اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کاتسلسل قائم، انڈیکس کی دوحدیں بیک وقت بحال

ویب ڈیسک  پير 21 جنوری 2019
حصص کی مالیت میں 43 ارب 75 کروڑ 24 لاکھ 87 ہزار 354روپے کا اضافہ ہوگیا۔فوٹو:فائل

حصص کی مالیت میں 43 ارب 75 کروڑ 24 لاکھ 87 ہزار 354روپے کا اضافہ ہوگیا۔فوٹو:فائل

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کاتسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی 39400 اور 39500 پوائنٹس کی دوحدیں بیک وقت بحال ہوگئیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق منی بجٹ سے وابستہ مثبت توقعات اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹر سرمایہ کاری کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی 39400 اور 39500 پوائنٹس کی دوحدیں بیک وقت بحال ہوگئیں، تیزی کے سبب 48 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں 43 ارب 75 کروڑ 24 لاکھ 87 ہزار 354روپے کا اضافہ ہوگیا۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں میں خریداری رحجان کے سبب ایک موقع پر506 پوائنٹس تک کی تیزی رونما ہوئی لیکن اس دوران 2 مختلف ریفائنریوں کی خسارے پر مشتمل مالیاتی نتائج کی وجہ ریفائینریز میں حصص کی فروخت کے ساتھ سیمنٹ سیکٹر میں بھی فروخت کا حجم بڑھنے سے تیزی کی مزکورہ شرح میں کمی واقع ہوئی، نتیجتاً کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس237 اشاریہ 27 پوائنٹس کے اضافے سے 39543 اشاریہ77ہوگیا۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج 30 انڈیکس 171 اشاریہ 26 پوائنٹس کے اضافے سے 18928 اشاریہ 33، کے ایم آئی 30 انڈیکس 229 اشاریہ 65 پوائنٹس کے اضافے سے 66463 اشاریہ 03 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 96 اشاریہ 99 پوائنٹس کے اضافے سے 19294 اشاریہ 05 ہوگیا۔

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 19 اشاریہ 68 فیصد کم رہا اور مجموعی طورپر 12کروڑ 44لاکھ 90 ہزار 620 حصص کے سودے ہوئے، جب کہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 340 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 162 کے بھاؤ میں اضافہ 158 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ 131 روپے بڑھ کر 8031 روپے اور انڈس موٹرز کے بھاؤ 53 روپے 98 پیسے بڑھ کر 1243 روپے 78 پیسے ہوگئے، جب کہ یونی لیورفوڈزکے بھاؤ 89 روپے کم ہوکر7200 روپے اور جوبلی لائف انشورنس کے بھاؤ 25 روپے 99  پیسے کم ہوکر 513 روپے 01 پیسے ہوگئے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔