سینیٹ کمیٹی اجلاس؛ وزارت داخلہ حکام بلیک لسٹ کا قانون بتانے میں ناکام

ویب ڈیسک  پير 14 جنوری 2019
سینیٹ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا فوٹو:فائل

سینیٹ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت داخلہ کے حکام پیش ہوئے اور جب ان سے بلیک لسٹ کا قانون پوچھا گیا تو وہ نہ بتاسکے۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا چیئرمین جاوید عباسی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بلیک لسٹ کی قانونی حیثیت پر بحث ہوئی۔

کمیٹی ارکان نے وزارت داخلہ حکام سے پوچھا کہ بلیک لسٹ کا قانون کیا ہے؟، تو وزارت داخلہ حکام بلیک لسٹ کا قانون نہ بتاسکے۔  مصطفی نواز نے کہا کہ بلیک لسٹ کا کوئی قانون نہیں، ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ان کے پاس پی این آئی ایل کی فہرست کے تحت بلیک لسٹ کیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ بلیک لسٹ میں نام پاسپورٹ ایکٹ کے تحت ڈالا جاتا ہے۔ ڈائریکٹر پاسپورٹ نے کہا کہ پاسپورٹ ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت نام بلیک لسٹ میں نام ڈالا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی ایل سے متعلق وزارت داخلہ کی بریفنگ مسترد، ڈی جی ایف آئی اے طلب

مصدق ملک نے کہا کہ آپ طریقہ کار نہیں بلکہ قانون بتائیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آپ نے لوگوں کو روکنے کے لیے کس قانون کے تحت بلیک لسٹ بنائی، شہریوں کے سفر کرنے پر پابندی کیسے اور کس قانون کے تحت ہے، داخلہ اور امیگریشن والے ہمیں جاہل سمجھتے ہیں، ہمیں وزارت داخلہ اور امیگریشن والے گمراہ کررہے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی جاوید عباسی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں وزیر داخلہ کو بھی بلالیں، ہمیں اس حوالے سے تمام تفصیلات چاہئیں کہ اب تک کتنے لوگوں کو بلیک لسٹ میں ڈالا گیا اور روکا گیا ہے، اور کس نے ہدایات دیں؟۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔