غیر ملکی کرنسی کے اسمگلرز کے خلاف کارروائی شروع

ارشاد انصاری  بدھ 17 جولائ 2013
بینظیر بھٹو ایئر پورٹ سے غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، اسمگلر گرفتار۔ فوٹو: فائل

بینظیر بھٹو ایئر پورٹ سے غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، اسمگلر گرفتار۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) نے ملک میں مختلف طبقات کی طرف سے لوٹی جانے والی اربوں روپے مالیت کی ملکی دولت غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرکے بیرون ملک اسمگل کیے جانے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈالر، پاؤنڈز سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی  بیرون ممالک اسمگل کرنے والے اسمگلروں کے خلاف کارروائی  شروع کردی ہے اور ایف بی آر کے کسٹمز حکام نے گزشتہ روز بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد سے کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی  اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی اور اسمگلر گرفتار کرلیے تاہم کرنسی اسمگلنگ میں ملوث  گروہ کے سرغنہ  کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کسٹمز حکام کو اطلاع ملی تھی کہ ایئر پورٹ کے ذریعے کچھ لوگ کرنسی اسمگلنگ میں ملوث ہیں جس کے باعث ایئرپورٹ پر ویجیلنس  حکام کو الرٹ کردیا گیا تھا اور چیکنگ و اسکیننگ سخت کردی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسکیننگ کے دوران امیر زیب ولد عادل شیر نامی  مسافر کے سامان سے 2لاکھ 73  ہزار سعودی ریال اور 80ہزار یو اے ای درہم برآمد ہوئے جن کی پاکستانی کرنسی میں 8کروڑ روپے سے زائد مالیت بنتی ہے۔ کسٹمز حکام نے ابتدائی پوچھ گچھ پر  مسافر کو  ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے آنے والے اس کے ساتھی کو بھی گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے  ’’ایکسپریس‘‘ کو ایف بی آر سے دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی ہدایت پر کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے کرنسی اسمگلروں کے خلاف کارروائی سخت کردی ہے اور صرف بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے  33 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی غیرملکی کرنسی پکڑی ہے اور کرنسی اسمگلنگ کے ایک کیس میں 5 لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ایف بی آر کو موصول ہونے والی رپورٹ میں  ملک میں مختلف طبقات کی طرف سے لوٹی جانے والی اربوں روپے مالیت کی ملکی دولت غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرکے بیرون ملک اسمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا  جس پر ایکشن لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) نے ڈالر،پاؤنڈز سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی  بیرون ممالک اسمگل کرنے والے اسمگلروں کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رپورٹ بھجوائی تھی  جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ  پاکستان سے بڑی مقدار میں ڈالر، پاؤنڈ اور دیگر غیر ملکی کرنسی  بیرون ممالک اسمگل ہورہی ہے جس کے باعث ملک میں  ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ  پاکستان سے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کو روکا جائے۔  ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک سے بڑے پیمانے پر ڈالر، پاؤنڈز سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی کے بیرون ممالک اسمگلنگ روکنے کے لیے جامع اور متفقہ پلان مرتب کرکے اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جس کے تحت ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک مل کر پاکستان سے کرنسی کی بیرون ممالک اسمگلنگ روکنے کیلیے کرنسی کے اسمگلروں کے خلاف کاروائی شروع کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر کے ایئر پورٹس اور بندرگاہوں پر  چیکنگ  کو سخت کردیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ملک میں روپے کے مقابلے میں غیر ملکی کرنسی کے رائج  4 مختلف ریٹس کا بھی سختی سے نوٹس لے لیا ہے اور اسے روکنے کے لیے کارروائی کرنے  کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے علم میں آیا ہے کہ اس وقت ملک میں ڈالر کے 4مختلف ریٹس چل  رہے ہیں جن میں پہلا انٹر بینک ریٹ ہے جو قانونی  ہے، اس وقت  ڈالرکا انٹربینک ریٹ 98.30 روپے ہے جبکہ دوسرا ڈالر کیش ریٹ چل رہا ہے جو  منی چینجرز چلا رہے ہیں اور یہ  بھی دو ریٹ ہیں، پہلے میں اگر ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار ڈالر تک لینا ہوں تو اس صورت میں ایک ڈالر  100.20روپے میں فراہم کیا جاتا ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار سے زائد ڈالر درکار ہوں تو اس کے لیے100.50روپے  سے100.60 روپے ریٹ چارج کیا جاتا ہے جبکہ چوتھا ریٹ حوالہ ہے جس کے تحت ڈالر کا ریٹ 102.50روپے فی ڈالر چل رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ  یہ وہی صورتحال ہے جو 2001 میں تھی اور اگر اس پر قابونہ پایا گیا تو مقامی ترسیلات زر  نہ ہونے کے برابر ہونے کا خطرہ ہے جس سے ڈالر مزید مہنگا اور روپے کی قدر  مزید کم ہو جائے گی جس سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔