مسائل حل کرنے کے آسان طریقے

عبدالقادر حسن  بدھ 17 جولائ 2013
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

انہونی سی بات ہے کہ آج کے اخباروں میں کوئی ایسی خبر نہیں جس پر کالم لکھا جا سکے۔ یوں تو اخباروں کا ایک پلندہ سامنے پڑا ہے لیکن آج یہ سارا کاغذوں کا ایک ڈھیر لگتا ہے جن  پر کچھ لکھا نہیں ہے سوائے ایک خبر کے کہ ڈالر کی قیمت اب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے یعنی ایک ڈالر اب ایک سو سے اوپر چلا گیا ہے۔ مبارک ہو ہمارے ان لاتعداد پاکستانیوں کو جن کے غیر ملکوں میں سرمایہ جمع ہے جو خود بخود پڑے پڑے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیاکے یہ واحد شہری ہیں جو کسی کاروبار کے بغیر ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور امیر ہوتے جا رہے ہیں مگر ایک مشکل ہے کہ وہ جس قدر بڑھتے ہیں پاکستان اسی قدر گھٹتا ہے یعنی کہیں تو پاکستان بڑھ رہا ہے اور کہیں گھٹ رہا ہے۔

لگتا ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا تا آنکہ ہمارے غیر ملکی کرنسی رکھنے والے اس قدر بے تحاشا اضافے سے گھبرا کر ملک ہی چھوڑ جائیں کہ معاشی اصولوں کی اس قدر خلاف ورزی جو پاکستان میں ہو رہی ہے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ میں شاید پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ چند برس پہلے سیٹھ عابد نے کہا تھا کہ ڈالر ایک سو روپے تک جائے گا تب ڈالر کوئی پچاس ساٹھ روپے کا تھا۔

میں نے اس بلا کے کاروباری کو کچھ بوڑھا سمجھ کر معاف کر دیا لیکن اب وہ ملیں تو عرض کروں کہ جناب مہربانی کریں اس ڈالر کو کہیں روکیں درست کہ آپ جیسے لوگوں کے لیے ڈالر کی قیمت میں اضافہ حالات کی ایک اچانک مہربانی سہی لیکن ہم غریب لوگ جن کے کاروباری حضرات اپنی مصنوعات وغیرہ کی قیمت ڈالر میں متعین کرتے ہیں وہ یہ اشیاء ہمیں بھی اسی قیمت پر فراہم کرتے ہیں مگر ہم بہت غریب ہیں ہماری ایک غربت تو کاروبار کی بندش کی وجہ سے ہے کیونکہ ہماری زندگی بجلی سے چلتی ہے اور وہ نہیں ہے دوسری بڑی وجہ اوپر کے طبقے کی لوٹ کھسوٹ ہے جو ہر کسی نے اربوں میں کی ہے اور یہ اربوں روپے ہماری جیبوں سے نکل کر اوپر گئے ہیں اب یہ جیبیں خالی ہیں اور لگتا ہے کہ خالی ہی رہیں گی۔

خود کشیاں بڑھتی جا رہی ہیں جب رزق کے تمام راستے بند ہوں تو پھر بال بچوں کو بھوکا مرتا دیکھ کر خود مر نہ جائیں تو کیا کریں۔ ہمارے بعض حکمران تو کتوں بلیوں کی موت کے بھی ذمے دار بنتے تھے اگر وہ آج ہوتے تو پتہ نہیں کیا کرتے وہ تو ایسی کسی بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور اس کا اپنے آپ کو ذمے دار سمجھتے تھے بلکہ ان کی ذمے داری کے عجیب کرشمے تھے۔ دارالحکومت سے بہت دور جنگل میں بھیڑیا بکری کو اچک لے گیا۔ اس میں کسی بھی حکمران کا کوئی قصور نہ تھا لیکن ریوڑ کے مالک چرواہے نے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ اس کے بیٹے نے کہا کہ بابا یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے آپ کیوں اس قدر پریشان ہو رہے ہیں اتنے بڑے ریوڑ سے ایک بکری چلی گئی تو کیا ہو گیا۔

اس جہاندیدہ بوڑھے نے جس کا سینہ بھی روشن تھا بیٹے سے کہا کہ میں ایک بکری کے لیے نہیں، رو اس لیے رہا ہوں کہ آج میرا خلیفہ اور حکمران مر گیا ہے۔ بتاتے ہیں کہ بالکل اسی وقت دمشق میں عمر بن عبدالعزیز فوت ہو گئے تھے جن کی برکت سے ملک محفوظ تھا۔ انھیں ان کے خاندان والوں نے زہر دے دیا تھا کیونکہ وہ ان کی جاگیروں کو ختم کرتے جا رہے تھے اور ان کے شاہی خاندان کے برے اثرات کو ملیامیٹ کر رہے تھے عوام کو ان سے آزاد کر رہے تھے۔ آج کے حکمران شاید اخباروں میں کسی پاکستانی غریب کی خود کشی کی بدمزہ کرنے والی موت کی خبر بھی نہیں پڑھتے ہوں گے ان کی زندگیاں ان پریشان کن خبروں اور حالات سے محفوظ ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ جس لوڈشیڈنگ نے قوم کی عام زندگی اور روزے ایک بہت بڑی آزمائش بنا دیے ہیں یہ ان کے محلوں میں نہیں ہوتی۔ کچھ پہلے کی بات ہے کہ صحافیوں سے ایک ملاقات میں بجلی چلی گئی سابق حکمران کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ انھوں نے اپنے عملے کے ایک صاحب کو جو ان دنوں وزیر ہیں بلا کر کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن اتنے میں جنریٹر چل گیا تھا بجلی بحال ہو گئی تھی اور ان صاحب کی بچت ہو گئی۔ اب غور فرمائیے ان لوگوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب کا پتہ کیسے چل سکے۔ ملک کے مسائل لاتعداد ہیں اور وجہ یہی حکمران ہیں اب یہی ان مسئلوں کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر کیا یہ اور کیا ان کی کوشش، ان کی بچہ پارٹی جن وزراء پر مشتمل ہے ایسے ایسے گل کھلا رہی ہے کہ لوگ ان مصائب کے باوجود جو ان کو لاحق ہیں ہنس پڑتے ہیں۔

میرے پاس قوم کے مصائب کا حل موجود ہے لیکن اس پر عمل کون کرے گا یہ معلوم نہیں ہے جو کچھ کسی زمانے میں ایک عام معمول تھا اب وہ ایثار اور قربانی بن گیا ہے۔ ہمارے میاں صاحبان کی طرح ایک حکمران کاروبار بھی کرتا تھا وہ حکمران بن گیا تو عوام کے نمایندوں نے اس سے کہا کہ اب آپ یہ کاروبار چھوڑ دیں کیونکہ جس بازار میں آپ کی دکان ہو گی اس میں کوئی گاہک کسی دوسری دکان پر کیسے جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی اور اعلان ہوا کہ آج سے دکان بند ۔اب اس کے روز مرہ کے اخراجات کی بات ہوئی تو اس سے ہی پوچھا گیا کہ اب آپ کی تنخواہ کتنی ہو۔ جواب ملا جتنی اس شہر کے مزدور کی مزدوری ہے۔ کہا گیا کہ یہ تو بہت کم ہے اس سے آپ کی حکمرانی کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ اس کا حل یہ بیان ہوا کہ میں مزدورکی مزدوری بڑھا دوں گا اور ہماری تنخواہ بھی خود بخود بڑھ جائے گی۔

یہ ایک مشہور واقعہ ہے لیکن مسلمانوں کے حکمرانوں کی یاد دہانی کے لیے اسے مکرر عرض کیا ہے۔ہمارا ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہمارے حکمرانوں کا مسئلہ حل ہو جائے۔ اگر حکمرانوں کو ایسی شاندار زندگی بسرکرنی ہے جس کی قیمت کوئی غریب پاکستانی خود کشی کی صورت میں ادا کرے تو پھر اس ملک کا کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا۔

سوال حکمرانوں کے رویے کا ہے ان کی سوچ کا ہے اور ان کے احساس ذمے داری کا ہے جو قوم نے ان کے سپرد کی ہے اور جسے انھوں نے بہت خرچ محنت اور شوق کے ساتھ حاصل کیا ہے اب وہ اپنی اس نعمت کا شکر ادا کریں یعنی عوام کی مناسب حد تک خدمت کر کے۔ اپنے شاہی خزانوں میں سے کچھ بھی نہ دیں صرف قومی خزانوں کی حفاظت کریں اور انھیں خالی نہ ہونے دیں جو بالکل ممکن ہے اور اس میں اگر کسی کو شبہ ہو تو میں معاشیات کے علم اور کاروبار سے بے بہرہ آدمی اس کے ساتھ مناظرہ کرنے پر تیار ہوں لیکن ایک عرض کر دوں کہ یہ مناظرہ ان کو مہنگا پڑے گا ان کی زندگی میں خلل انداز ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔