آزادی

ذیشان الحسن عثمانی  جمعرات 17 جنوری 2019
نفس کی بلا شرکتِ غیرے غلامی کو آزادی کہتے ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

نفس کی بلا شرکتِ غیرے غلامی کو آزادی کہتے ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

جو چاہیں وہ بولنے، کرنے، سمجھنے اور سننے کے حق کو آج کل ’’آزادی‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا ڈھنڈورا ایک لازمی انسانی حق کے طور پر ایک صدی سے پیٹا جارہا ہے۔ اس آزادی سے کس کی ’’آزاری‘‘ ہو، کوئی فکر نہیں۔ جو چاہو سو کرو، جو چاہو وہ بولو، وہ لکھو، وہ سنو، اس پر عمل کرو۔ یہ آپ کا حق ہے جو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ جیسے چاہو رہو، جو چاہو پہنو یا نہ پہنو۔ اپنی دنیا، اپنا دین، اپنا معاشرہ جیسے چاہو ترتیب دو۔ آپ مالک ہو۔

مختصراً یہ کہ نفس کی بلا شرکتِ غیرے غلامی کو آزادی کہتے ہیں۔

انسانیت کے نام پر آزادی کا یہ بُت، ایمان سے آگے نکل جاتا ہے۔ بندہ جب کلمہ پڑھ لے تو بھلا آزاد کہاں رہتا ہے؟ نہ سب کچھ بولنے کی آزادی، نہ کرنے کی، نہ سننے کی، کوئی نہ کوئی ضابطہ اخلاق اور قانون تو ہوتا ہی ہے۔

آپ کے گھر میں، شہر میں، ملک، کمپنی، بزنس میں آپ کو سینکڑوں قوانین مل جائیں گے جنہیں آپ بنا چوں وچرا تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر جب بات آتی ہے اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کی، اپنے دین کی، اپنی شخصیت کی تعمیر کی، تو ہمیں ہر قسم کی آزادی چاہیے۔

ہر وہ آزادی جو آپ کو خدا سے دور لے جائے، بندگی کا شرف چھین لے اور انسانوں اور جانوروں میں فرق باقی نہ رکھے، بھلا کس کام کی؟

قیدیوں کو زنجیریں پہنائی جاتی ہیں کہ انہیں اپنی قید کا دھیان رہے، اور باقی لوگوں کو بھی تنبیہ رہے کہ وہ پابند ہیں۔

امریکہ میں Visual reminder وژول ریمائنڈر کی تکنیک سیکھی تھی۔ مثلًا اگر آپ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر کچھوا رکھ دیں گے تو وہ آپ کو آہستہ چلنے کا لاشعوری پیغام دیتا رہے گا اور آپ اوور اِسپیڈنگ نہیں کریں گے۔

پہلے زمانے میں جانوروں کے گلے میں جوتا ڈال دیا جاتا تھا یا رنگ لگا دیتے تھے کہ معلوم ہو کہ یہ صدقے کے ہیں۔ آپ بھی کوئی وژول ریمائنڈر ڈھونڈ لیں جو آپ کو صرف اتنا یاد دلاتا رہے کہ آپ مسلمان ہیں اور کافروں کی طرح مادر پدر آزاد نہیں۔ جیب میں تسبیح رکھ لیں، موبائل میں کوئی اسلامی ٹون لگا لیں، گاڑی میں قرآن رکھ لیں، آفس میں جانماز رکھ لیں۔ بیڈ روم میں کسی آیت کو لکھ کر لگا لیں، قبر کی تصویر لگا لیں کہ یاد دِہانی ہوتی رہے۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ جس شخص کو دیکھ کر خُدا نہ یاد آئے وہ اس قابل ہی نہیں ہوتا کہ اسے فالو کیا جائے۔ خواہش ہی رہی کہ فیس بک پر ٹاپ ٹین پاکستانیوں کی لسٹ بناؤں جنہیں فالو کیا جائے، مگر آج تک 10 لوگ ایسے ملے ہی نہیں۔ جو اس قابل ہیں کہ انہیں فالو کیا جائے وہ فیس بک پر نہیں، اور جو میرے جیسے نالائق فیس بک پر ہیں وہ اس قابل نہیں کہ انہیں فالو کیا جائے۔

شخصی آزادی کے نقصانات اس کے فوائد سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جہاں قرآن و سنت نے آزادی دی ہے وہ آزادی ہے۔ جہاں روک دیا وہاں رک جائیں۔

کوئی رنگ، کوئی جوتا، کوئی نشانی تو ایسی چھوڑیں ناں کے دیکھنے والے کو پتا لگے کہ آپ مسلمان ہیں اور الله کی راہ پر ہیں؛ باقی خرافات کے لیے دستیاب نہیں۔

اللہ ہمیں اپنے ذکر کی آزادی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

ذیشان الحسن عثمانی

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ فیلو اور آئزن ہاور فیلو ہیں۔ ان کی تصانیف http://gufhtugu.com/authors/zeeshan-ul-hassan-usmani/ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔