ذہنی مریضوں کے بارے میں ہمارا رویہ

مہ ناز رحمن  اتوار 13 جنوری 2019

میں اکثرسوچتی ہوں کہ جب ہمیں کوئی بتاتا ہے کہ اسے ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر ہے تو ہمارا اس کے بارے میں رویہ بہت ہمدردانہ ہوتا ہے اور ہم اسے کئی دوائیوں اور ٹوٹکوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں، لیکن جب ہمیں کسی کی ذہنی بیماری کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو ہمارا رویہ بہت سنگ دلانہ ہوتا ہے اور ہم اسے فوری طور پر ’’ پاگل‘‘ قرار دے دیتے ہیں حالانکہ جسمانی بیماریوں کی طرح ذہنی بیماریوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔

ان میں قابل علاج بیماریاں بھی ہیں اور ایسی بیماریاں بھی شامل ہیں جو ناقابل علاج ہیں لیکن ادویات کے مسلسل استعمال سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ ہم اپنی بول چال میں ’’ ڈیپریشن‘‘ کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگ اسے ایک افسانوی کیفیت سمجھتے ہیں، لیکن یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جب زندگی بے وقعت لگنے لگے یا یہ احساس ستانے لگے کہ آپ ایسے دنیاوی جھمیلوں میں پھنس گئے ہیں جو آپ کی سمجھ سے باہر ہیں اور آپ اس صورتحال سے نمٹ نہیں سکتے یا زندگی میں کسی کمی کا احساس ستاتا ہو یا ہر وقت آپ کسی خوف یا تشویش میں مبتلا رہتے ہوں تو سمجھ جائیں کہ آپ ڈیپریشن میں مبتلا ہیں اور آپ کو ماہر نفسیات کی مددکی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں ڈاکٹر سید ہارون احمد اور ان کی تنظیم پاکستان مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن نے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن غربت اور خواندگی کی شرح انتہائی کم ہونے کے باعث نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں لوگوں کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کسی لڑکی کو ہسٹیریا کے دورے پڑتے ہوں تو کہا جاتا ہے کہ اس پر جن آ گیا ہے، اسے مزاروں پر لے جاتے ہیں یا کسی جعلی عامل یا پیرکے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ غربت کے باعث لوگ ڈاکٹروں کی فیس دینے اور مہنگی ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اتائی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں۔ یعنی بیماری چاہے نفسیاتی ہو یا جسمانی اس کا صحیح علاج نہیں ہوتا۔ جسمانی بیماریاں، ناقص غذا، دماغی کیمسٹری میں عدم توازن،کچھ ادویات اور ذہنی دباؤ بھی ڈیپریشن کا باعث بنتا ہے۔

دنیا میں ہر چار میں سے ایک فرد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی ذہنی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن امکان یہی ہے کہ اکثریت اس کے بارے کبھی بات نہیں کرتی کیونکہ جو بات کرتے ہیں انھیں منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے بیماری نہ ہو بلکہ ان کی شخصیت میں کوئی عیب پیدا ہو گیا ہو اور وہ اس عیب کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ کھل کے اپنی بیماری کے بارے میں بات کریں۔ جب اکثریت ایسا کرے گی تو لوگوں کا رویہ خود ہی تبدیل ہو جائے گا۔ ہمیں ذہنی بیماری کے بارے میں پائے جانے والے عام تاثرکو تبدیل کرنا ہو گا، اگر آپ کے جاننے والوں میں سے کوئی بھی ذہنی بیماری کے بارے میں غلط بات کرے تو فوری طور پر اسے ٹوک دیں۔ ذہنی بیماری پاگل پن نہیں ہے۔ ایسے مریضوں کو پاگل مت کہیں۔

اگر کوئی اپنی ذہنی بیماری کے بارے میں آپ کو بتائے تو اس سے ہلکے پھلکے اور مثبت انداز میں بات کریں۔ ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ اگر ہم اندر سے اچھا محسوس نہیں کر رہے تو اس کے بارے میں بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔نوجوانوں کی ذہنی بیماری کو اور بھی غیر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اسے ان کی جسمانی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ پچیس سال سے کم عمرکے ہر دس نوجوانوں میں سے ایک ذہنی بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ ذہنی بیماری کو عیب یا کلنک کا ٹیکہ مختلف طرح سے سمجھا جاتا ہے۔ ایک تو سماجی طور پرجو متعصبانہ اور امتیازی رویوں کا نتیجہ ہے۔دوسرے انفرادی یا ذاتی طور پر بھی ہم اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ کوئی عیب یا کلنک ہے۔2000ء میں انگلینڈ میں ایک سروے کیا گیا تو سترہ سو افراد نے ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو خطرناک قرار دیا۔کچھ بیماریوں کے بارے میں کہا گیا کہ لوگ خود ان کیفیات کو اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔1999ء میں امریکا کے سرجن جنرل نے ذہنی بیماری کو عیب یا کلنک کا ٹیکہ سمجھنے کوذہنی صحت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت اور عالمی اقتصادی فورم کے مطابق ذہنی امراض دنیا میں صحت کے معاملات پر سب سے بڑا اقتصادی بوجھ ہیں کیونکہ ان امراض کے نتیجے میں لوگ معذوری اور بیروزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ستم بالائے ستم ان مریضوں کی اکثریت کو دیکھ بھال یا علاج کی سہولت نصیب نہیں ہوتی۔ لوگوں کا رویہ بھی ان کی طرف منفی ہوتا ہے۔ ان سے سماجی طور پر فاصلہ رکھا جاتا ہے، انھیں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔عام لوگوں کی بات چھوڑئیے، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اسی قسم کی بات کرتے ہیں۔ ان سماجی فاصلوں کے نتیجے میں ذہنی مریض تنہا ہوتا چلا جاتا ہے اور خود بھی اپنے آپ کوکمتر اور حقیر سمجھنے لگتا ہے۔اپنے علاج پر توجہ نہیں دیتا اور یوں اس کی صحتیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

لیکن ایسے مریضوں کو لوگوں کی باتوں کی پروا کیے بغیر اپنے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔ اپنی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور مشاورت کریں۔ بعض مرتبہ مریض اپنی حالت کا ذمے دار خود اپنے آپ کو ٹہرانے لگتا ہے کہ شاید اسی میں کوئی شخصی خامی ہے یا یہ کہ وہ بغیرکسی کی مدد کے اپنی بیماری کوکنٹرول کرسکتا ہے۔اس رویے سے نجات حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنی بیماری کے بارے میں دوسروں کو بتاتے ہوئے جھجک محسوس کریں لیکن یاد رہے کہ آپ کے اہل خانہ اور آپ کے احباب آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں سے رابطے میں رہیں جن پر آپ اعتماد کرتے ہیں۔اپنی ذات کو اپنی بیماری کے مترادف قرار نہ دیں۔ یہ مت کہیں کہ ’’میں بائی پولر ہوں‘‘ بلکہ کہیں کہ ’’مجھے بائی پولر ڈس آرڈر ہے۔‘‘ یہ مت کہیں ’’میں شیزو فرینک ہوں، بلکہ کہیں ’’مجھے شیزو فرینیا ہے‘‘ کوشش کریں کہ کسی سپورٹ گروپ میں شامل ہو جائیں ۔

اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے صحت بخش غذائیں استعمال کریں۔ چاکلیٹ کھا کر آپ کا موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے۔لیکن صرف ڈارک چاکلیٹ کھائیں۔ ایک دن میں ایک اعشاریہ چار اونس سے زیادہ ڈارک چاکلیٹ مت کھائیں۔ یوں ایک ہفتے کے اندر آپ کے اسٹریس ہارمونز میں کمی واقع ہوگی، مگر یاد رہے کہ ایک اعشاریہ چار اونس ڈارک چاکلیٹ میں ۲۳۵ حرارے ہوتے ہیں جو آپ کے وزن میں اضافہ کریں گے۔

اسی طرح کاربو ہائڈریٹس یا کارب بھی ضروری ہیں۔ جو لوگ بہت کم چاول یا آٹا کھاتے ہیں، وہ ڈیپریشن، اینگزایٹی اور غصے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے کم چکنائی والی اشیا، اناج، پھل اور پھلیاں کھانا آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ مچھلی بھی مفید غذا ہے، اس کے کھانے سے موڈ بہتر رہتا ہے۔کیفینیٹڈ بلیک، گرین چائے بھی مفید رہے گی لیکن اچھی طرح سونا بھی ضروری ہے اس لیے رات کو چائے نہ پیئیں۔ الکوحل اور منشیات کے استعمال سے اجتناب کریں، روزانہ ورزش کریں۔

اپنی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے کسی نہ کسی سے اپنی کیفیت کے بارے میں بات ضرورکریں۔ہم سب کبھی نہ کبھی افسردگی کا شکار ہوتے ہیں اور خود کو بے وقعت اور بے مایہ محسوس کرتے ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ڈیپریشن ہے۔ ڈیپریشن اس وقت ہوتا ہے جب یہ کیفیات مستقل طور پر ہم پر حاوی ہو جائیں۔

ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ہمیں اپنی ذات سے اس کی ابتدا کرنی چاہیے۔ ذہنی مریضوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کریں ان کے ساتھ منفی یا امتیازی سلوک نہ کریں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔