بجلی کا بحران

شبیر احمد ارمان  بدھ 17 جولائ 2013
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے، پانی اور بجلی کے ستائے ہوئے شہری مظاہرے، نعرے بازی کرنے پر مجبور ہیں اور کچھ دل جلے ہجوم اس دوران گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کر دیتے ہیں۔ جب کہ اس عمل میں بھی بے قصور لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین چیخ رہے ہیں کہ ان کے علاقے میں بجلی 12 سے15 گھنٹے غائب رہتی ہے۔ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

طلباء کی پڑھائی بھی شدید متاثر ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو امور خانہ داری میں دشواری کا سامنا ہے۔ جب کہ ضعیف العمر افراد کے لیے گرمی پہلے ہی ناقابل برداشت ہے۔ رہی سہی کسر بجلی کی عدم فراہمی پوری کر رہی ہے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کی فراہمی بھی معطل ہو کر رہ گئی ہے، علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکر مافیا نے بھی نرخ بڑھا دیے ہیں۔ انسانی ضروریات زندگی میں بنیادی جزو کے حامل پانی اور بجلی کی عدم فراہمی نے ان کی زندگی کو دو دھاری تلوار بنا دیا ہے۔ لوگ چلا رہے ہیں کہ ’’ان کے علاقے میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق بحال کی جائے۔‘‘

’’بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ابتدائی مرحلے میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے گی۔ اگلے مرحلوں میں بحران جلد سے جلد حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے‘‘ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے ایک دن پہلے یعنی4 جون کو رائے ونڈ میں توانائی بحران کے حل کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے۔ ہماری دعا ہے اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے انھیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

واضح رہے کہ نواز حکومت آیندہ 5 سالہ منصوبے کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو صرف ماہانہ ایک سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین تک کر دے گی اور گیس بحران کے خاتمے تک نئے سی این جی اسٹیشنز کے قیام پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ منصوبے کے تحت 5 سال میں مقامی وسائل سے10 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور اس کی ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک پر 31 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔ منصوبے کے مسودہ کے مطابق وہ صنعتی صارفین جو 50 فیصد اضافی قیمت دیں ان کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے الگ ٹیرف متعارف کرایا جائے گا۔ لائن لاسز جواس وقت 20 فیصد تک ہیں انھیں 10 فیصد پر لایا جائے گا۔ فرنس آئل پر چلنے والے تھرمل پاور پلانٹس کو 2 ارب ڈالر کی لاگت سے کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔

تا کہ بجلی کی لاگت کم ہو جائے۔ سندھ میں تھر کے کوئلے سے5000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ آیندہ 5 سال میں مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار کے لیے21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے جب کہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک پر ہو گی، بجلی صارفین کے لیے پری پیڈ بلنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ پری پیڈ بلنگ سسٹم وصولیاں بہتر بنائے گا۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ سولر ہوا، گنے کے پھوک (بگاس) اور بائیو گیس سے بجلی کی پیداوار منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

بجلی پیداواری اور تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات کی جائیں گی۔ پانچ سال میں گیس کی پیداوار یومیہ 4.33 ارب معکب فٹ سے 5.12 ارب معکب فٹ تک بڑھائی جائے گی۔ 5 سال میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کھودے جانے والے کنوؤں کی تعداد سالانہ100 سے بڑھاکر 130 کی جائے گی۔ گیس کی قیمتوں میں توازن لایا جائے گا۔ گیس بحران کے خاتمے تک نئے سی این جی اسٹیشنوں کے قیام پر پابندی ہو گی۔

عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بجلی تک رسائی سے محرومی میں دنیا بھر میں پاکستان کا 16 واں نمبر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ پاکستانی آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ انھیں کب اور کیسے بجلی فراہم کی جائے گی اسی حوالے سے زیر نظر تحریر میں جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نواز حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے آیندہ مالی سال کے دوران کراچی میں چین کے تعاون سے جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سے 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ ’’کراچی کوسٹل پاور اینڈ کاسٹنگ‘‘ کے نام سے اس منصوبہ پر اخراجات کا مجموعی تخمینہ 9.5 ارب ڈالر (950روپے) لگایا گیا ہے۔ جس کے لیے آیندہ مالی سال 2013-14ء کے بجٹ میں 7.5 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

جب کہ 65 ارب روپے کے غیر ملکی قرضے لیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں حکومت چین سے ایک ایک ہزار میگاواٹ کے حامل دو نیو کلیئر پاور پلانٹ بھی خرید رہی ہے جسے توانائی کے بحران کو دور کرنے کے لیے کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ (کینپ۔ 2 اور کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ ( کینپ)۔ 3 میں نصب کیا جائے گا۔ انرجی سیکیورٹی ایکشن پلان کے مطابق بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے جوہری توانائی پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت 2030ء تک جوہری بجلی گھر سے 8 ہزار 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ بعنوان ’’گلوبل ٹریکنگ فریم ورک‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روئے زمین پر تقریباً ایک ارب 20 کروڑ افراد کی بجلی تک رسائی نہیں ہے یعنی تقریباً سوا ارب انسانوں کے بجلی سے محرومی کا مطلب ہے کہ دنیا کی کل آبادی7.09 ارب انسانوں میں17 فیصد لوگ پتھر کے عہد میں رہ رہے ہیں۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت توانائی کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔ کیونکہ اس کی آبادی کے30 کروڑ 62 لاکھ افراد اب بھی اس بنیادی ضرورت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ اس گھمبیر حقیقت کے باوجود بھارت کی جانب سے پاکستان کو ایک ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل بھارت نے600 میگاواٹ بجلی فروخت کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ادھر امریکا نے پاکستان میں توانائی کے بحران کے حل کے لیے نواز حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ اس مسئلے کو صحیح معنوں میں حل کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ امریکا پاکستان میں بجلی پیداوار کرنے کے کئی منصوبوں میں تعاون فراہم کر رہا ہے جس سے800 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہے اور 300 سے400 میگاواٹ عنقریب شامل ہو جائے گی۔ لیکن یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر برائے افغانستان و پاکستان ایکس تھیئر نے نواز حکومت پر اس تعاون کی شرائط واضح کر دی ہیں کہ بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری نہیں ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ بد انتظامی کے باعث منگلا اور تربیلا ڈیم کی کارکردگی50 فیصد رہ گئی ہے، پاکستان کی طویل المدتی معا شی ترقی بھارت اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راہداریاں کھولے بغیر ممکن نہیں، ایسا انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے۔

مذکورہ بالا صورتحال کے پیش نظر یہ امر واضح ہے کہ نواز حکومت کو ورثہ میں ملا ہوا بجلی بحران زبردست چیلنج ہے اور ا سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھانے کی کوششیں عروج پر ہیں جس کے لیے اربوں ڈالر درکار ہونے کے علاوہ قرضے فراہم کرنے والے ممالک کی من پسند شرائط بھی قبول کرنی ہوں گی کیونکہ وہ اپنی رقم کی واپسی کا تحفظ چاہتے ہیں۔ ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کا ایک حل بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت کو کم کرنے میں بھی ہے۔

بادی النظر میں تمام تر اقدامات کے نتائج اگلے5 سال میں سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔ فوری نتائج کے خواہاں زیادہ توقع نہ کریں البتہ حکومتی کوششوں کے نتیجے میں یہ ہو سکتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کچھ کمی واقع ہو سکتی ہے مکمل خاتمہ کے آثار نظر نہیں آتے اب یہ نواز حکومت کی صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اپنے انتخابی وعدے کے مطابق بجلی کی مد میں عوام کو سہولت فراہم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔