کینجھر جھیل میں آلودہ پانی کی فراہمی کے خلاف درخواست پر نوٹس

اسٹاف رپورٹر  بدھ 17 جولائ 2013
فاضل بینچ نے درخواست گزار کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعاعلیہان کو 28اگست کے لیے نوٹس جاری کردیے۔ فوٹو: فائل

فاضل بینچ نے درخواست گزار کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعاعلیہان کو 28اگست کے لیے نوٹس جاری کردیے۔ فوٹو: فائل

کراچی:   سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کراچی کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے ایک بڑے ذریعے کینجھر جھیل سے آلودہ پانی کی فراہمی کے خلاف درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری آبپاشی ،سیکرٹری صنعت ، ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات، ، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کمشنر کراچی کو نوٹس جاری کردیے۔

درخواست گزار این جی او ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان نے درخواست میں موقف اختیا رکیا ہے کہ کوٹری اور نوری آباد کی صنعتوں کا آلودہ کیمیائی پانی کینجھر جھیل میں گرتا ہے جس کی وجہ سے کراچی اور ٹھٹھہ کے رہائشیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جو یہ مضرصحت پانی استعمال کرتے ہیں ، درخواست گزار کے مطابق صنعتی آلودہ پانی سے نہ صرف انسانی زندگیوں کوخطرات لاحق ہیں بلکہ اسکی وجہ سے جھیل کے قدرتی ماحول کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے آبی حیات بھی متاثر ہورہی ہے اور ماہی گیروں کے ذریعہ معاش پر بھی اثر پڑ رہا ہے، فاضل بینچ نے درخواست گزار کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعاعلیہان کو 28اگست کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔