بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف شہریوں نے احتجاجاً سحری سڑکوں پر کی

اسٹاف رپورٹر  منگل 16 جولائ 2013
سیاسی ومذہبی جماعتیں مفادات کیلیے احتجاج کرتی ہیں،عوامی مسائل پر دھرنے نہیں دیے جاتے، بجلی چوروں کو پکڑا جائے، مظاہرین   فوٹو: فائل

سیاسی ومذہبی جماعتیں مفادات کیلیے احتجاج کرتی ہیں،عوامی مسائل پر دھرنے نہیں دیے جاتے، بجلی چوروں کو پکڑا جائے، مظاہرین فوٹو: فائل

کراچی:  سحری کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر شہری بلبلا اٹھے اور سحری کے وقت ہی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجاً سحری سڑکوں پر کی۔

گلبہار، خاموش کالونی اور رضویہ کے مکینوں نے سڑک پر مظاہرہ کیا اور ٹائر نذر آتش کیے، سحری کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران شہری بلبلا اٹھے اور سحری کے وقت احتجاج کیا، شہریوں نے شکوہ کیا کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سحری میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی لیکن ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، گلبہار، رضویہ، خاموش کالونی اور متصل علاقوں کے مکین سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا، اس دوران نامعلوم افراد نے سڑک پر ٹا ئر بھی نذر آتش کیے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ کم از کم سحری کے وقت تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔

علاوہ ازیں پانی اور بجلی کی عدم فراہمی پر سرجانی ٹاؤن، گڈاپ ٹاؤن یوسی 6، نارتھ کراچی کے مختلف سیکٹروں میں بھی مظاہرے کیے گئے،شہریوں کا کہنا تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے جس سے ان کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، اگر ان کے علاقے میں بجلی کی چوری کی شکایات ہیں تو صرف مخصوص افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، پورے علاقے کی بجلی بند کردینا سراسر ناانصافی ہے، بجلی نہ ہونے کے باعث پانی بھی بند ہوگیا، صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے میں واٹر ٹینکر مافیا نے بھی نرخ بڑھا دیے۔

جب علاقے میں پانی نہیں آتا تو ٹینکر مافیا کو پانی کی فراہمی ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، سیاسی اور مذہبی جماعتیں صرف اپنے مفادات کیلیے احتجاج کرتی ہیں،عوامی مسائل پر دھرنے کیوں نہیں دیے جاتے، اس موقع پر نارتھ کراچی میں مشتعل افراد کے ای ایس سی کے دفتر کے سامنے جمع ہوئے اور پتھراؤ کیا ،واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس و رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔