بند کمروں کی محبت

ذیشان الحسن عثمانی  پير 14 جنوری 2019
اللہ کی محبت حق رکھتی ہے کہ سیدھا اس کے پاس جایا جائے، سب کچھ تیاگ کر، ساری محبتوں کو آگ لگا کر۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اللہ کی محبت حق رکھتی ہے کہ سیدھا اس کے پاس جایا جائے، سب کچھ تیاگ کر، ساری محبتوں کو آگ لگا کر۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہر آدمی کی شخصیت کا کوئی تاریک پہلو، کوئی ڈارک سائیڈ ضرور ہوتی ہے۔ وہ روزمرہ کے کام کاج سے فرصت پا کر، گھریلو اور معاشی ذمہ داریوں سے نمٹ کر 24 گھنٹوں میں ایک بار اس کال کوٹھری کا چکر ضرور لگاتا ہے۔ کسی کی زندگی میں ایک تو کسی کی درجن بھر۔

اپنی زندگی میں موجود ان تاریک راہوں اور کال کوٹھڑیوں پر ضرور نظر رکھنی چاہیے۔ یہ بحری جہاز کے وہ لنگر ہیں جو شخصیت کو معرفت کے سفر پر جانے ہی نہیں دیتے۔ ان کا پتا چل جائے تو سدِباب بھی ممکن ہو۔ بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنی ذات کی ڈارک سائیڈ کو دنیا کے سامنے روشن بنا کر پیش کریں کہ گناہ کے ساتھ ساتھ منافقت کا وبال بھی سمیٹتے رہیں۔

کسی کےلیے ڈارک سائیڈ یوٹیوب پر فلم دیکھنا ہوتا ہے تو کسی کےلیے نیٹ فلکس، کسی کےلیے گانے سننا تو کسی کےلیے فیس بک پر تصویریں، کسی کےلیے واٹس اپ گروپس تو کسی کو مزیدار ملکی خبروں کی لت، کسی کےلیے اخلاق سے عاری ڈرامہ تو کسی کےلیے سارے دن بھر کی غیبت، کسی کو نائٹ پیکیجز پر اپنے محبوب سے راز ونیاز کرنا ہوتا ہے تو کسی کو اللہ کا نام لگا کر اپنے آپ کو پوجنا ہوتا ہے۔

میرا دوست عبداللہ کہتا ہے کہ ہماری جوانی بڑی پاک گزر گئی کہ اس میں موبائل فون ہی نہیں تھا۔ جس شخص کو اپنی حالت پر کنٹرول نہیں، اس کےلیے اسمارٹ فون کا استعمال جائز ہی کہاں ہوا؟ بالکل اسی طرح کہ جیسے آپ بچے کے ہاتھ میں بندوق نہیں دیتے کہ کیا پتا کسی کا یا اپنا ہی نقصان کر بیٹھے۔

ان نائٹ پیکیجز کا سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ رشتوں کا بھرم، لفظوں کی حرمت اور جذبات کا تقدس سب نکل جاتا ہے۔ آپ 5 منٹ کال نہ اٹھائیں تو سامنے سے کہا جاتا ہے ’’اب یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ وہیں چلے جاؤ جہاں مصروف تھے۔‘‘ اب بندہ مناتا ہی رہے کہ تم میری جان ہو، میری زندگی تمہارے بغیر ادھوری ہے، میری زندگی کا نور تم سے ہے۔ تم میری ضرورت ہو وغیرہ۔

سوچتا ہوں، ایسا آدمی جب جائے نماز پر کھڑا ہوتا ہوگا تو وہاں بھی آواز آتی ہی ہوگی، ’’یہاں کیا لینے آئے ہو؟‘‘ کیسے کہے گا وہی جملے دعا میں جو کئی سو بار نائٹ پیکیچز پر دُہرا چکا ہوتا ہے۔ بتاؤ اب خدا پوچھ لے اگر حشر میں کہ کہاں سچ بولتے تھے تو کیا ہوگا؟

میرے ایک دوست ہیں، وہ ہر بڑی تقریب کےلیے نیا سوٹ سلواتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میزبان کو میری حالت پتا ہے مگر یہ نیا جوڑا پہن کر جانا دراصل ان ہی کی عزت ہے۔ بڑا حیران ہوتا ہوں ان کو فجر میں نائٹ ڈریس میں دیکھ کر۔

بات دراصل یہ ہے کہ چاہے جانے کی خواہش پیدائشی ہوتی ہے۔ دو سال کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے نخرے اٹھائے جائیں۔ اس کے سامنے کسی اور بچے کو پیار کرلیں تو وہ بھی حسد میں اسے مارتا ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ آگے پیچھے واہ واہ کرنے والے ملیں۔ ایک پیدائشی جذبہ ہے جسے اظہار کےلیے کوئی نہ کوئی چاہیے۔ کوئی دوست، لڑکی، بیوی، دنیا ملی نہیں، تو بس ایک اللہ کی محبت کا دعویٰ مفت ہاتھ لگ گیا تو دُکان کھول لی۔

رات بھر کا رونا، امت کے غم میں ہلکان ہونا، قوموں کی تقدیروں کی فکر، عالمی مسائل پر نظر، مگر اللہ، اس کے رسولﷺ اور دین سے مناسبت نہیں۔ قربانی نہیں کرنی کہ پیسوں کا ضیاع ہے۔ مریضوں کا علاج مفت مگر نمازوں کی چھٹی، فجر و عشاء کی جماعت مہینوں سے نہ ملی مگر بیواؤں کا خیال رکھتا ہے۔ معرفت کے دھوکے میں خود بھی مبتلا ہے اور ایک عوام کو بھی بےوقوف بنائے چلا جارہا ہے۔

میرے استاد کہتے ہیں، ’’جس معرفت کے دعوے پر اللہ کے خوف کے دستخط نہ ہوں وہ چولہے میں جھونکنے کے لائق ہے۔‘‘

اللہ اس کے نفس کی تخلیق کردہ کسی شئے کا نام ہے جسے وہ پوجے جا رہا ہے۔ عشقِ حقیقی، عشق مجازی سے گزر کر ملتا ہے، سب بکواس… شہنشاہوں کے محل کے راستے میں گٹر نہیں آتے۔

مسلمان ایک قوم گزری ہے، دو تین سو سال پہلے۔ اب تو صرف منافق رہ گئے؛ کچھ فل ٹائم تو کچھ پارٹ ٹائم۔ آج کل تھوک کے حساب سے ملنے والی اس معرفت کا ایک ذرہ بھی ہمارے محبوب نبی ﷺ کو نہیں ملا۔ فرعون و نمرود کے پاس ہوتی تھی یہ والی معرفت۔ معلومات کی کثرت علم روک دیتی ہے۔ یوٹیوب سے باتیں کرنا آجاتی ہیں، کتابوں سے مثالیں مل جاتی ہیں مگر وہ حکمت جو اندر سے پھوٹے، وہ بغیر ذکر اور صحبت کے ممکن نہیں۔ اللہ سے ڈریئے۔ ایک کام کیجیے، اپنا لکھا خود پڑھ لیا کیجیے۔ اپنا کہا خود سُن لیا کیجیے اور اس پر 10 فیصد بھی عمل کرلیں تو بھی ملک پر بڑا احسان کیا۔

اللہ کے نیک بندے گناہوں سے دور بھاگتے ہیں اور نیکیوں اور معرفت کا سفر کرتے ہیں۔ مجھ جیسے نالائق گناہوں سے گناہوں تک کا سفر کرتے ہیں۔ ایک گناہ سے بھاگے تو دوسرے گناہ پر پہنچ کر دم لیا۔ میرے ایک دوست عبداللہ کو کسی یورپین ملک کے بارڈر پر کچھ گھنٹوں کےلیے روک لیا گیا۔ کوئی غلط فہمی ہوگئی تھی۔ اس کا نام کسی اور کے نام سے میچ کر گیا تھا۔ وہ بتانے لگا کہ میں نے سوچا، اللہ کو کسی نیکی کا حوالہ دوں تاکہ اس کے صدقے سے جان چھوٹے، مگر 40 سال کی عمر کھنگالنے کے بعد ایک بھی نہ ملی جس کا ذکر کرسکتا۔ اس نے دعا کو ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگا۔

’’یا اللہ، تیری توفیق وہ آگ ہے جو نیکی کے پانی کو گرم رکھتی ہے۔ پوری زندگی میں کوئی ایک نیکی ایسی نہ کرسکا جو تیرے شایانِ شان ہو۔ ایک گناہ کے بعد دوسرے گناہ تک بھاگنے میں گزار دی۔ میرا وجود بذاتِ خود گناہ ہے جِسے قبر کی مٹی ٹھنڈا کرے گی۔ اس گناہوں کی آگ میں جلتے ہوئے بندے کو اپنی رحمت کے پانی سے ٹھنڈا کردے۔ تیری رحمت کسی وجہ کی محتاج نہیں۔ تجھے میرے ان لفظوں کے تقدس کی قسم جو صرف تیرے اور میرے درمیان ہیں، اُس گریہ و زاری کی حرمت کا واسطہ کہ میں نے جس میں کبھی ملاوٹ نہیں کی۔ اے بڑے و عالیشان دروازوں کے مالک اللہ جن سے آگے میری رسائی نہیں، اپنے ربّ ہونے کے ناتے مجھے اس مشکل سے نکال۔

’’کافروں کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا، میں تو مسلمان ہوں۔ تُو میرا ربّ ہے، تو جانتا ہے جو مانگا تجھ سے مانگا۔ اِس فقیر کی مستقل مزاجی کا لحاظ کر، مجھے اس مشکل سے نکال۔‘‘

کمرے کے دروازے بند ہوتے ہی نفس کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ آج رات جب دروازہ بند کریں تو غور کیجیے گا کہ کون سی ڈارک سائیڈ وزٹ کرنی ہے۔ اور کچھ جملے تو رکھ چھوڑیئے جن پر صرف مالک کا حق ہو، جو صرف اسے کےلیے مختص ہوں کہ زندگی کے نامہ اعمال جب ملیں، مخاطب صرف خدا کی ہی ذات ہو۔

اللہ کی محبت حق رکھتی ہے کہ سیدھا اس کے پاس جایا جائے، سب کچھ تیاگ کر، ساری محبتوں کو آگ لگا کر۔

نیٹ ورکنگ کی یہ سائٹس کس کام کی جب نیٹ ورک میں اللہ ہی نہ رہے۔

سوچئے کا ضرور!

اللہ ہمیں لفظوں کی حرمت سکھائے، آمین!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

ذیشان الحسن عثمانی

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ فیلو اور آئزن ہاور فیلو ہیں۔ ان کی تصانیف http://gufhtugu.com/authors/zeeshan-ul-hassan-usmani/ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔