقد کی، جس میں پاس آؤٹ ہونے والی417 لیڈی پولیس آفیسرز کو خصوصی اسناد سے نوازا گیا۔ اس سے قبل ٹریننگ مکمل کرنے والی لیڈی پولیس آفیسرز کو اسنادا ن کے اضلاع میں بھجوائی جاتی تھیں، تاہم کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہورڈی آئی جی مرزا فاران بیگ نے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی ہدایت پر روایت کے برعکس پولیس کالج لاہور کے آڈیٹوریم میں ایک پروقارتقریب سجائی۔

اس تقریب میں گولڈ میڈلسٹ موٹیویشنل سپیکر زہرہ عباس نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرکے تقریب کو چارچاند لگا دئیے جبکہ چئیرمین سٹیٹس آف وومن کمیشن فوزیہ وقار، معروف اسکالر ڈاکٹر معید یوسف ، ڈی پی آر ٹو آئی جی پنجاب نبیلہ غضنفر اور کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ کی بطور گیسٹ آف آنر شرکت نے تقریب کی رونق کو بڑھا دیا۔ تقریب کے دیگر مہمانان گرامی میں عبیقہ خالد، بیرسٹرانزل فاران اور مہرین معید بھی شامل تھیں۔ پاس آؤٹ ہونے والی لیڈی پولیس آفیسرز میں سے 309کا تعلق پنجاب پولیس جبکہ 108پنجاب ہائی وے پٹرول سے ہے۔ لیڈی پولیس آفیسرز کو ایک ماہ کا سپیشل محرر کورس بھی کروایا گیا ہے تاکہ وہ تھانوں میں بطور لیڈی محرر تعینات ہوکر عوام بالخصوص خواتین کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے تھانہ کلچر میں تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کریں۔ ان لیڈی پولیس آفیسرز کو دو ماہ کی سپیشلائزڈ ایلیٹ ٹریننگ بھی کروائی گئی جبکہ فیلڈ کرافٹ ، آپریشن ٹیکٹس ، چھاپہ ، ناکہ بندی ، مارشل آرٹس ، ویپن ہینڈلنگ ، رکاوٹیں عبور کرنے کے علاوہ لااینڈ آرڈر اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں فوری رسپونس کرنے کے حوالے سے بھی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی جس طرح پنجاب پولیس کو ہر سطح پر جدید تربیتی مراحل سے گزارنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ قابلیت اور مہارت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں جرائم کی شرح مزید نیچے جائے گی اور سماج دشمن عناصر کی فوری گرفتاری کا عمل مزید تیز ہو گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔