بھارتی ’’ پھینکنالوجی‘‘

محمد عثمان جامعی  اتوار 20 جنوری 2019
یہ انکشافات گزشتہ دنوں ہونے والی انڈین سائنس کانگریس میں کیے گئے۔ فوٹو: فائل

یہ انکشافات گزشتہ دنوں ہونے والی انڈین سائنس کانگریس میں کیے گئے۔ فوٹو: فائل

لمبی لمبی چھوڑنا تو سُنا تھا، لیکن بھارتی ’’سائنس دانوں‘‘ کے انکشافات سُن کر پتا چلا کہ دور بلکہ بہت دور کی بھی چھوڑی جاتی ہے۔ یہ انکشافات گزشتہ دنوں ہونے والی انڈین سائنس کانگریس میں کیے گئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک صاحب نے ہندو اساطیری مواد سے ’’ثبوت‘‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیم سیل تحقیق کو ہزاروں سال قبل بھارت میں دریافت کیا گیا تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ہندواساطیری داستان ’’مہابھارت‘‘ کے مطابق ایک خاتون کی 100اولادیں تھیں، اب ظاہر ہے یہ سینچری اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اور ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی ہی کی مدد سے پوری کی گئی۔

مزید فرمایا ’’رامائن‘‘ میں ایک ایسے راجا کا ذکر آیا ہے جس کے پاس چوبیس اقسام کے ہوائی جہاز تھے اور جس نے آج کے سری لنکا میں ہوائی اَڈوں کا جال بچھایا ہوا تھا۔ ایک اور ’’سائنس داں‘‘ نے آئزک نیوٹن اور آئن اسٹائن کے تصورات کو غلط قرار دیتے ہوئے ارشاد کیا کہ کششِ ثقل کی لہروں کو ’’نریندرا مودی ویوز (Waves)‘‘ کا نام دیا جانا چاہے۔ کانفرنس میں یہ بھی منکشف ہوا کہ وشنو دیوتا گائڈڈ میزائل استعمال کرتے تھے، جسے ’’وشنو چکر‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

یہ انکشافات پڑھ کر آپ خنداں ہوں، حیران ہوں نہ پریشان، دراصل یہ ’’ہندوتوا سائنس‘‘ ہے جو مودی سرکار کے دور میں متعارف ہوئی ہے۔ خود مودی جی کہہ چکے ہیں کہ کاسمیٹک سرجری سب سے پہلے بھارت میں ہزاروں سال قبل کی گئی۔ یہ کارنامہ گنیش دیوتا کی صورت میں سامنے آیا، جن کے انسانی دھڑ پر ہاتھی کا سر لگایا گیا۔

ہمیں مودی جی اور ان کی ہندوتوا سوچ والے ان سائنس دانوں کے دعوؤں پر کوئی اعتراض نہیں، وہ ان دعوؤں کو شوق سے اپنے تعلیمی نصاب میں بھی شامل کریں اور دنیا کے سامنے سینہ ٹھونک کر کہیں ’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ بس ہماری ان سے اتنی ’’بِنتی‘‘ ہے کہ سرکار! ہزاروں سال پُرانی ان ایجادات کو بھارتی ٹیکنالوجی کے بجائے اتنی لمبی لمبی پھینکنے کی وجہ سے اسے ’’بھارتی پھینکنالوجی‘‘ کا نام دیا جائے۔

ہم سوچ رہے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کرلینے والی قوم جس کے ’’کَنے‘‘ ہوائی جہازوں سے لے کر گائڈڈ میزائل تک سب کچھ تھا، وہ مسلمان فاتحین کے ہاتھوں زیر کیسے ہوگئی؟ ہمارے خیال میں ہوا یہ کہ بھارتیوں کے پُرکھے اسٹیم سیل، ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی، ہوائی جہاز، گائڈڈ میزائل اور کاسمیٹک سرجری جیسی ایجادات ہی میں لگے رہے اور تیر کمان، تلوار، نیزے، ڈھال، بندوق اور توپ وغیرہ نہ بنا پائے، چناں چہ ان ہتھیاروں سے مسلح ’’مُسلے‘‘ گُھس بیٹھ کر بھارت پر راج کرنے لگے۔

ممکن ہے یہ ہوا ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی کے ذریعے مائیں سو سو بچے جنم دینے لگی ہوں اور باپ ساری سائنس ٹیکنالوجی بھول کر بچے پالنے میں لگ گئے ہوں، یوں رفتہ رفتہ بھارت اپنی سائنسی ترقی سے محروم ہوگیا۔ کاش بھارتی اسٹیم سیل اور ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی ہی بچ جاتی تو کتنے ہی لوگ کترینہ کیف، کرینہ کپور، پریانکا چوپڑا اور دیپیکا پاڈوکون کی ماتاؤں سے فرمائش کر رہے ہوتے ’’ایسی پندرہ بیس اور ہوسکتی ہیں؟‘‘



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔