ایل این جی درآمد: ایک ہی کمپنی کوذمے داربنانے پرغور

ضیغم نقوی  پير 14 جنوری 2019
4کمپنیوں میں رابطے کا فقدان بھی گیس بحران کی بڑی وجہ بنا
 :فوٹو:فائل

4کمپنیوں میں رابطے کا فقدان بھی گیس بحران کی بڑی وجہ بنا :فوٹو:فائل

 اسلام آباد:  ایل این جی درآمد کرنے والی کمپنیوں میں رابطے کا فقدان بھی ملک میں گیس بحران کی بڑی وجہ بنا، یہ انکشاف وزیر اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک ہونیوالے معاہدوں کو چار، چار کمپنیوں کی بجائے پاکستان میں ایک ہی کمپنی کو ذمہ داری دی جائے۔ذرائع کے مطابق ملک میں گیس بحران پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا تو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اپنی رپورٹ میں سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیاکہ ایل این جی درآمد کرنے کیلئے پاکستان میں 4 کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پی ایس او کے پاس دو معاہدے، (قطر، گنور)، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے پاس دو، (ای این آئی اور گنور)،پاکستان ایل این جی ٹرمینل لمیٹڈ(پی ایل ٹی ایل)،اورسوئی سدرن گیس لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے پاس ایک معاہدہ (اینگرو) ہے، یہ کمپنیاں براہ راست ایل این جی درآمدکرنیکی ذمہ دار ہیں۔ ان کمپنیوں کیجانب سے طلب اوررسد کا درست اندازہ نہ لگائے جانیکی وجہ سے گیس کی کمی ہوئی۔ ذرائع کیمطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے یہ تجویز دی کہ ایل این جی کی ضرورت کے مطابق بلاتعطل درآمد کیلئے ضروری ہے کہ ایل این جی کے تمام معاہدے پاکستان کی ایک ہی کمپنی کیساتھ کئے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت پٹرولیم فائل ورک کرکے قطر سے معاہدوں میں ترمیم کیلئے درخواست کریگی۔

وزارت کے ایک ذمہ دار افسر نے بتایاکہ معاہدوں میں یہ گنجائش موجود ہے کہ پاکستان کی کمپنیوں میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے تاہم دیگر فریقین کیجانب سے انکار پر کمپنی تبدیل نہیں کی جا سکے گی، ضرورت کے مطابق ایل این جی کے کارگو لائن اپ کر دئیے گئے ہیں،جنوری اور فروری میں 9،9 ، مارچ میں 10جبکہ اپریل میں11کارگو کی پیمنٹ شیڈول ہیں اور وافر مقدار میں ایل این جی موجود ہو گی، بجلی پیداکرنیوالے کارخانوں(آئی پی پیز)کو کہا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایل این جی استعمال کریں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔