لاپتہ افراد کیس سپریم کورٹ کی اقوام متحدہ کے نمائندے کو دفتر بلا کر تفتیش کی ہدایت

نمائندہ ایکسپریس  بدھ 17 جولائ 2013
حاضر سروس فوجی اغوا میں ملوث ہوگا تو کارروائی کریں گے، اگر گرفتاری سے بچنا ہے تو لاپتہ شخص تلاش کرکے لایا جائے، افتخار محمد چوہدری کے ریمارکس  فوٹو فائل

حاضر سروس فوجی اغوا میں ملوث ہوگا تو کارروائی کریں گے، اگر گرفتاری سے بچنا ہے تو لاپتہ شخص تلاش کرکے لایا جائے، افتخار محمد چوہدری کے ریمارکس فوٹو فائل

اسلام آ باد:  سپریم کورٹ نے لاپتہ افرادکیس میں لاہور پولیس کوہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے لاپتہ افرادکے نمائندے کو بلا کر تفتیش کرے۔

اگر غیر ملکیوں کواس طرح سے استثنیٰ دیا جاتا رہا توملک سے جرائم کبھی ختم نہیں ہوں گے، پولیس اپنے فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید پرمشتمل3 رکنی بینچ نے لاہور سے3برس قبل لاپتہ ہونیوالے مدثرنامی شخص سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کسی کی کالونی نہیں ہے ، نیویارک، لندن ، پیرس میں پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھا جاتا ہے مگر اپنے ملک کے دارالخلافہ میں بھی اگر بین الاقوامی اداروں کے نمائندے پاکستانی افسران کی توہین کرتے رہیں گے توبرداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر اقوام متحدہ ورکنگ گروپ کی رپورٹ غلط ثابت ہوئی تو رپورٹ جاری کرنے والوں کونتائج بھگتنا پڑیں گے۔

عدالت نے کہاکہ اقوام متحدہ سمیت پاکستان میں کام کرنے والاکسی بھی بین الاقوامی ادارے سے کسی معاملے میں بھی پاکستانی تفتیشی ایجنسیوں کو پاکستانی آئین کے تحت تفتیش کرنے سے روکانہیں جا سکتا عدالتیں واویلا اسی لیے کرتی ہیں تاکہ ہمارے شہریوں کی عزت کی جائے، ہم ملکی آئین کی ہرصورت عزت کرائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ دستاویزات کی حد تک تو ہم آزاد ہو چکے ہیں تاہم بین الاقوامی اداروں کا پاکستانیوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ پاکستان1947ء میں آزاد ہوا بھی تھا اور غیر ملکی طاقتوں کے غلام نہیں رہے ۔ مقدمے کی مزید سماعت24 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔ دریں اثناچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے قانون سے بالاترکوئی نہیں، اگر حاضر سروس فوجی اہلکار کسی لاپتہ شخص کے اغوا میں ملوث ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔لاپتہ تاسف علی دانش کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی حاضر سروس اہلکار نے گرفتاری سے بچنا ہے تو مذکورہ لاپتہ شخص تلاش کرکے لایا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل3 رکنی بنچ نے منگل کوکیس کی سماعت کی۔ملٹری انٹیلی جنس ( ایم آئی) کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے قانون کا مطالعہ کیے بغیر ہی فوجی افسران کے استثنیٰ سے متعلق بیان دے دیا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک تھانیدار حاضر سروس میجر کوہتھکڑیاں لگادے۔ دلائل کے دوران فاضل وکیل جذباتی ہوگئے جس پر چیف جسٹس نے ابرہیم ستی کے اونچا بولنے پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا اس طرح اونچا بولنے سے شائد آپ اپنے موکل کو تو مطمئن کرلیں لیکن عدالت پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اور بھی بہت سے کیسز میں فوجی افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ ایم آئی کے اس حوالے سے تحفظات ہیں،آرمی افسران قانون سے بالاتر نہیں ہیں لیکن ان کے خلاف صرف آرمی ایکٹ کے تحت ہی کارروائی کی جا سکتی ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ایک تھانیدار جاکر ایک حاضر سروس میجر کو ہتھکریاں لگا دے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس صورتحال سے بچنا ہے تو مغوی کو پیش کردیں سارا معاملہ ہی ختم ہوجائے گا۔فاضل وکیل کا کہنا تھا کہ تاسف علی ایم آئی کے قبضے میں نہیں ہے اور نہ ہی میجر حیدر کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسے تلاش کرکے لے آئیں۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ ایم آئی کو اس معاملے میں نہ تو کچھ علم ہے اور نہ ہی اسے تلاش کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے اگر آپ نے تعاون نہیں کرنا تو آرمی ایکٹ کے حوالے سے بحث کرلیں، ہم آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دے دیں گے۔

ابراہیم ستی نے کہا کہ جو لوگ فوج کے حراستی مراکز میں قید ہیں، ان کے حوالے سے بتا دیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ فوج پر ایسے الزامات کیوں لگ رہے ہیں؟اگر کوئی مجرم ہے تو قانون کے مطابق اسے گرفتار کریں اور مقدمات چلائیں۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کے حوالے سے یو ٹرن لے لیا ہے۔ جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ کسی نے کوئی یو ٹرن نہیں لیا ہے، یہ تو پرانا موقف ہے ۔ستی نے کہا کہ کیس کی سماعت پرسوں تک رکھ لیں ، اگر اٹارنی جنرل اور وفاق کا موقف ایک جیسا ہوا تو وہ خود ایم آئی کو مشورہ دیں گے کہ وہ اپنے افسران پولیس کے حوالے کردے۔ فاضل عدالت نے بعد ازاں مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔