دنيا بھر ميں موٹاپے كے باعث ہر سال 28 لاكھ افراد موت كے منہ ميں چلے جاتے ہيں ،طبی ماہرين

اے پی پی  پير 15 جولائ 2013
بسيار خوری اور موٹاپے ميں تيزی سے اضافے كی ايک بڑی وجہ فاسٹ فوڈ كا بڑھتا ہوا استعمال ہے،ماہرين فوٹو: فائل

بسيار خوری اور موٹاپے ميں تيزی سے اضافے كی ايک بڑی وجہ فاسٹ فوڈ كا بڑھتا ہوا استعمال ہے،ماہرين فوٹو: فائل

سڈنی: طبی ماہرين کے مطابق دنيا بھر ميں زیادہ کھانے اور موٹاپے كے باعث ہر سال 28 لاكھ افراد موت كے منہ ميں چلے جاتے ہيں ۔

پبلک ہيلتھ ايسوسی ايشن كے زير اہتمام كانفرنس  ميں دنيا بھر سے آئے ماہرين نے بتايا كہ بسيار خوری اور موٹاپے ميں تيزی سے اضافے كی ايک بڑی وجہ فاسٹ فوڈ كا بڑھتا ہوا استعمال ہے، ماہرين كے مطابق دنيا بھر ميں لوگوں كی جانب سے بڑی پيكنگ ميں فاسٹ فوڈ كی خريداری ميں اضافہ ہو رہا ہے جس كے نتيجے ميں نہ صرف لوگ ضرورت سے زيادہ كھانا كھاتے ہيں بلكہ كھانے كا ايک بڑا حصہ ضائع ہو كر ماحول پر منفی اثرات بھی مرتب كرتا ہے جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد كھانا خريدتے وقت غذائيت كے بجائے قيمت كو مد نظر ركھتی ہے اور زيادہ قيمت والی فاسٹ فوڈ مصنوعات کی خريداری كو ترجيح ديتی ہے ۔

ماہرين كے مطابق 2025 تک آسٹريليا كی 80 فيصد بالغ آبادی بسيار خوری اور موٹاپے كا شكار ہوجائے گی جبكہ صرف چين ميں اس وقت بسيار خوری اور موٹاپے كا شكار افراد کی تعداد 20كروڑ تک پہنچ چکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔