ذہنی معذور قیدی خضر حیات کی سزائے موت روکنے کا کیس لارجر بنچ کو ارسال

ویب ڈیسک  پير 14 جنوری 2019
کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے سارے ملزم ذہنی مریض ہونے کی درخواست لے کر آجائیں، جسٹس منظور ملک فوٹو:فائل

کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے سارے ملزم ذہنی مریض ہونے کی درخواست لے کر آجائیں، جسٹس منظور ملک فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خضر حیات کی سزائے موت پر عملدرآمد روکتے ہوئے کیس لارجر بنچ کو ارسال کردیا۔

جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ذہنی معذور قیدی خضر حیات کی سزائے موت رکوانے کیلئے اس کی والدہ اقبال بانو کی درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ ٹرائل میں خضر حیات کے ذہنی مریض ہو نے کا نکتہ کیوں نہیں اٹھایا گیا، اب سزا ہونے لگی ہے تو ذہنی مرض کا نکتہ اٹھایا گیا ہے۔

مجرم کے وکیل نے کہا کہ خضر حیات ٹرائل کے دوران ذہنی مریض بنا، معاملہ پر 2016 میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، جس نے مجرم کے ذہنی مریض ہونے کی تصدیق کی، جیل رولز کے سیکشن 444 کے تحت ذہنی طور پر مکمل صحت مند نہ ہونے پر سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس منظور ملک نے کہا کہ خضر حیات کی میڈیکل رپورٹ مکمل واضح نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے سارے ملزم درخواست لے کر آجائیں۔ سپریم کورٹ نے خضر حیات کی سزائے موت پر عملدرآمد روکتے ہوئے معاملہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کو بھجوا دیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ پولیس اہلکار خضر حیات کو اپنے ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کرنے پر اکتوبر 2001 میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔