اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث ناصر جمشید کی برطانوی عدالت میں پیشی

عباس رضا  منگل 15 جنوری 2019
اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا، فوٹو: فائل

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا، فوٹو: فائل

مانچسٹر: اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث پاکستانی اوپنر ناصر جمشید اور دو ساتھی آج برطانوی عدالت میں شروع ہونے والے کیس کی ابتدائی سماعت میں پیش ہوں گے۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں ناصر جمشید ، یوسف انور اور محمد اعجاز کے خلاف اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں، 19 دسمبر کو تینوں ملزمان پر فردجرم عائد کرتے ہوئے انہیں آج طلب کیا تھا، نوٹس کے تحت تینوں ملزمان کو مانچسٹر میجسٹریٹس کورٹ میں شروع ہونے والی ابتدائی سماعت میں پیش ہونا ہے۔

پی ایس ایل 2017 کے آغاز میں ہی سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں شرجیل خان، خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور محمد عرفان کے نام سامنے تھے جب کہ ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا، اس اسکینڈل کے سامنے آنے پر ناصر جمشید، یوسف انور اور محمد اعجاز فروری 2017 میں انگلینڈ میں گرفتار ہوئے، بعدازاں ضمانت پر رہائی پانے میں کامیاب ہوگئے۔

دوسری جانب پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے کیسز کی پی سی بی ٹریبیونل میں سماعت کے بعد انہیں مختلف مدت کے لئے پابندی اور جرمانے کی سزائیں دی گئیں، ناصر جمشید کے کیس کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اگست 2017 میں ان پر 10 سال کے لیے کرکٹ کے دروازے بند کردیئے گئے تھے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے اپنی تحقیقات مکمل کرلیں، جس کے بعد 19 دسمبر کو ناصر جمشید، یوسف انور اور محمد اعجاز پر فردجرم عائد کرتے ہوئے انہیں آج طلب کیا تھا، تینوں کو مانچسٹر میجسٹریٹس کورٹ میں شروع ہونے والی ابتدائی سماعت میں پیش ہونا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔