برطانیہ اس خطے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے

ایڈیٹوریل  جمعرات 18 جولائ 2013
ولیم ہیگ نے کہا برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارت، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں قریبی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ولیم ہیگ نے کہا برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارت، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں قریبی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بدھ کو اسلام آباد میں قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ بڑے فخر سے کہہ سکتا ہے کہ پاکستان اس کا دوست ہے اور وہ پاکستان کے ساتہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی ڈٹ کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے۔ پاکستان میں جمہوری انداز میں حکومت کی منتقلی قابل ستائش ہے۔ برطانیہ پاکستان کے اقتصادی مسائل حل کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا برطانوی وزیر اعظم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران واضح پیغام دیا تھا کہ پاکستان کا دوست ہمارا دوست ہے، ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کو بھی بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے روابط بڑھانا چاہئیں۔ پاکستان اور برطانیہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر سرتاج عزیز نے پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے کوششوں پر برطانیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برطانیہ کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 75 کروڑ ڈالر ہے۔

ہم برطانیہ کے ساتھ تجارت 3 سال میں 5 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ افغانستان میں امن کے لیے پر عزم ہیں، امید ہے افغان طالبان دوحہ دفتر کھول لیں گے۔ ولیم ہیگ اور سرتاج عزیز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور برطانیہ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دہشتگردی کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ولیم ہیگ نے کہا برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارت، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں قریبی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ برطانیہ پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے عمل کو دوبارہ شروع کرے گا اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے مابین قریبی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ چند برسوں کی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے عوام کے درمیان تعلقات قیام پاکستان سے بھی پہلے سے قائم ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے آزادی برطانیہ سے ہی حاصل کی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو مغربی دنیا میں برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جو جنوبی ایشیاء کی سیاست کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے۔ برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی موجود ہیں اور یہ لوگ برطانوی شہری بن چکے ہیں۔

اسی طرح بھارت کے بھی لاکھوں لوگ برطانوی شہری ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی برطانیہ میں موجود ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو برطانیہ اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو برطانوی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا اہمیت کا حامل ہے۔برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی اس جنگ کا حصہ ہے۔ برطانیہ کے فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ موجودہ حالات میں اس خطے میں جاری عالمی سرگرمیوں میں برطانیہ کا رہنما کردار ہے۔

کرزئی حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا معاملہ ہو یا امریکا اور طالبان کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی ‘اس میں برطانوی کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکا کی نسبت اس خطے کی سیاست کو برطانیہ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتا ہے کیونکہ برطانوی حکومت کے افغانستان ‘پاکستان اور بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات چلے آ رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے افغانستان کے ساتھ جو بھی معاملات ہوئے ہیں وہ برطانیہ کے ساتھ ہی ہوئے ہیں۔

اس لیے برطانیہ اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ ولیم ہیگ نے تسلیم بھی کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ بہر حال یہ امر خوش آیند ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بہت سے معاملات پر ہم آہنگی موجود ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ولیم ہیگ نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل حل کرنے میں مدد دینگے۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ مسئلہ توانائی کے بحران کا ہے۔ برطانیہ اس بحران کے حل کے لیے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ سرتاج عزیز نے بھی کہا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے معاشی معاملات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ہر حکومت کا زور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے پر رہا۔ انھوں نے مغربی ممالک اور امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

حالانکہ یہ ایسے خطے ہیں جہاں پاکستان کے مال کے لیے منڈی موجود ہے۔ پاکستان اگر اپنی زرعی معیشت پر توجہ دے تو وہ یورپ کو زرعی اجناس برآمد کر سکتا ہے۔ اسی طرح کھیلوں کا سامان ‘ٹیکسٹائل اور آلات جراحی میں بھی پاکستان بہت کچھ کر سکتا ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ برطانیہ جیسے دوست ملک کی معیشت سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس خطے میں موجود تنازعات کے خاتمے کے لیے برطانیہ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت اگر اپنے باہمی جھگڑے ختم کرنے چاہتے ہیں تو انھیں برطانیہ کا کردار تسلیم کرنا چاہیے۔ اب پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات ختم کرنے یا ان کی شدت کم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیاء میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔