بلدیاتی انتخابات2ماہ میں نہیں کراسکتے، سپریم کورٹ6 ماہ کی مہلت دے، قائم علی شاہ

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 19 جولائ 2013
کراچی: صوبائی وزیر اویس مظفر کے افطار ڈنر میں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ، رضا ربانی اور منظور وسان شریک ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی: صوبائی وزیر اویس مظفر کے افطار ڈنر میں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ، رضا ربانی اور منظور وسان شریک ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی:  حکومت سندھ نے2ماہ کے اندربلدیاتی انتخابات کرانے سے معذوری کااظہارکیاہے اور سپریم کورٹ سے6ماہ مہلت لینے کافیصلہ کیاہے۔

جمعرات کوسندھ کے وزیربلدیات اورصحت سیداویس مظفر کی طرف سے دیے گئے افطار ڈنرمیں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم سے کوئی انکارنہیں ہے لیکن ہم سپریم کورٹ سے درخواست کریںگے کہ وہ ہمیں6ماہ کی مہلت دے،سپریم کورٹ نے صوبوں سے پوچھاہے کہ وہ کب تک انتخابات کراسکتے ہیں،پنجاب نے4ماہ کی مہلت مانگی ہے جبکہ ہمیں6ماہ درکار ہوںگے۔انھوں نے کہاکہ لیاری کامسئلہ انتظامی نہیں رہا بلکہ کچھ سیاسی ہوگیاہے،لیاری کے مسئلے پرہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

جس کے ارکان نے نقل مکانی کرنیوالے کچھی برادری کے لوگوں سے ملاقات کی ،کچھی برادری کے لوگوں نے اپنے گھروں میں واپس آنے کی یقین دہانی کرائی ہے،وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کراچی آکرنہ تو مجھ سے ملاقات کی اورنہ ہی انھوں نے اپنی کوئی رپورٹ مجھے دی،وفاقی وزیرداخلہ آئیں گے تومیں اس معاملے پر ان سے بات کروں گا،سندھ میں گورنر راج کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ممتاز بھٹو کے بیان پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ممتاز بھٹو اس طرح کے بیانات آج سے نہیں بلکہ اس وقت سے ایسے بیانات دے رہے ہیں جب سے آصف زرداری صدر بنے ہیں۔

افطارڈنرمیں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدرمخدوم امین فہیم،پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل سینیٹرمیاں رضا ربانی،صوبائی وزراڈاکٹر سکندرمیندھرو، منظور حسین وسان،جام مہتاب ڈاھر،مکیش کمار چاولہ،شرجیل انعام میمن،سردار علی نوازمہر، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیربرائے خزانہ سیدمراد علی شاہ،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اورپیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔