ٹرانسپلانٹ کی سہولتیں ناپید خون کے کینسر سے ہر سال3ہزار بچے ہلاک ہونے لگے

اسٹاف رپورٹر  بدھ 17 جولائ 2013
سالانہ 200 بچوں کا ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے رہ جانیوالے بچے مرجاتے ہیں،حکومت نے بلڈ کینسر کیلیے بجٹ نہیں رکھا،ڈاکٹر طاہر شمسی. فوٹو: فائل

سالانہ 200 بچوں کا ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے رہ جانیوالے بچے مرجاتے ہیں،حکومت نے بلڈ کینسر کیلیے بجٹ نہیں رکھا،ڈاکٹر طاہر شمسی. فوٹو: فائل

کراچی:  ملک میں خون کے کینسرز میں مبتلا 3 ہزاربچے موت کاشکار ہونے لگے سالانہ 100بچوں کے بون میروٹرانسپلانٹ ہورہے ہیں۔

تاہم بڑھتی آبادی مریضوں کی تعداد کے باعث بون میروٹرانسپلانٹ کی سہولتیں ناپید ہونے سے خون کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں،ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر ایس شمسی نے بتایا ہے کہ ملک میں سالانہ 10ہزار بچے لمفوما،5ہزار تھیلیسیمیا،2ہزار بچے اے پلاسٹک اینیمیاکے پیدا ہورہے ہیں،مجموعی طورپر17ہزار بچے خون کی مختلف بیماریوں کاشکار ہوتے ہیں ان کی زندگیاں بچانے کیلیے انھیں بون میروٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے ،سالانہ صرف 100بچوں کے بون میروکرکے ان کی زندگی بچائی جارہی ہے۔

پاکستان میں بون میروکی کامیابی کی شرح60 سے80 فیصد ہے ملک بھر میں بون میرو مراکز کی تعداد صرف3 ہے  جہاں سالانہ200 مریضوں کے بون میروٹرانسپلانٹ کیے جارہے ہیں جبکہ  3 ہزار بچوںکوبون میرو کی ضرورت ہے،ملک میں وفاقی و صوبائی حکومتوں  نے خون کے کینسر کے علاج اور  بون میروکے مریضوں کے علاج کیلیے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا ہے،بون میرو کے پرائیویٹ علاج پر 24لاکھ کے اخراجات آتے ہیں  نیشنل انسٹیٹوٹ آف بلڈ ڈیزیز اپنی مدد آپ کے تحت غریب مریضوں کو بون میروکی سہولتیں فراہم کررہاہے انھوں نے مخیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ خون کے کینسر میں مبتلا بچوں کی زندگیاں بچانے کیلیے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز سے تعاون کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔