سانحہ ساہیوال؛ لاہورہائیکورٹ نے آئی جی پولیس پنجاب کوطلب کرلیا

ویب ڈیسک  منگل 22 جنوری 2019
 پنجاب حکومت کی سفارش پرعدالتی تحقیقات ہوتی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ: فوٹو: فائل

 پنجاب حکومت کی سفارش پرعدالتی تحقیقات ہوتی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ: فوٹو: فائل

 لاہور: ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلیے درخواست پرآئی جی پولیس پنجاب کو 24 جنوری کو طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے ساہیوال کے واقعہ پرجوڈیشل انکوائری کیلئے مقامی وکیل میاں آصف  کی درخواست پرسماعت کی۔ درخواست کے وکیل صفدرشاہین پیرزادہ نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ساہیوال بائی پاس کے قریب ایک گاڑی پرفائرنگ کر دی جس سے ایک  بچی اورایک خاتون سمیت چارافراد کوقتل کردیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش سے وہ حقائق سامنے نہیں آئیں گے، ماضی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی سے کچھ سامنے نہیں آیا اوراب دوبارہ جے آئی ٹی بنائی گئی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس خود سے جوڈیشل انکوائری کا حکم نہیں دے سکتے، پنجاب حکومت کی سفارش پرعدالتی تحقیقات ہوتی ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے. درخواست میں استدعا کی گئی کہ ساہیوال واقعہ کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اورذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔