غلام اعظم ہم شرمندہ ہیں

اسلم خان  منگل 16 جولائ 2013
budha.goraya@yahoo.com

[email protected]

مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا، 16 دسمبر 1971کو ہمارے لیے جنگ ختم ہو گئی تھی پھر ہم نے مسلم اُمہ کے نام نہاد اتحاد کی آڑ میں بنگلہ دیش کو باضابطہ تسلیم کر کے مشرقی پاکستان کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ خس جہاں پاک… ہم کم نصیب آدھا ملک گنوا کے مطمئن ہو گئے کہ شوریدہ سربنگالیوں سے خلاصی ہوئی اب عوامی حقوق کی بات کرنے والا، قومی دولت کے ضیاع اور لوٹ مار پر احتجاج کرنے والا کوئی نہ رہا، منہ زور سول اور فوجی بیوروکریسی اور جاگیردار اشرافیہ نے شیطانی گٹھ جوڑ سے عوامی رائے عامہ کو پامال کرکے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار کر دی تھی ‘ظاہر ہے کہ اگر 1970کے انتخابی نتائج کو تسلیم کر کے اقتدار اکثریتی جماعت کو منتقل کر دیا جاتا تو پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔

16دسمبر1971 کو چار دہائی پہلے مشرقی پاکستان میں جنگ ہم کم نصیبوں کے لیے ختم ہوئی تھی لیکن وحدت پاکستان کو بچانے اور بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والے محب وطن بنگالیوں کی جنگ کا دوسرا المناک مرحلہ17 دسمبر 1971 سے شروع ہوا تھا جو 40 سال گزرنے کے بعد آج بھی جاری و ساری ہے۔ مشرقی پاکستان کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دینے والے بنگالیوں کی داستان عزیمت ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سجاد حسین نے مرتب کی ہے جس کا ترجمہ اب پاکستان میں دستیاب ہے۔ خون کے آنسو رُلادینے والی یہ کتاب اُس خون ریز اَن کہی کہانی کو بیان کرتی ہے جسے ہم بھلا دینا چاہتے ہیں۔

جہاں تک سوال ہے پاکستان کا، نہیں جناب، متحدہ پاکستان کے جلیل القدر، فرزند ارجمند 91 سالہ پروفیسر غلام اعظم کا تو انھیں انسانیت کے خلاف  5 سنگین نام نہاد جرائم ثابت ہونے پر 90 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ حسینہ واجد کے تخلیق کردہ نام نہاد عالمی جرائم ٹربیونل (ICT) کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ غلام اعظم کے ثابت شدہ جرائم پر انھیں موت کی سزا دی جانی چاہیے تھی لیکن ان کی پیرانہ سال کی وجہ سے موت کی سزا کوـ ’نرم‘ کر کے 90 سال قید میں بدل دیا گیا ہے۔

ہائے یہ کیا زمانہ آ گیا ہے کہ وفائے وطن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ 16دسمبر 1971 تک مشرقی پاکستان، متحدہ پاکستان کا حصہ اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کا حصہ تھا جسے بیرونی جارحیت کے ذریعے بندوق کے بل بوتے پر جارحیت کر کے الگ کیا گیا تھا۔ اپنے ملک کو غیر ملکی جارحیت سے بچانے کی جدوجہد کرنا انسانیت کے خلاف جرم گردانا جا رہا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ کامیاب انقلاب اپنے قانونی ہونے کی خود دلیل ہوتا ہے‘ اس لیے 40 سال گزرنے کے بعد بھی بنگالی قوم پرستی کے انقلاب کے انڈے بچے آج بھی اپنے مخالفین کے تعاقب میں ہیں۔

رہے پروفیسر غلام اعظم اور ان کے بہادر ساتھی تو وہ اپنے جرم وفا پر شرمندہ نہیں۔ عدل کے ایوانوں کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے گلی کوچوں اور بازاروں میں پاکستان سے محبت کی یک طرفہ لازوال داستان رقم کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی بنگلہ دیش کے کوچہ و بازار میں پاکستان کے نام پر لاشیں گر رہی ہیں۔ خون بہہ رہا ہے ‘عشق بلاخیز کا جنون پوری شدت سے بروئے کار ہے لیکن ہم اپنے نئے پاکستان میں نجانے کیوں شرمندہ شرمندہ ہیں۔ مسلم بنگال کے وارث کہاں گئے مشرقی پاکستان کی بقا کے لیے میدان جنگ میں نکلنے والا، بنگلہ دیش نامنظور تحریک کا ہیرو، جاوید ہاشمی کیوں خاموش ہے؟ بوڑھا ایئر مارشل تو خود پروفیسر غلام اعظم کا ہم عمر ہے اس پیرانہ سالی میں کیسے میدان میں آ سکتا ہے۔

91 سالہ پروفیسر غلام اعظم وہیل چیئر پر بیٹھ کر بھی بنگالی قوم پرستی کے طوفان میں سرراہ وفائوں کے دیپ جلائے جا رہا ہے‘ وہ آج بھی مسلم بنگال کی درخشاں علامت ہے، وہ حسینہ واجد سمیت بنگالی قوم پر ستوں کے لیے مشرقی پاکستان کا زندہ و تابندہ استعارہ ہے، وہی مشرقی پاکستان جس کا نام لیتے ہوئے بھی اب ہم شرماتے ہیں ۔ہم تو کب کے اس کے قتل ناحق کو طبعی موت تسلیم کر کے راضی بہ رضا ہو کر صبر و شکر کر چکے ہیں۔ ساری دنیا حسینہ واجد کے تخلیق کردہ ان نام نہاد بین الاقوامی ٹریبونلز پر ہنس رہی ہے‘ ان کا مذاق اُڑا رہی ہے ‘اسے عدل و انصاف اور قانون سے بھونڈا مذاق قرار دے رہی ہے لیکن ہمارے روشن خیال اس معاملے میں اپنے ضمیر کو تھپکیاں دے دے کر سُلا رہے ہیں۔

جن قوموں کا حافظہ جواب دے جاتا ہے اُن کا مستقبل مخدوش ہو جایا کرتا ہے۔ ہمارا حافظہ تو کب کا جواب دے چکا ہے‘ یہ تو حسینہ واجد کی ’مہربانی‘ہے کہ 91سالہ پروفیسر غلام اعظم کو 90 سال کی مضحکہ خیز سزا سنا کر ہمارے حافظے پر تازیانے برسا کر اسے بیدار کر دیا ہے ورنہ ہم نے تو ان بنگالی وفا شعاروں کو پاکستان میں غیر ملکی بنا دیا تھا جو پاکستان کی محبت کے جرم میں بنگلہ دیش میں اجنبی اور انسانیت کے مجرم قرار پائے ہیں۔ جنھوں نے بنگالی ہوتے ہوئے بنگالی قوم پرستی کے بت آذری پر تیشہ چلایا اور قائد اعظم کا متحدہ پاکستان بچانے کے لیے سبز ہلالی پرچم  اُٹھایا۔ آج نئے پاکستان میں ان کا کوئی والی وارث موجود نہیں۔ کوئی سیاسی مصلحتوں کی بنا پر خاموش ہے، کسی کی روشن خیالی نے اسے سچ بولنے سے روکا لیکن یہ کالم نگار متحدہ پاکستان کے ان وفا شعار فرزندوں کو یاد کرتا رہے گا کہ جنھوں نے اپنے لہو سے چراغ جلا کر حریت کی نئی داستان رقم کی تھی۔ ویسے بھی وفائے وطن پر شرمندگی کیسی۔

جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے

جب تک مسلم بنگال کے ان حریت پسندوں کے وارث، ہم زندہ ہیں، تاریخ کو مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ اگر پاکستان کو جارحیت سے بچانا انسانیت کے خلاف جرم قرار پائے گا تو بھی ہزاروں، لاکھوں، دیوانے فرزانے یہ جرم وفا کرتے رہیں گے۔ اے دانشورو، کالم کارو، روشن خیال جمہوریت پسندوڈھاکا سے آنے والی صدا سنو! وفائے وطن جرم ہے تو ہم یہ جرم کرتے رہیں گے۔ اس کے 4 دہائیاں نہیں 4 صدیاں بھی بیت جائیں ‘ہم سبز ہلالی پرچم اُٹھائے آگے بڑھتے رہیں گے

ہم لوگ اقراری مجرم ہیں۔

بنگلہ دیش کے نام نہاد بین الاقوامی جرائم ٹریبونلز کی کارروائی پر ساری مہذب دنیا تنقید کر رہی ہے جسے انصاف کے عمومی معیار سے فروترقرار دیا جا رہا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ دن دیہاڑے ملزموں کے گواہ صفائی شیخو رانجن بالی کے احاطہ عدالت سے جبر ًا اغوا نے ان عالمی ٹریبونلز کے چہرے کو بے نقاب کر کے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ یہ گواہ صفائی ڈھاکہ پولیس نے پر اسرار طریقے سے سرحد پار کلکتہ کی ڈم ڈم جیل میں پہنچا دیا جو گزشتہ چھ ماہ سے وہاں قید بے گناہی کاٹ رہا ہے شیخو رانجن بالی گزشتہ سال نومبر میں دلاور حسین سعیدی کے حق میں گواہی دینے آیا تھا جس پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ انھوں نے 1971میں شیخو رانجن بالی کے بھائی کو قتل کیا تھا۔ اسی طرح شیخو رانجن پروفیسر غلام اعظم کے مقدمے میں بھی اہم گواہ تھا۔ کلکتہ جیل سے ایک بیان میں شیخو رانجن بالی نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیشی پولیس کے سادہ لباس اہلکاروں نے اسے اغوا کر کے غائب کر دیا تھا۔ شیخو رانجن بالی برملا یہ کہتا تھا کہ اس کے بھائی بشا بالی کو 1971میں قتل کیا گیا تھا لیکن اس واقعے کا پروفیسر غلام اعظم یا دلاور حسین سعیدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیخو رانجن نے انکشاف کیا کہ اسے عالمی جرائم ٹربیونل کے کے احاطے سے پولیس نے اغوا کر کے تھانے پہنچا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔وہ بار بار دلاور حسین سعیدی کو قتل میں ملوث کرنے پر زور دیتے رہے میرے انکار پر انھوں نے دھمکی دی کہ سعیدی تو پھانسی لگے گا تم بھی مارے جائو گے۔ آخر کار دو ماہ پہلے آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھارتی، بارڈر سیکیورٹی فورس(BSF) کے حوالے کر دیا جنھوں نے مجھے مختلف بھارتی جیلوں میں قید رکھا۔ جہاں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ بالی کے الزامات پر بھارتی حکام اور وزارت خارجہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شیخو رانجن بالی کے ڈھاکہ کی عدالت سے اغوا اور کلکتہ کی ڈم ڈم جیل سے برآمدگی حسینہ واجد کی عالمی جرائم کی نام نہاد عدالتوں کے بارے میں بھارت، بنگلہ دیش گٹھ جوڑ کی نشان دہی بھی کر رہی ہیں۔

جس پر ہمارے روشن خیال عناصر، امن کے نعرے لگانے والے، بین الاقوامی سرحد کو دیوار برلن کی طرح مٹانے کے دعوی کرنے والے خاموش ہیں۔ ڈھاکہ کے گلی کوچوں میں 40 سال بعد بھی مشرقی پاکستان کی جنگ جاری ہے۔ اُس کی باز گشت آج ساری دُنیا سن رہی ہے۔ لیکن ہم آنکھیں چُرا رہے ہیں، سَر جھکا رہے ہیں، آخر کیوں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔