ایف آر پشاور میں دو نئے تھانوں کے قیام کا فیصلہ، 600 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے

احتشام خان  اتوار 13 جنوری 2019
ایک تھانہ ارمڑ میں شمشتو کیمپ جبکہ دوسرا متنی میں ضلع خیبر اور درہ آدم خیل کی حدود کے قریب تعمیر کیا جائیگا فوٹو:فائل

ایک تھانہ ارمڑ میں شمشتو کیمپ جبکہ دوسرا متنی میں ضلع خیبر اور درہ آدم خیل کی حدود کے قریب تعمیر کیا جائیگا فوٹو:فائل

پشاور: خیبر پختونخوا پولیس نے ایف آر پشاور میں دو نئے پولیس تھانے تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایک تھانہ ارمڑ میں شمشتو کیمپ جبکہ دوسرا متنی میں ضلع خیبر اور درہ آدم خیل کی حدود کے قریب تعمیر کیا جائیگا۔ یہ علاقے ماضی میں دہشت گردوں کے زیر کنٹرول تھے اور ان علاقوں میں  دہشت گردی کی کارروائیاں زیادہ ہوتی تھیں۔ دونوں تھانے پشاور پولیس کے ماتحت کام کریں گے جن کے لیے دو ایس ایچ اوز اور ایک ڈی ایس پی کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی جبکہ 600 سے 700 پولیس اہلکار بھی تعینات کئے جائیں گے جس کے لئے نئی بھرتیاں ہوں گی۔

پولیس حکام کے مطابق دونوں تھانوں کے لئے سروے مکمل کرکے جگہ کا انتخاب بھی کرلیا گیا ہے اور سمری جلد صوبائی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔ دونوں تھانوں کی حدود میں 10 پولیس چیک پوسٹس کی تعمیر کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ابتدائی طور پر ارمڑ میں سرکاری اسکول میں قائم ایف سی چوکی کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کیا جائیگا جس کے لئے ایف سی سے جگہ خالی کروانے کے لئے حکام سے رابطہ بھی کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آر پشاور، کوہاٹ، بنوں، ایف آر ٹانک، ایف آر لکی مروت میں بھی نئے پولیس تھانوں کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔