2019ء خو شخبریوں کا سال...ملک درست سمت پر گامزن ہوجائے گا!!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 14 جنوری 2019
ماہرین علم الاعداد و علم نجوم کی نئے سال کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں پیش گوئیاں

ماہرین علم الاعداد و علم نجوم کی نئے سال کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں پیش گوئیاں

غیب کا علم بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے اور کوئی بھی شخص اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ انسانی علم ، فکر اور سائنس کی بنیاد پر کیے جانے والے تجزیے ، اندازے اور پیش گوئیاں اگرچہ حتمی اور یقینی نہیں ہوتیں لیکن انسانی دلچسپی کے حوالے سے بہرحال اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔

اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارہ ایکسپریس ہر نئے سال کی آمد پر ملک کے معروف ماہرین علم الاعداد اور علم نجوم کو ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں مدعو کرتا ہے جن سے آنے والے سال کے بارے میں عوامی دلچسپی کے سوالات کیے جاتے ہیں۔ اپنی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ’’سال 2019ء ‘‘ کی آمد کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین علم الاعداد اور علم نجوم نے مختلف پیش گوئیاں کیں جو نذرقارئین ہیں۔

سید انتظار حسین زنجانی

علم الاعداد کی روشنی میں سال 2019ء کا جائزہ لیں توعدد 19 خاص روحانی اور طلسماتی سحر انگیزی رکھتا ہے۔ قرآن پاک کی 114 سورتیں ہیں جن میں 1 سورۃ کے علاوہ ہر سورۃ کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا جاتا ، اس کے حروف 19 ہیں۔ پریشانی یا کوئی چیز گم ہونے کی صورت میں یا کسی کی موت پر انا للہ وانا الیہ راجعون کا ورد کیا جاتا ہے، اس آیت کے حروف بھی 19 ہیں لہٰذا میرے نزدیک یہ سال پاکستان کے لیے خوش امیدی والا سال نہیں ہے۔ پاکستان کو71 برس مکمل ہوچکے ہیں اور یہ 72 واں سال چل رہا ہے۔

72کا عدد 9 بنتا ہے جو اعداد کی انتہا ہے۔ اس کا تعلق آسمانی فوجوں کے کمانڈر انچیف ستارہ مریخ سے ہے۔ آزادی سے اب تک پاکستان کے 3 زائچے متحرک ہو چکے ہیں۔ ایک زائچہ 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی کے وقت وجود میںآیا۔ دوسرا 20 دسمبر 1971ء کا زائچہ ہے جوپاکستان کے دولخت ہونے کے بعد بنا۔ دنیا میں جب بھی کوئی جغرافیائی تبدیلی آتی ہے تو زائچے رونما ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فاٹا کو شامل کرنے کے بعد تیسرا زائچہ وجود میں آیا جو ابھی زیر غور ہے۔ 10واں گھر سربراہ مملکت کا ہوتا ہے جبکہ 9 واں گھر عدلیہ کا ہے۔

پاکستان کے زائچے کی خاص بات یہ ہے کہ 9 ویں اور دسویں گھر کا مالک ستارہ مریخ گزشتہ ڈیڑھ برس سے 8 ویں گھر میں موجود ہے جو 23 جنوری 2020ء تک یہاں ہی رہے گا۔ ماضی و حال کے حکمران اور عدلیہ کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف سخت بے چینی رہے گی اور احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ موجودہ حکمران بھی از خود احتساب کی کوشش کریں گے تاکہ لوگوں کو ثابت کر سکیں کہ ہم ماضی کے حکمرانوں سے مختلف ہیں۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے زائچے کے آٹھویں گھر میں کیتو اور زحل کا کیران ہوگا لہٰذا آئندہ برس کے 6 مہینے اپریل، مئی، جون، جولائی، اگست اور اکتوبر انتہائی حساس ہیں۔ 8 واں گھر حادثات اور موت کا ہے۔

اس کا تعلق معدنیات سے بھی ہے لہٰذا ان چھ مہینوں میں پاکستان میں زلزلے آنے کا امکان ہے، قیمتی معدنیات کے نئے ذخائر دریافت ہوں گے اورمعیشت بہتر ہوں گی۔ 2019ء میں دنیا میں 5 گرہن لگیں گے جن کے اثرات پاکستان کے زائچے پر ہوں گے۔پاکستان کے زائچے میں پہلا سورج گرہن 6جنوری کو آٹھویں گھر میں لگا۔ دوسرا گرہن چاند گرہن ہے جو 21 جنوری کو پاکستان کے زائچے کے تیسرے گھر میں لگے گا۔ تیسرے گھر کا تعلق پڑوسی ممالک سے ہے، ہماری ان کے ساتھ شروع سے ہیں محاذ آرائی رہتی ہے، اس دوران بھی سرحدوں پر فوجی نقل و حمل کے امکانات موجود ہیں لہٰذا سرحدوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر کیا جائے۔ تیسرا گرہن زائچے کے دوسرے گھر میں سورج گرہن لگے گا۔ اس گھر کا تعلق معاشیات سے ہے لہٰذا اس دوران ڈالر کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ آئے گا اور لوگوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنے گا۔

چوتھا گرہن (چاند گرہن) 16 جولائی کو زائچے کے آٹھویں گھر میں لگے گا۔ آسمانی کونسل پر جو گرہن لگ رہے ہیں ان میں سے تین گرہن 16 جنوری، 16 جولائی اور 26 دسمبر کوزائچے کے آٹھوئیں گھر میں لگ رہے ہیں۔ سال کا آخری گرہن سورج گرہن ہے جو 26 دسمبر کو لگے گا یہ بہت ہی حساس اور خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ اس وقت عطارد، مشتری، قمر، شمس، کیتو اور زحل بھی آٹھویں گھر میں ہوں گے لہٰذا اتنے ستاروں کا آٹھویں گھر میں آجانا شدید ارضی تبدیلیوں،زلزلے، جانی و مالی نقصانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اُس وقت زائچے کے 9ویں اور 10 ویں گھر کے مالک بھی آٹھویں گھر میں موجود ہوں گے لہٰذا اہم شخصیات، سابق و موجودہ حکمرانوں کی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اسی گرہن میں پارلیمنٹ کا ستارہ مشتری بھی آٹھویں گھر میں ہوگا لہٰذا حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف جاسکتے ہیں اور ملک میں سیاسی صورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے۔ یہ سال آزمائش اور مشکلات کا دریا پار کرنے کا سال ہے۔ اس میں کوئی خوش امیدی نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ سے بہتری کی دعا کی جاسکتی ہے۔ عمران خان نے مدینہ جیسی ریاست کا نعرہ لگایا۔ ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات نہیں تھے مگر وہ روحانی طریقے سے برسر اقتدار آئے ہیں۔ عمران خان اپنی زندگی کے 66 ویں برس میں ہیں۔ 66 اللہ کا عدد ہے لہٰذا اس سال عمران خان کا جھکاؤ عدل و انصاف، احتساب اور اللہ کا ذکر کرنے کی جانب ہوگا۔ مضبوط اپوزیشن کے باوجود عمران خان اپنے مشن پر گامزن رہیں گے۔ عمران خان کے حلف اٹھانے کا زائچہ خراب ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار یوٹرن لیتے ہیں۔

پاکستان گزشتہ 7 دہائیوں سے بغیر دماغ کے چلتا آرہا ہے۔ اب ایک نئی شروعات ہے لہٰذا پاکستان کے جسم کو دماغ کی ضرورت ہے۔ اس سال لوگ یہ سوچیں گے کہ پاکستان کا ایک تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں عدلیہ، فوج، سیاستدان و دیگر شعبوں سے قابل لوگ شامل ہوں گے۔ 2019ء نئے پاکستان کا سال ہے۔ تسمیہ کے اعداد 786 کا عدد 3 بنتا ہے۔ پاکستان کا عدد بھی 3 بنتا ہے جبکہ 2019ء کا عدد بھی 3 ہے۔ 3 نمبر ستارہ مشتری سے ہے جو خوش امیدی اور بہتری کا ستارہ ہے لیکن دیگر ستاروں کی صورتحال اور گرہن کی وجہ سے یہ سال پاکستان کے دیگر برسوں سے ہٹ کر آزمائش اور قربانی کا سال ثابت ہوگا۔ یہ دھلائی اور صفائی کا سال ہوگا، بظاہر ایسا نظر آئے گا کہ حالات خراب ہیں مگر معاملات بہتری کی جانب بڑھیں گے اور سال 2020ء ، 21ء اور 22ء سے پاکستان کا معاشی ٹیک آف ہوگا۔ استغفار کی آیت 2019ء میںا سم اعظم کا درجہ رکھتی ہے لہٰذا اس کا زیادہ سے زیادہ ورد کرنا چاہیے اور توبہ کا قومی دن بھی منانا چاہیے تاکہ اللہ سے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مل سکے۔

یاسین وٹو

2019ء پاکستان کیلئے آسانیوں اور خوشخبریوں کی نوید ثابت ہوگا۔ 2019کے اعداد کا مجموعہ 3 ہے۔ اللہ کا عدد ، قرآن پاک کی پہلی آیت بسم اللہ کا عدد،پاکستان کا عدد اور ستارہ مشتری کا عدد 3ہے۔3 کا عدد مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اللہ کی نصرت شامل ہے۔ میں 3کے ہندسے کو تمام اعدادسے بڑا قرار دیتا ہوں کیونکہ یہ اللہ کا عدد ہے اور اسی لیے یہ سعد اور مبارک ہے۔ عمران خان کی عمر 66 برس ہے جس کا عدد بھی 3 بنتا ہے۔ بسم اللہ کے حروف 19 ہیں اور عمران کے بھی 19 ہیں۔ میں 19 کو کمپوزٹ عدد کہتا ہوں۔ 19 ایسا عدد ہے کہ اگر اس عدد کا حامل شخص کوئی غلط قدم بھی اٹھا رہا ہوں تو دست غیب سے اس کی مدد ہوجاتی ہے اور وہ صحیح راستے پر چل نکلتا ہے۔ عمران خان نے غلط فیصلے بھی کیے مگر ان کی مدد ہوئی اور اب داخلہ و خارجہ پالیسی بہترین چل رہی ہے۔ 2019ء مبارک سال ہے جو آسانیوں اور خوشیوں کی نوید ثابت ہوگا۔ اس سال اسلامی اقدار کو فروغ ملے گا اور عائلی قوانین بھی بہتر ہوں گے۔

اس سال حکومت مضبوط جبکہ اپوزیشن کمزور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کیلئے مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے جبکہ شہباز شریف جیل سے باہر نظر آرہے ہیں تاہم سال کے آخر میںوہ مشکلات کے گرداب میں گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز بھی سکینڈلز کی زد میں ہوں گے جبکہ مریم نواز کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔ 2019ء میں آصف علی زرداری جیل میں ہوں گے اور پیپلز پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی طر ح منظر عام سے غائب نہیں ہوں گے بلکہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور انہیں عوامی پذیرائی ملے گی۔عثمان بزدار ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ رہیں گے، ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ وزیراعظم اپنی کابینہ میں کچھ نئے لوگ شامل کریں گے اور بعض وزراء کو فارغ کردیا جائے گا لیکن یہ سب پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوگا۔

عمران خان کی شادی قائم و دائم رہے گی اور ان کے ازدواجی تعلقات مزید خوشگوار ہوں گے۔ بین الاقوامی تناظر میں امریکا، بھارت، افغانستان اور سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت ہوگی اور کرتار پور کوریڈور مکمل ہوجائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبے کی بنیاد رکھی جائے گی بلکہ مزید صوبے بنانے کی تجاویز بھی سامنے آئیں گی۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ اس سال میں ڈالر کی قیمت کم ہوگی، ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس آنے کا قوی امکان ہے جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی۔ کھیل کے میدان میں بہتری آئے گی۔ آئندہ سال زلزلے اور سیلاب کے امکانات نظر آرہے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان ان آفات سے محفوظ رہے گا۔

نائیلہ ادریس

2019ء کا عدد 3 ہے جو مشتری کا نمبر ہے۔ اس سال ملک میں اتار چڑھاؤ رہے گا۔ کبھی ایسا محسوس ہوگا کہ بہت اچھا وقت ہے اور کبھی برالگے گا۔ عمران خان کی وزیراعظم بننے کی کوئی امید نہیں تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اچھے طریقے سے حکومت سنبھالی ہے۔

انہیں معلوم ہوا کہ جو باتیں وہ کنٹینر پر کرتے تھے وہ درست ہیں اور اسی لیے کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کو لوٹنے والوں کے خلاف احتساب کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ملکی معاملات یونہی چلتے رہیں گے تاہم 2023ء سے حالات قابو میں آنا شروع ہوں گے۔ عمران خان کی حکومت اور ان کی ذات کو 2019ء میں خطرات لاحق ہیں ، انہیں اپنی سکیورٹی پر توجہ دینی چاہیے۔ 2019ء میں نواز، شہباز اور زرداری کی سیاست ختم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس سال کرکٹ اور فٹبال کو فروغ ملے گا۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات یونہی رہیں گے اور جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سید مصور علی زنجانی

2019ء کا مفرد عدد 3ہے جس کا تعلق روحانیت، خوش بختی اور دنیاوی روحانی امور سے ہے۔ جب بھی کوئی ملک وجود میں آتا ہے یا انسان پیدا ہوتا ہے تو اس وقت آسمانی کونسل پر ستاروں کی پوزیشن کے لحاظ سے نقشہ کھینچ دیا جاتا ہے جس کے گرد ستارے گھومتے رہتے ہیں اور تغیر و تبدل آتے رہتے ہیں۔ اس کی مثال کمپیوٹر سے دی جاسکتی ہے جسے انسان بناتا ہے اور اس میں جو کمانڈ دیں گے اس کی پروگرامنگ کے مطابق کمپیوٹر کام کرے گا۔ بسا اوقات جب وائرس آتا ہے تو چیزیں خراب ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے 2019ء کی صورت میں ملک میں اینٹی وائرس انسٹال کر دیا ہے جو سسٹم کو آہستہ آہستہ ریفارمز کرتے ہوئے بہتری کی جانب لے جائے گا۔ پاکستان کے نئے زائچے میں 2015ء سے قمر کی مہادشہ کا 10 سالہ دور شروع ہوا جو 2025ء میں ختم ہوگا۔

اس دوران دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا، کراچی کے حالات بہتر ہوئے، جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہوا اور بہتری کا یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔ پاکستان کے زائچے میں ایسے ریفامرز آتے رہیں گے جن سے پاکستان کے خارجہ امور بہتر ہوں گے، سی پیک منصوبہ آگے بڑھے گا اور ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔عمران خان کے حلف کے وقت آسمانی کونسل پر برج میزان طلوع تھا لیکن میزان کا حاکم ستارہ زہرہ کمزور پوزیشن پر تھا لیکن اس میں ایک اچھی چیز یہ تھی کہ طالع قمر اور مشتری موجود تھے۔ ان دونوں کی پوزیشن یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت میں جو شخص حلف لے رہا ہے وہ کچھ ایسے کام کر جائے گا جن سے پریشانی دور اور ملکی حالات بہتر ہوں گے۔ مشتری کا تعلق فلاحی و رفاحی کاموں سے ہے لہٰذا نئی حکومت کے آتے ساتھ ہی ڈیم کا نعرہ لگنا شروع ہوگیا اور عوام میں مثبت تبدیلی نظر آئی۔ اپوزیشن مضبوط ہونے کے باوجود وزیراعظم رفاحی کام کر جائیں گے اور بین الاقوامی معاملات بھی بہتر ہوں گے ۔ اگرچہ ان کا حلف کا زائچہ کمزور ہے مگر انہیں غیبی مدد حاصل رہے گی۔

2019ء تیسری عالمگیر جنگ کا سال ہوسکتا ہے۔ امریکا، روس، ایران، ترکی و یورپی ممالک کو بہت زیادہ مسائل ہوں گے اور انہیں بیرونی محاذ پر چیلنجز کا سامناہو سکتا ہے۔ یہ ممالک ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا تیسری عالمی جنگ کی جانب جاسکتی ہے۔ پاکستان کے طالع برج کے حساب سے دیکھیں تو پاکستان کا کردار مصالحتی ہوگا۔ 2019ء کے حوالے سے دیکھیں تو پاکستان اور وزیراعظم کے حلف کے زائچے میں ستاروں کی پوزیشن اور آئندہ لگنے والے گرہنوں کی وجہ سے عمران خان کے اقتدار کو بہت سارے خطرات لاحق رہیں گے۔ جولائی کا گرہن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ اس میں کسی اہم شخصیت کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے دباؤاور تحریک انصاف کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وزیراعظم قبل از وقت انتخابات کی طرف جاسکتے ہیں۔ فروری 2019ء تک ملک اور حکومت کیلئے مشکل وقت ہوگا جس میں حکومت کو صبر و استقامت اور چیزوں کو در گزر کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں معاشی دباؤ ہوگا جبکہ وزیراعظم معاشی معاملات کی بہتری کیلئے پیشگی اقدامات کریں گے اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری یا امداد آنے کی وجہ سے بہتری آئے گی۔ پاکستان کے زائچہ میں 17 جون 2019ء سے شمس کا دور اصغر شروع ہوگا جس کی وجہ سے عوام بہتری محسوس کرنا شروع کر دیں گے لیکن حکومت اور وزیراعظم کو بدستور چیلنجز کا سامنا رہے گا مگر حکومت ان سے نمٹنے کی پوزیشن میں ہو گی۔

2019ء میں نئی قانون سازی بھی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ کرپشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مزید سخت اقدامات سامنے آسکتے ہیں جس سے عوام کو مراعات ملنا شروع ہوجائیں گی جبکہ کرپٹ عناصر پر گرفت مضبوط ہو گی۔ اگست کے مہینے میں غیر ملکی سازشوں کا امکان ہے لیکن ستمبر اور اکتوبر سے جب کیتو اور زحل تھوڑے دور ہوں گے تو حکومت کو دباؤ سے نکلنے میں مدد ملے گی جس کی وجہ سے سال کے اختتام تک حکومت معاشی چیلنجز پر کچھ حد تک قابو پالے گی جبکہ ڈیم و دیگر رفاحی کاموں کے حوالے سے بھی ستاروں کی پوزیشن بہتر ہوگی اور ملک میں رفاحی کاموں کو پذیرائی ملے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔