پنجاب میں پرائمری تک انگریزی تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ

قیصر شیرازی  پير 14 جنوری 2019
اسکول نہ جانے والے بچوں کے داخلوں کے لیے بھی مہم چلائی جائے گی
 فوٹو: فائل

اسکول نہ جانے والے بچوں کے داخلوں کے لیے بھی مہم چلائی جائے گی فوٹو: فائل

 راولپنڈی: پنجاب بھر کے سرکاری پرائمری اسکولوں سے انگریزی نظام تعلیم ختم کرکے نئے تعلیمی سال سے کچی تا پنجم مکمل اردو نصاب نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں اردو نصاب میں تیار کر لیا گیاجس میں ردو بدل بھی کیا گیا ہے، فروری سے درسی کتب مارکیٹ میں آجائینگی جبکہ ششم سے میٹرک تک کے نصاب میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، حکومت نئے تعلیمی سال سے تمام درسی کتب سرکاری اسکولوں میں مفت مہیا کریگی۔

مارچ کے دوسرے ہفتہ میں تمام کلاسوں کی درسی کتب سرکاری سکولوں میں پہنچا دی جائیں گی جبکہ 2 اپریل سے کتب کی مفت تقسیم شروع کی جائیگی۔ وزارت تعلیم نے تمام اسکولوں کے سربراہان سے کتب کی ڈیمانڈ بھی مانگ لی ہے۔ پنجاب حکومت نے نئے تعلیمی سال سے صوبے میں اسکولوں سے باہر ایک کروڑ بچوں اور بچیوں کو سرکاری اسکولوں اور لٹریسی سینٹروں میں داخل کرنے کیلیے یکم فروری سے بھرپور مہم شروع کرنیکا فیصلہ کیا ہے، تمام داخلے فری جبکہ تعلیم اور کتب یونیفارم بھی مفت دی جائیں گی جبکہ پرائیویٹ سیکٹر نے بھی زیادہ بچوں کے داخلوں کیلیے بھرپور مہم شروع کر دی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔