عزت کرانی ہے تو سچ بولنا سیکھیں

وسعت اللہ خان  منگل 22 جنوری 2019

سوشل میڈیا پر کئی وڈیوز گھوم رہی ہیں۔ان میں سے ایک وڈیو ایک بس میں بیٹھے کسی مسافر کی بھی ہے۔یہ بس دیگر گاڑیوں کے ساتھ شاہراہ پر رکی ہوئی ہے کیونکہ تقریباً  ڈیڑھ دو سو گز آگے ایک مسلح کارروائی جاری ہے۔وڈیو میں منظر یہ ہے کہ ایک سفید کار کے برابر میں پولیس کی وین جیسی گاڑی رکی ہوئی ہے۔

کئی مسلح وردی پوش متحرک ہیں۔سفید گاڑی میں سے ایک بچے کو وین میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ چند لمحوں بعد دو دیگر بچوں کو بھی کار میں سے اتار کر اسی وین کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔پھر ایک ہی طرح کے ہتھیار سے فائرنگ کی آوازیں آتی ہیں۔چار قسطوں میں گیارہ راؤنڈ فائر ہوئے۔وڈیو بنانے والے مسافر کو شائد نہیں معلوم کہ یہ سب کیوں اور کون کر رہا ہے۔اس کا تبصرہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ’’ اے تن بچئاں نوں اغوا کر کے لے جا رہے نیں۔گڈی والیاں نوں اندر بیٹھے بیٹھے مار دتا گیا ہے۔ استغفراللہ۔۔۔‘‘۔اور جب پولیس وین آگے بڑھ جاتی ہے تو پھر یہ بس اس سفید گاڑی کے برابر سے گذر رہی ہے۔ گاڑی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔مرنے یا زخمی ہونے والے شائد اندر ہی ہیں۔

ایک اور وڈیو میں دو چھوٹی بچیاں گم صم ایک بنچ پر بیٹھی ہیں۔شائد یہ کسی اسپتال کا ہنگامی امداد کا شعبہ ہے۔ ایک بچی کے ہاتھ پر پٹی بندھی ہے۔شائد کوئی رپورٹر ہے جو انھیں رضاکارانہ تسلی دینے کی کوشش کر رہا ہے ’’ گھبرانے کی کوئی بات نہیں بیٹا آپ کو کچھ نہیں ہوا‘‘۔سپاٹ چہروں والی بچیوں نے شائد اس کا مشورہ بالکل بھی نہیں سنا۔

ایک اور وڈیو میں دس گیارہ برس کا بچہ اسٹریچر پر لیٹا تکلیف سے کراہ رہا ہے۔ایک رپورٹر اس حالت میں بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں نہیں بھولا ’’ بیٹے آپ کے ابو امی کو پولیس والوں نے مارا یا کسی اور نے ؟ ’’۔واہ واہ کیا سوال ہے اور کس سے کس موقعے پر پوچھا جا رہا ہے سبحان اللہ۔

اسی دس گیارہ سال کے بچے ( عمیر ) کی ایک اور وڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ ابو امی اور ہم لاہور سے بوریوالہ شادی میں جا رہے تھے۔ابو نے ان سے کہا پیسے لے لو اور ہمیں جانے دو۔کار میں کوئی ہتھیار نہیں تھا۔

کیا امید رکھی جائے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) بہت سے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اپیل بھی کرے گی کہ ایسے تمام شہری جنہوں نے ساہیوال ٹول پلازہ کے واقعے کی وڈیوز بنائیں اور ایسے تمام چینلز جنہوں نے کار میں سوار زندہ بچ جانے والوں کے فوری انٹرویوز کیے۔وہ تمام مٹیریل جے آئی ٹی کو ارسال کر دیں تاکہ غفلت یا سفاکی کے تعین میں جے آئی ٹی سے کوئی غفلت نہ ہو اور اس واقعے کی چھان پھٹک کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔مجھے قوی امید ہے کہ شہری اور میڈیا ایسی کسی بھی اپیل کا مثبت جواب دیں گے۔مگر افسوس کہ جے آئی ٹی کو صرف بہتر گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے اور جب تک یہ کالم آپ تک پہنچے گا جے آئی ٹی شائد اپنی رپورٹ ان عمل داروں کو پیش کر چکی ہو گی جنہوں نے طے نہیں کیا کہ اس رپورٹ کے بعد کیا ، کتنا اور کیوں کرنا ہے۔

اب آ جاتے ہیں کہانی در کہانی کی آزمودہ سرکاری مشق کی طرف۔

پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)  کی طرف سے واردات کے فوراً بعد پہلا بیان چینلوں کے لیے بطور خوراک جاری ہوا کہ چار مشتبہ دہشت گرد ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب ایک ’’ مقابلے ’’ میں ہلاک ہو گئے۔ پھر کچھ دیر بعد یہ بیان آیا کہ دہشت گردوں نے ایک خاندان کو گاڑی میں یرغمال بنا لیا تھا جسے کامیابی سے چھڑا لیا گیا۔اس کے بعد یہ کہا گیا کہ داعش کے کچھ خطرناک دہشت گرد گاڑی میں سفر کر رہے تھے جنھیں ٹول پلازہ کے قریب روکا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ کار سے پہلے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر کار کے اندر سے فائرنگ کی گئی۔کار سے دو خود کش جیکٹیں ، آٹھ دستی بم ، دو پستول اور گولیاں برآمد ہوئیں۔

اس خونی ڈرامے کا مرکزی کردار ایک سفید مشتبہ کار ہے جس کے بارے میں تین صوبائی وزرا نے ساہیوال سانحے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ثابت کیا کہ اس کار کو واقعے سے تین دن پہلے ملتان میں دیکھا گیا۔یعنی یہ کار دہشت گردوں کی ملکیت تھی۔اور سانحے کے وقت یہ کار داعش کا مطلوب دہشت گرد ذیشان جاوید ڈرائیو کر رہا تھا اور ممکن ہے کہ کار میں ذیشان کے ساتھ ہلاک ہونے والے خلیل ، ان کی اہلیہ نبیلہ اور بیٹی اریبہ کو ذیشان جاوید کا دہشت گرد پس منظر معلوم نہ ہو۔

اس مقام پر کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ مان لیا ذیشان جاوید وہ دہشت گرد تھا کہ جس کی پولیس اور ایجنسیوں کو شدت سے تلاش تھی۔مگر اس کا چھوٹا بھائی احتشام پنجاب پولیس کی ڈولفن فورس میں ملازم ہے۔کیا اسے اپنے بھائی کی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں معلوم تھا؟ جس ایجنسی نے ذیشان جاوید پر لال دائرہ لگایا کیا اس نے بھی کبھی ذیشان کے بھائی سے پوچھا کہ ہمیں تیرے بڑے بھائی کی سرگرمیوں کے بارے میں یہ یہ اطلاعات ہیں تیری کیا رائے ہے ؟

جس دن ساہیوال ٹول پلازہ کے مقابلے کی خبر آئی۔ اس کے کچھ دیر بعد خصوصی پولیس کی جانب سے ایک اور بیان سامنے آیا کہ ٹول پلازہ پولیس مقابلے کی خبر سنتے ہی دہشت گرد ذیشان جاوید کے گھر میں پناہ لینے والے دو اور خطرناک دہشت گرد عبدالرحمان اور کاشف پریشان ہو کر گوجرانوالہ کی طرف بھاگے اور سی ٹی ڈی نے جب انھیں گوجرانوالہ میں گھیر کر گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف خطرناک دہشت گرد ذیشان جاوید روپوش رہنے کے بجائے باقاعدہ اپنے گھر میں رہ رہا تھا بلکہ اس نے اسی گھر میں دو دیگر دہشت گردوں کو بھی پناہ دے رکھی تھی۔مگر پولیس ان تینوں کو گھر سے پکڑنے کے بجائے سڑکوں پر ڈھونڈ رہی تھی۔

جب وہ سفید کار کہ جس کی قانون نافذ کرنے والوں کو شدت سے تلاش تھی۔اسے ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب گھیر لیا گیا تو کار کے مکینوں کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کے بجائے سیدھی سیدھی گولیاں مار دی گئیں۔حالانکہ اس کار میں عورتیں اور بچے بھی سفر کر رہے تھے کہ جن کی جانیں ریاست کو دل و جان سے عزیز تھیں جیسا کہ واردات کے بعد سے مسلسل اوپر سے نیچے تک جتایا جا رہا ہے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا بالکل درست ہے کہ لوگوں اور میڈیا کو دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی چار سالہ شاندار کارکردگی بھی ذہن میں رکھنی چاہیے۔ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے موقعے پر ذمے داروں کی مذمت کے بجائے اداروں کی مذمت کرنا مناسب نہیں۔

گورنر صاحب ! کیا ساہیوال انکاؤنٹر سے پہلے کسی نے سی ٹی ڈی کی اس طرح مذمت کی ؟ ایسا بالکل نہ ہو اگر ادارے بھی اپنے چند اہلکاروں کے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا بحیثیت ادارہ دفاع کرنے کی کوشش نہ کریں۔اگر کوئی پیشہ ورانہ غلطی ہوئی ہے تو ایک کے بعد ایک غلط بیانی کے بجائے صاف طور سے یہ اعتراف کرنے میں کیا قباحت ہے کہ ہو سکتا ہے ہمارے اہلکاروں سے سنگین غلطی ہوئی ہو۔ہم چھان بین کر رہے ہیں اور دودھ کا دودھ ہونے تک ہم ذمے داروں کے حق میں یا خلاف کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔

گورنر جی ! اگر ادارے غلطیوں پر جھوٹ کے اوپر جھوٹ کی تہہ چڑھانا ترک کردیں تو پھر شائد کسی جے آئی ٹی ، عدالتی کمیشن یا کمیٹی کا قیمتی وقت ضایع نہ ہو۔جی ہاں ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں مگر ایسے واقعات سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں خود احتسابی کا ڈھانچہ بھی بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش مسلسل ہوتی ہے۔کیا پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ؟

گورنر صاحب کو اس پر بھی صدمہ ہے کہ لوگ کیوں طعنے دیتے ہیں کہ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے ؟ کیا یہی نیا پاکستان ہے ؟ یقیناً ایسے طعنے نہیں دینے چاہئیں۔مگر کیا ریاستِ مدینہ میں بھی سچائی کو فوری طور پر سامنے لانے اور اپنے گناہ کا اعتراف کر کے معافی مانگنے کے بجائے اسی طرح عذرِ گناہ پیش کرنے کا رواج تھا ؟

جب وزیرِ اعظم سے لے کر آئی جی تک ایسی کسی واردات کے بعد کہتے ہیں کہ ہم مرنے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں تو کیوں لگتا ہے کہ یہ بھی جھوٹ ہے۔ اگر ریاست کو بھی اتنا ہی غم ہے تو پھر یہ غم گڈگورننس میں کیوں نہیں بدلتا۔تاکہ آیندہ ایسے غموں میں برابر کا شریک ہونے سے بچا جا سکے۔

یقیناً جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی آ جائے گی۔مگر اس کے بعد کیا ؟ ان کروڑوں لوگوں کو عبرت ناک سزا کا منظر نہیں چاہیے۔ایسا نظام چاہیے جس میں ایسے کلیشے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ جنھیں سنتے سنتے کان پک کے جھڑ چکے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔