دیکھو یہ ہے تمہاری تاریخ

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 17 جولائ 2013

انقلاب فرانس کو ئی چھوٹا موٹا مقامی سانحہ نہ تھا بلکہ تاریخ عالم کا ایک عظیم کارنامہ تھا جس نے دور نزدیک کے سبھی ملکوں کی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور سماجی زندگی کی کایا پلٹ دی۔ لینن نے کہا تھا کہ سماجی انقلاب سے پیشتر فکری انقلاب لانا پڑتا ہے کیونکہ سماجی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جو انقلابی عزم و ارادہ درکار ہوتا ہے اس کی لازمی شرط سماج کے ابھرتے ہوئے عناصر میں انقلابی شعور کی تربیت ہے اور شعور و احساس کی اس تربیت میں برسوں صرف ہوتے ہیں ۔

چنانچہ اٹھارہویں صدی کے فکری انقلاب میں فرانس کے روشن خیال دانشور پیش پیش تھے ان دانشوروں میں ژان ژاک روسو کا نام سر فہر ست ہے اسے انقلاب فرانس کا نقیب بلکہ رہبر کہا جاتاہے روسو 1712ء میں جنیوا میں پیدا ہوا بارہ سال کی عمر میں اس نے تعلیم ترک کر دی اور روزی کمانے کی کوشش کرنے لگا لیکن جی کسی کام میں نہیں لگا 16سال کی عمر میں وہ جنیوا سے سوائے چلا گیا مگر معاشی تنگی نے وہاں بھی ساتھ نہ چھوڑا تو مجبوراً ایک کیتھولک پادری کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں پروٹسٹنٹ تھا اب رومن کیتھو لک ہونا چاہتا ہوں پادری نے اس کی بڑی آؤ بھگت کی اور روسو کے دن آرام سے گذرنے لگے کچھ عرصے بعد جب پادریوں کو پتہ چلا کہ مذہب کی تبدیلی دراصل فریب تھا تو انھوں نے روسو کو خانقاہ سے نکال باہر کیا۔

اس کے بعد روسو شہروں شہروں مارا ما را پھرتا رہا آخر تنگ آ کر روسو پیرس چلا گیا اب تک روسو کی زندگی عشق و عاشقی اور آوارہ گردی میں گذری تھی اور کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اس جذباتی انسان میں غور و فکر کی صلاحیت بھی ہے 1750ء میں اکیڈمی آف دی جان نے ایک انعامی مقابلے کا اعلان کیا۔ موضوع یہ تھا کہ کیا ’’فنون لطیفہ اور سائنس سے نبی نو ع انسان کو فیض پہنچا ہے ‘‘ ؟ دوستوں کے کہنے پر روسو نے موضوع پر اپنا مقالہ لکھا کہ ’’ہم اب کسی آدمی کے بارے میں یہ نہیں معلو م کرتے کہ آیا وہ دیانتدار ہے یا نہیں بلکہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ لائق فائق ہے یا نہیں۔ ہم کو کتاب کی افادیت سے غرض نہیں بشرطیکہ اس کا پیرایۂ بیان اچھا ہو۔ ذہن پر انعام و اکرام کی بارش ہوتی ہے اور پارسائی کو کوئی نہیں پو چھتا۔

اچھے مقالوں پر تو ہزاروں انعام ہیں مگر اچھے عمل کے لیے ایک انعام بھی نہیں‘‘ روسو کی عملی زندگی کا آغاز اسی مقالے سے ہوا۔ انعام مل گیا تو اس نے پرانی عادتیں ترک کر دیں اور نہایت سادہ زندگی بسر کرنے لگا حتیٰ کہ اپنی گھڑی بھی یہ کہہ کر بیچ ڈالی کہ اب مجھے وقت معلوم کر نے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ 1754ء میں اس کی دوسری کتاب ’’ نابرابری کی ابتداء‘‘ شایع ہوئی انسان کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ’’ دیکھو یہ ہے تمہاری تاریخ جیسی کہ ہونی چاہیے نہ کہ وہ تاریخ جو کتابوں میں قلمبند ہے کیونکہ کتابوں کے مصنف جھوٹ بولتے ہیں البتہ نیچر جھوٹ نہیں بولتی اور میں نے نیچر کی ہی تقلید کی ہے‘‘ وہ اپنی کتاب ان الفاظ پرختم کرتا ہے کہ ’’یہ امر قانون قدرت کے خلاف ہے کہ بچہ بوڑھے پر حکم چلائے اپاہج دانشور کی راہ نمائی کرے اور مٹھی بھر آدمیوں کے پیٹ تو دنیا بھر کے الا بلا سے بھر ے ہوں اور بھوکی اکثریت زندگی کی ضرورتوں کو تر سے۔ ‘‘

وہ کہتا ہے کہ طبقاتی تقسیم، دولت مند اور مفلس، طاقتور اور کمزور آقا اور غلام ہی نے معاشرے میں دنیا بھر کی خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔ روسو کی سب سے اہم تصنیف ’’معاہد ہ عمرانی ‘‘ ہے جو 1762ء میں شایع ہوئی اور اتنی مقبول ہوئی کہ انقلاب فرانس کی انجیل کہلائی مگر معاہدہ عمرانی کا تصور روسو کے ذہن کی تخلیق نہ تھا بلکہ روسو سے بہت پہلے برطانیہ کے سیاسی مفکر ہابس اور لاک اس قسم کے نظرات پیش کر چکے تھے روسو کی کتاب ’’معاہدہ عمرانی‘‘ کا موضوع بظاہر شخصی آزادی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے مگر روسو کو زیادہ دلچسپی مساوات سے ہے۔ روسو جمہوریت کے حق میں تھا معاہدہ عمرانی کا نظریہ ان نئے طبقاتی رشتوں کا فکری جواز تھا جو سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کے باعث نمودار ہو رہے تھے دوسری جانب مابلی (1709-1785) روسو سے 3 سال بڑا تھا۔

اٹھارویں صدی میں اس کی مقبولیت اور شہرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کی تحریروں کی 24 جلدیں چار ایڈیشنوں میں شایع ہوئیں۔ پروفیسر گرے نے بھی جو اشتراکی تحریک کا سخت مخالف تھا اعتراف کیا ہے کہ اس زمانے میں ہر شخص مابلی کو پڑھتا اور اس کی تحریروں کا حوالہ دیتا تھا۔ مویشوژا نے تقریباً سو سال بعد گواہی دی کہ پیرس میں کتاب کی دکانوں میں سب سے زیادہ فروخت مابلی کی کتابیں ہوتی تھی۔ مابلی کی اکثر کتابیں مکالمات افلا طون کے نمونے پر مکالمات ہی کی شکل میں ہیں۔ مابلی کے نزدیک انسانی مساوات قانون فطرت ہی کا ایک پہلو ہے وہ کہتا ہے کہ ’’قدرت ہم سے بیشمار طریقوں سے کہتی ہے کہ تم سب میرے ہو اور میں تم سب سے برابر محبت کرتی ہوں سارا کرہ ارض تم میں سے ہر ایک کا ورثہ ہے جس وقت تم نے میرا ہا تھ چھوڑا اس وقت تم سب برابر تھے ہماری ضرورتیں یکساں ہیں اور مساوات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہی ہے کہ قدرت نے ہر شخص کو آزاد اور مساوی پیدا کیا ہے۔

قدرت نے نہ بادشاہ پیدا کیے نہ حاکم نہ آقا نہ غلام نہ امیر نہ غریب، جب قدرت نے انسانی تخلیق کا عمل مکمل کیا تو عدم مساوات کا نام و نشان تک نہ تھا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ طبعی حالات کی وجہ سے انسانوں کے درمیان فرق پیدا ہو جاتا ہے تو مابلی اس کے جواب میں کہتا ہے کہ قدرتی صلاحیتیں سب لوگوں میں قریب قریب یکساں ہوتی ہیں جو فرق ہمیں نظر آتا ہے وہ دراصل تعلیم و تربیت اور معیار زندگی کے فرق کا نتیجہ ہے اگر سب لوگوں کو مساوی سہولتیں حاصل ہوں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو تو ان کی خدا داد قابلیتیں یکساں طور پر چمکیں گی۔ مابلی کہتا ہے کہ دنیا میں جو ترقی ہوئی ہے خواہ وہ سائنسی علوم میں ہو یا ادب و فنون میں اس میں ذاتی فائدہ کا جذبہ نہیں رہا ہے کیا افلا طون یا سقراط یا ہو مر نے پیسے کی خاطر لکھا تھا؟ مابلی کا خیال تھا کہ انسان فطرتاً نیک ہے نہ کہ بد۔ بدی انسان کی ذات کا جزو نہیں ہے بلکہ انسان جس معاشرے میں پرورش پاتا ہے اس کی برائیاں اس کو بد بنا دیتی ہیں۔ مابلی یہ نہیں مانتا کہ انسان طبعاً کاہل اور کام چور واقع ہوا ہے۔

انسان میں کام نہ کرنے کی تحریک دراصل نکمے اور نکھٹو دولت مند وں کو دیکھ کر ہوتی ہے جو خود اٹھ کر پانی بھی نہیں پیتے البتہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرتے رہیں۔ مابلی اور روسو نے انقلاب فرانس کے لیے ذہنی فضا تیار کی لیکن ان میں سے کوئی انقلاب کے وقت زندہ نہ تھا۔ یہ فخر ان کے روحانی شاگرد اور انقلابی مفکر بابیو کو حاصل ہوا ہے۔ اس نے نہ صرف انقلاب فرانس کے دوران محنت کشوں کی رہنمائی کی بلکہ اپنی جان بھی قربان کر ڈالی۔ انقلاب دنیا بھر میں کہیں بھی پادری یا مولوی نہیں لائے۔

نہ لا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں واحد انقلاب جمہوریت ہی ہے۔ دنیا صدیوں کے تجر بات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جمہوریت، آزادی، مساوات اور معاشی ترقی ایسے راستے ہیں جن پر چل کر ہر شخص کو خوشحالی اور ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔ آج پاکستان کو شعوری انقلاب کی اشد ضرورت ہے اور یہ کام روسو، مابلی اور بابیو جیسے روشن خیال دانشور ہی کر سکتے ہیں جو پاکستان کے عوام کو ایک قوم میں تبدیل کر دیں اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کر دیں تا کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ، روشن خیال اور خو شحال ملک بن سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔