بڑھتی آبادی کیس؛ حکومت سے سفارشات پرعمل درآمد کی رپورٹ طلب

ویب ڈیسک  پير 14 جنوری 2019
ہمارے وسائل سکڑ رہے ہیں، چیف جسٹس فوٹو: فائل

ہمارے وسائل سکڑ رہے ہیں، چیف جسٹس فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بڑھتی آبادی کیس میں حکومت سے ہر 3 ماہ بعد ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بڑھتی آبادی کیس کی سماعت کی۔ سیکرٹری صحت زاہد سعید نے بتایا کہ ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد سالانہ ہے، حکومت نے آبادی کے کنٹرول کے دو اہداف مقرر کیے ہیں، ایک ہدف 2025 جب کہ دوسرا 2030 تک حاصل کیا جائے گا۔ ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد سالانہ ہے، 2025 تک آبادی بڑھنے کی شرح 1.5 جب کہ 2030 تک 1.4 فیصد ہو جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آبادی کے حوالے سے سروے کس حد تک مستند ہوتے ہیں، تھرڈ پارٹی سروے کس سے کرایا جاتا ہے، سروے کے اعداد و شمار مستند نہیں ہوں گے تو کوئی بھی پلان بیکار ہے، ہمارے وسائل سکڑ رہے ہیں، حکومت کو یہ بات بتا دیں کہ آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی، ایک وقت آئے گا جب وسائل اور طلب میں خلا کو پر کرنا مشکل ہو جائے گا۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹاسک فورس کی سفارشات کو حکومت نے تسلیم کیا تھا، حکومت نے ٹاسک فورس کی رپورٹ پر عمل نہ کیا تو تباہی ہو گی، حکومت ہر 3 ماہ بعد سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ دے، آبادی کنٹرول کے معاملے پر فیصلہ لکھ چکے ہیں جو کل سنائیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔