مصری عوام کیا چاہتے ہیں؟

شبیر احمد ارمان  پير 15 جولائ 2013
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

’’مصری عوام کیا چاہتے ہیں؟‘‘ آج سے ایک سال قبل اس سوال کا جواب یہ تھا کہ ’’وہ 40سالہ حسنی مبارک کی آمریت سے نجات چاہتے ہیں‘‘ اس کے لیے انھوں نے نہ رکنے والی جدوجہد کا آغازکیا اور ’’التحریر چوک کو اپنا مسکن بنایا اور اس وقت تک اس مقام سے نہ ہٹے جب تک حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ نہ ہوا۔ اس خوشی پر مصری عوام نے جمہوریت کی جیت کا جشن منایا۔ پھر مصر کی تاریخ میں ایک ایسی جماعت کی حکومت قائم ہوئی یعنی اخوان المسلمین کی جو ایک عرصے سے مصر کے غریبوں کا بادشاہ تھا۔

جس نے اقتدار کے باہر رہتے ہوئے فلاحی کام کیے اور مثال قائم کی کہ ’’اگر جذبہ پر عزم ہو اور اس میں ملاوٹ نہ ہو تو اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت کی جاسکتی ہے ‘‘ اس کے انہی عوامی خدمات کے پیش نظر اخوان المسلمین نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور مصر کا حکمران بن گیا۔ لیکن یہ کیا؟ ایک مرتبہ پھر مصری عوام التحریر اسکوائر چوک پر جمع ہوگئے ور انھوںنے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بینروں پر درج عبارتوں ’’فوج آئے، ملک بچائے‘‘ کے ذریعے مصری فوج کو حکمرانی کی دعوت دی۔ ایسا کیوں کیاگیا؟

پھر اخبارات میں خبروں کا تانتا بندھ گیا’’مصر میں صدر مرسی کی حکومت کو برطرف کردیاگیا ہے۔ مرسی اب ملک کے صدر نہیں رہے۔ برطرف صدر مرسی سمیت حکومت اور ان کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی اعلیٰ قیادت کو گرفتار کرلیا گیاہے۔ ہم عوام کے ساتھ ہیں اور سیاست سے دور رہیں گے۔ عوام نے ہمیں سپورٹ کرنے اور تحفظ کرنے کے لیے بلوایا ہے۔ انہی کے کہنے پر آئے ہیں۔ صدر مرسی عوام کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے۔ ہم کئی ماہ سے سیاسی قوتوں میں مفاہمت کی کوشش کررہے تھے۔

ہم نے عارضی طورپر آئین معطل کیا ہے۔ مصر کی آئینی عدالت کے سربراہ کو قائم مقام صدر مقرر کیاگیا ہے۔ مختصر مدت کے لیے ٹیکنو کریٹس حکومت بنائیں گے۔ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے گی۔ جو آئین کا جائزہ لے گی۔ مصر میں جلد انتخابات ہوں گے۔ ہم نے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر سیاسی روڈ میپ کا انتخاب کیا ہے۔ عوام انتخابات کی تیاری کریں۔‘‘ مصر کے آرمی چیف ابوالفتح السیسی کے مذکورہ بالا اعلان کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر مصری عوام نے التحریر اسکوائر چوک پر جشن منایا ۔ ایک ایسی حکومت کے خلاف جو اسلامی اور جمہوریت پسند تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایک طرف مصری عوام 40سالہ آمریت کو برداشت کرنے کے بعد جمہوری انقلاب برپا کردیتے ہیں اور جمہوری نظام رائج کردیتے ہیں اور پھر خود ہی اپنے ہاتھوں ایک سال آٹھ دن بعد اس جمہوری نظام کا خاتمہ کرکے فوجی نظام کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوشیاں مناتے ہیں ایسا کیوں؟۔ آخر مصری عوام کیا چاہتے ہیں؟

بات یہ ہے کہ مصری عوام 2حصوں یعنی 51فیصد اور 48 فیصد میں تقسیم قوم ہے جب کہ ایک فیصد غیر جانبدار معلوم ہوتی ہے۔ 51فیصد وہ ووٹرز ہیں جنھوںنے اسلام اور جمہوریت کے نام پر اخوان المسلمون کو ووٹ دیکر اپنا حکمران بنایا اور 48 فیصد لوگ ہیں جو اخوان المسلمون کی حکومت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ گویا اس طرح مصر میں دو فیصد کم طبقہ (سیکولرازم) کو برتری حاصل ہے جب کہ 51فیصد طبقہ (اسلام پسند) کو نظر انداز کیا بلکہ ان کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیاہے۔

کہاجارہاہے کہ مصری عوام اپنے مسائل کا حل چاہتی تھی۔ جب کہ مرسی حکومت اپنی مذہبی تشریحات کے مطابق حکمرانی چاہتی تھی ۔ جس نے 48فیصد کو مشتعل کردیا۔ جمہوریت کی عجیب منطق ہے۔ 48فیصد 51فیصد پر غالب آگئے ہیں ۔ جس کے اثرات مصر میں خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ تادم تحریر میڈیا اطلاعات کے مطابق مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ قاہرہ میں معزول صدر کے ہزاروں حامیوں کی ریلی نکالی جارہی ہے۔

ری پبلکن گارڈز کے ہیڈ کوارٹرز کی طرف پیش قدمی پر فوج فائر کھول دیتی ہے جس کے نتیجے میں3افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامے دوسرے شہروں تک پھیل جاتے ہیں۔ جس روز مصر میں محمد البرادعی کو عبوری وزیراعظم بنایا جاتاہے اسی روز یعنی 6جولائی کو مرسی کے حامی اور مخالفین میں جھڑپیں ہوتی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد40ہوجاتی ہے۔ جھڑپیں قاہرہ، اسکندریہ اوردیگر شہروں تک پھیل گئیں ہیں۔ پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملے کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں 6سیکیورٹی اہلکار مارے جاتے ہیں، اخوان المسلمون احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتی ہے ۔ محمد مرسی ملٹری ہیڈ کوارٹرز سے وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹرز میں منتقل کردیے جاتے ہیں۔

معزول صدر پر مقدمہ چلانے کا عندیہ دیاجاتاہے۔ امریکا مصری رہنماؤں سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے جب کہ اقوام متحدہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کا کہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جمہوریت کے علمبردار امریکا کا مصر میں فوجی بغاوت کے بارے میں کردار معذرت خواہانہ کیوں ہے؟ کیونکہ امریکا مصری فوج کو دی جانے والی امداد معطل نہیں کررہاہے؟ جب کہ مصر میں جمہوریت پر شب خون مارا گیاہے۔ آزادی اظہار کو روندا جارہاہے، مصر میں 4مذہبی ٹی وی چینلز سمیت 25ملکی وغیر ملکی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کردی گئیں ہیں۔ کیونکہ جمہوریت کے ٹھیکیدار عالمی برادری نے مصرکی جانب سے اپنی آنکھیں بند کیں ہوئیں ہیں؟

کیا مصر میں آمریت کے40سالہ اندھیروں کو اجالوں میں بدلنا صدر مرسی کا جرم قرار پایاہے؟ کیا امریکا اور مغرب جمہوریت کے ذریعے بھی اسلام کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے؟ کیا امریکا اسلامی دنیا میں ہمیشہ آمریت کو پروان چڑھتا دیکھنا پسند کرتاہے؟ ہمیشہ فوجی ونام نہاد جمہوری آمروں کی سرپرستی کیوں کی جاتی ہے؟ اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کی جمہوری اور سیاسی ذریعے سے تبدیلی کی کوششوں کو کونکر سبوتاژ کیا جاتاہے؟ کیا یہ عوامی مغربی دنیا کی مسلح ممالک میں مداخلت جہاد کے ذریعے تبدیلی لانے والوں کے موقف کو تقویت کے باعث نہیں؟

افسوس تو اس بات پر بھی ہے کہ ترکی کے علاوہ دیگر مسلح ممالک مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف خاموش ہیں۔ کیوں؟ سچ یہ ہے کہ مغربی اور اسلامی دنیا کی یہی منافقت مسلح نوجوانوں میں انتقام کے جذباتی شعلے بھڑکاتے ہیں۔ جس سے جذباتی مسلح نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انصاف کی دعویدار عالمی طاقتیں اور تنظیمیں اگر حقیقی طورپر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو ان کو مسلمانوں کے ساتھ دہرا رویہ اور منافقت کی پالیسی ختم کرنی ہوگی اور جس طرح جلد بازی میں مشرقی تیمور اور سوڈان کا فیصلہ کیاگیا اسی طرح کشمیری، فلسطینی، شامی، برمی اور دنیا میں مسلمانوں کے خلاف مظالم میں مصروف دوسرے ممالک کے خلاف بھی اسی طرح فیصلے کرنے ہوںگے۔

اور جب تک مسلم حکمران امریکا اور مغرب کو اپنا دوست سمجھنے کی غلطی کرتے رہیںگے ذلت کا شکار رہیںگے۔ مصر میں فوجی بغاوت کی خاموش حمایت کرنے والے مسلح مسلم ممالک کو اپنے افسوسناک رویے کا جائزہ لینا چاہیے ۔ اس بات کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی مصر سمیت کسی بھی ملک میں فوجی بغاوت کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔ اگر عالمی برادری اسی طرح مصر میں فوجی بغاوت پر خاموش رہے تو مصر میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ اس سے قتل وغارت بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ جلد از جلد مصر میں شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے چاہئیں تاکہ مصر میں جمہوریت بحال ہوسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔