2 عہدے، تحریک انصاف میں ننھی منی بغاوت سراٹھانے لگی

مظہر عباس  منگل 16 جولائ 2013
پرویز خٹک کے ایک عہدہ چھوڑنے سے انکار پر پارٹی میں اندرونی صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔ فوٹو : فائل

پرویز خٹک کے ایک عہدہ چھوڑنے سے انکار پر پارٹی میں اندرونی صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔ فوٹو : فائل

کراچی:  تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل و وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے کہ وہ بیک وقت 2 عہدے نہیں رکھ سکتے۔

ان کے اس انکار کے بعد تحریک انصاف میں ننھی منی سے بغاوت پروان چڑھ رہی ہے جو پارٹی کے سربراہ عمران خان کیلیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے وفاقی حکومت کے خلاف توانائی کے بحران پر مضبوط موقف اپنانے سے ن لیگ اور پی ٹی آئی میں نئی کشمکش پیدا ہو رہی ہے تاہم ان کی طرف سے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ان کے اس اعلان کے بعد پارٹی میں جاری 2 عہدوں سے متعلق بحران شاید کچھ وقت کیلیے ٹل جائے مگر اس حوالے سے تحریک انصاف میں واضح طور پر تقسیم ابھر رہی ہے۔ عمران خان نے لندن روانگی سے قبل پارٹی عہدیداروں سے اندرونی اختلافات سے دور رہنے کی اپیل کی تھی تاہم پارٹی کے بعض لیڈروں کے خیال میں پرویز خٹک نہ صرف پارٹی کے چیف الیکشن کمشنز حامد خان کی رولنگ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ انھوں نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے مطالبے پر پارٹی عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔

اگر یہ مسئلہ چند ہفتوں تک حل نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں قومی اور صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے۔ عمران خان کی لندن روانگی سے قبل سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں اس مسئلے پر گرما گرم بحث بھی ہوئی تھی اور ایک مرحلے پر پرویز خٹک نے پارٹی عہدے کے بجائے وزارت اعلیٰ چھوڑنے کی پیشکش کی تھی۔ اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ حامد خان کی سربراہی میں کمیٹی اس مسئلے پر غور کرے گی۔

تاہم حامد خان کی سربراہی میں کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ پارٹی رہنما 2 عہدے نہیں رکھ سکتے جس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر چند عہدیداروں نے اس رولنگ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پرویز خٹک نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اس بات کی تردید کردی کہ وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں جس نے پارٹی میں صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری طرف پارٹی کے سینیئر رہنما عمران اسماعیل نے پرویز خٹک کے موقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے اور چیئرمین کی واپسی تک ایڈیشنل سیکریٹری جنرل پارٹی میں قائم مقام سیکریٹری جنرل کے فرائض انجام دے گا۔ پارٹی کی سی ای سی کے ارکان جاوید ہاشمی، اسد عمر، عمران اسماعیل، فوزیہ قصوری اور دیگر پرویز خٹک کے 2عہدوں کے خلاف ہیں لیکن پرویز خٹک وزارت اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پارٹی کی سیکریٹری جنرل شپ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ آنے والے ہفتوں میں پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات زیادہ ابھر کر سامنے آئیںگے اور عمران خان کی لندن سے واپسی پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔