ساڑھے چار لاکھ بچے اوورسیز پاکستانیوں کی بدولت اسکول جاتے ہیں، رپورٹ

ویب ڈیسک  اتوار 13 جنوری 2019
ترسیلات کے لیے ڈیجیٹل طریقہ اپنا کر مزید بچوں کو اسکول بھیجنا ممکن ہے، ورلڈ ریمٹ (فوٹو : فائل)

ترسیلات کے لیے ڈیجیٹل طریقہ اپنا کر مزید بچوں کو اسکول بھیجنا ممکن ہے، ورلڈ ریمٹ (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: ایک عالمی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے 4 لاکھ بچے اوورسیز پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقومات کی بدولت اسکول جاتے ہیں تاہم ڈیجیٹل ترسیلات زر پر منتقلی سے مزید بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

یہ نتائج یونیسکو، عالمی بینک اور پاکستان کے تازہ ترین قومی ہاؤس ہولڈ سروے میں شائع شدہ ڈیٹا سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق ، دنیا بھر میں کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں تقریباً 220 ملین بچے اسکول نہیں جاتے۔ ان میں سے 19 ملین بچے پاکستان میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

ورلڈ ریمٹ کے مطابق اسکول جانے والے ہزاروں پاکستانی بچوں کو کتابوں اور تعلیمی اشیاء تک رسائی اور کام کی بجائے تعلیم پر ترجیح کی وجہ غیر ملکی ترسیلات زر ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں ان ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے جہاں سنہ 2018ء کے دوران 21 ارب روپے سے زیادہ کی غیر ملکی ترسیلات زر وصول کی گئیں۔

ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے 4 لاکھ بچے غیرملکی ترسیلات زر کے باعث اسکول جاتے ہیں۔ پاکستان میں اسکول جانے والی عمر کے بچوں کی 40 فیصد تعداد کے بارے میں اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی ترسیلات زر وصول ہونے کی صورت میں اسکول جاسکیں۔

علاوہ ازیں ایسے گھرانے جہاں غیر ملکی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں، وہاں تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے جو سال بھر میں ایک بچے کے اسکول کی کتابوں کے برابر ہوتی ہے اور ایسے گھرانے جہاں غیر ملکی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں وہاں بچے غیر تعلیمی سرگرمیوں پر کم وقت صرف کرتے ہیں جس سے انہیں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت میسر آتا ہے۔

ورلڈ ریمٹ کے مطابق نقدی کی بنیاد پر رقم کی منتقلی کے روایتی طریقہ کو اگرکم خرچ ڈیجیٹل طریقہ سے بدل دیا جائے تو عالمی سطح پر مزید 825 ملین ڈالرز بچائے جاسکتے ہیں جوان خاندانوں کو بچوں کی تعلیم پر مزید خرچ کرنے کے قابل بناسکتے ہیں۔

ڈیجیٹل طریقے سے ہونے والی بچت کا تخمینہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں بچوں کے لیے تقریباً 20 ملین اسکول یونیفارم،30 ملین کتابیں اور 16 ملین اسکول کی دیگر اشیاء کے لیے ادائیگی کی جاسکتی ہے۔

ورلڈ ریمٹ کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان حمزہ اسلام نے کہا ہے کہ ہماری تحقیق ایک بروقت یاد دہانی ہے کہ 4.5 لاکھ بچوں کی تعلیم کے لیے موصولہ ترسیلات زر اہمیت کی حامل ہیں اور ڈیجیٹل ترسیلات زر کی بدولت اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، امید ہے کہ اس نئے سال غیرملکی ترسیلات زر میں مزید اضافہ ہوگا یعنی مزید بچے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔