بارشیں ، حادثات ، انفرا اسٹرکچر کی زبوں حالی

ایڈیٹوریل  بدھ 23 جنوری 2019
کراچی میں بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، معمولات زندگی درہم برہم،سڑکیں زیر آب آگئیں (فوٹو: نیوز ایجنسی)

کراچی میں بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، معمولات زندگی درہم برہم،سڑکیں زیر آب آگئیں (فوٹو: نیوز ایجنسی)

ملک میں قدرتی آفات ، شدید بارشوں ، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈز، المناک روڈ حادثات اور دیگر المیوں کا جائزہ لیں تو بنیادی سوال ملک گیر انفراسٹرکچر کی زبوں حالی کا سامنے آتا ہے۔

اس کے فقدان پر ماہرین اور میڈیا پر ہر اس موقعے پر بحث ہوتی ہے، عوامی شکایات کے انبار لگ جاتے ہیں جب موسمیاتی تقاضوں اور الرٹس کے بجائے حکومتوں کی عدم توجہی، نااہلی، بلدیاتی اداروں کی بے نیازی ، فنڈزکی کمی کی معذرت خواہی ، فرائض کی انجام دہی میں غفلت پر حیلے بہانے اور صوبائی محکموں کی بارشوں ، سیلابوں ، حادثات اور سنگین واقعات کے رونما ہونے پرکارکردگی کی قلعی کھل جاتی ہے۔

ادارے ایک دوسرے پر صورتحال کی ابتری اور شہری املاک اور تنصیبات کی تباہی، سڑکوں شاہراہوں کی ٹوٹ پھوٹ ، ندی نالوں میں صفائی سے چشم پوشی اور ہنگامی حالات کے حوالے سے مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں اور حفاظتی اقدامات بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں، لامحالہ سیاسی جماعتوں کے خلاف شہری شکایت کرتے ہیں، معاشرے کے فہمیدہ حلقوں کی شدید مذمت اور نکتہ چینی کا سارا ملبہ حکومتوں کی انتظامی مشیری اور نوکر شاہی پرگرتا ہے۔

حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں ، موسلا دھار اور طوفانی بارشوں ، بین الصوبائی شاہراہوں پر ٹریفک کے ہولناک حادثات کے تسلسل اوربلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں دھماکوں ،کان میں گیس بھر جانے کے اندوہناک واقعات اورکان کنوں کی دردناک اموات میں اضافے کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کی انتظامیہ سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

پیداشدہ صورتحال اتنی تکلیف دہ ہے کہ ہر شخص کے لب پر یہی سوال ہے کہ حکومت مکمل انفرااسٹرکچر پر توجہ کیوں نہیں دیتی، کیوں قدرتی آفات ، فطرت کے تبدیل شدہ منظر نامے کے ادراک، معصوم مسافروں کی بسوں ،کوچز اور دیگر ہیوی گاڑیوں میں تصادم سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، عارضی اقدامات ہوتے ہیں ، ہرحادثے کے بعد ریسکیوکارروائی کے تحت ایدھی ایمبولینسز جائے حادثہ پر پہلے پہنچتی ہیں، ملک کے دور دراز علاقوں کے دشوارگزار راستوں اور پختہ شاہراہوں پر جگر پاش روڈ ایکسیڈنٹس میںجاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی اسپتال منتقلی اعصاب شکن ہوتی ہے، زخمی جائے حادثہ سے دور دراز سرکاری اسپتالوں میں منتقلی کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں۔

میڈیا بار بار یاد دہانی کرتا ہے، مگر صوبائی حکومتیں، وزراء اور منتخب اراکین محکمہ جاتی سطح پر ڈنگ ٹپاؤ سے زیادہ متحرک ہوتی نظر نہیں آتے، آخرکیوں اس جمود ، لاتعلقی ، بے پروائی، عدم دلچسپی کا سلسلہ جاری ہے۔ فزیکل پلاننگ کے شعبے میں ملک کے ممتاز ماہرین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ حکومتوں کو جن مقاصد اور اہداف کی تکمیل کے لیے عوام منتخب کرتے ہیں، اس کا بنیادی محور مسائل کا حل ہے، وفاقی وصوبائی حکومتوں اور ارباب اختیار و پارلیمنٹیرینز کی اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کو درپیش مصائب ومسائل سے نجات دلانا اور بلدیاتی، شہری دیہی ترقی اور بین الصوبائی سفری و جدید ترین مواصلاتی سہولتوں کی فراہمی ہے۔

پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، پاکستان اس سے الگ نہیں ہے، ایک نئی حکومت اور نیا پاکستان متعارف ہوا ہے، جس میں عوام کو بنیادی سہولتوں کا انتظار ہے، مگرکوئی حیران کن تبدیلی فزیکل پلاننگ ، مواصلات ، انسداد حادثات اور دیگر المناک واقعات کے سدباب کے سیاق وسباق میں انسانی ضمیرکی تسکین اور آسودگی کا باعث نہیں بنتی ۔

ہر سال کا رونا یہی ہے کہ ابر رحمت کا باعث زحمت بن جانا ۔افسرشاہانہ کاہلی، انتظامی تجاعل عارفانہ اور حکام و متعلقہ محکموں کے مجرمانہ تساہل اور عدم دلچسپی سے عوام کل بھی نالاں تھے اور آج بھی ان کی فلاح وبہبود اور ریلیف مہیا کرنے کے لیے پیکیجز، منصوبوں کی شفافیت اور واقعات وحادثات کی روک تھام کے لیے کوئی شاندار ، قابل تحسین روڈ میپ اور جدید ترین انفرااسٹرکچر کے قیام اور پھیلاؤ کا نام ونشان دکھائی نہیں دیتا۔

ملک میں ہونے والی بارشوں اور اس کے دوران اور بعد کی صورتحال ہر شہری کے لیے شکایت اور تکلیف کا سبب بنتی ہے، ادھر بارشوں کا سلسلہ چلا ، ادھر بجلی کے فیڈر ٹرپ کرگئے، کنڈے کی بجلی یا بے احتیاطی سے کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں، مخدوش عمارتوں کے گرنے کے سانحے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارش سے شہر کا نظام مفلوج ہو گیا، معمولات زندگی درہم برہم ، سڑکیں زیر آب آگئیں ، نکاسی آب کی ساری منصوبہ بندیاں معمولی سے بارش میں بہہ جاتی ہیں، لاہور سمیت پنجاب پختونخوا ، بلوچستان بھر میں اکثر مقامات پر پیرکو بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔ کراچی میں پیرکو وقفے وقفے سے کبھی تیز اورکبھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے موسم مزید سرد ہوگیا ۔

بارش کا پانی اہم سڑکوں پر جمع ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر ٹریفک جام رہا ۔ ملک کے بالائی علاقوں مالاکنڈ، ہزارہ، پشاور، مردان، کوہاٹ، راولپنڈی، اسلام آباد، کشمیر اورگلگت بلتستان میں اکثر مقامات پر، بہاولپور، ملتان، ساہیوال، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، بنوں ڈویژن میں کہیں کہیں جب کہ سکھر اور ژوب ڈویژن میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش جاری رہی تاہم مغربی ہواؤں اور بارشوں کے نئے سلسلے نے کراچی شہر میں جل تھل کردیا۔

مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں4 افراد جاں بحق ہوگئے،کراچی سے پنجگور جانے والی مسافرکوچ اور ٹرک میں تصادم حادثے کے بعد کوچ میں آگ لگ گئی خواتین اور بچوں سمیت 26 افرادزندہ جل گئے 6 جھلس کر زخمی ہوگئے جب کہ3 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، حادثے کے بعد لسبیلہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا گیا۔

بلوچستان کے ضلع دکی میںزہریلی گیس بھرنے  کوئلے کی کان میں دھماکا ہوگیا جس سے کان بیٹھ گئی ،2امدادی اہلکاروں سمیت 6افراد جاں بحق ہوگئے،امداد کے لیے جانے والے 19کارکن بے ہوش ہوگئے ۔ ضلع راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے باعث انسداد پولیو کی 5 روزہ مہم کا آغاز نہ ہوسکا، پولیو ورکرزکی ٹیمیں بارش کے باعث باہر نہ نکل سکیں جب کہ انسداد پولیوکے فکسڈ سینٹرز پر بھی موجود عملہ پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کے لیے بچوں کا منتظر رہا۔

عمومی شکایت کی روشنی میں  بیشتر شاہراہیں ، سڑکیں تالاب بن گئیں، بلدیاتی ادارے پیشگی انتظامات کرنے میں ناکام رہے۔ فراہمی آب کا عملہ غائب ، برساتی نالے ابل پڑے، سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ۔ یہ صرف کسی ایک بڑے شہر کی نہیں پورے ملک میں ناقص انفرااسٹرکچر کی دردناک داستان ہے۔

آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، حکومتوں پر عوام کا نزلہ اس لیے گرتا ہے کہ سیاست دانوں میں ٹھنی ہوئی ہے، جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے، ان کی ترجیحات غالباً عوام کو سہولتیں مہیا کرنا نہیں باہمی کشیدگی، الزام تراشی، بیان بازی اور حکومتیں گرانے کی نورا کشی کا تماشا دکھانا ہے ۔حالانکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت قدرتی آفات سمیت ملک میں نقل وحمل کی جدید سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دے۔ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام، بارشوں سے شہر و دیہات میں عوام کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے۔ سیلابوں  پر بند باندھنے کے ٹھوس اقدامات کی طرف رجوع کرے۔

موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز ملک وحکومت کو درپیش ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ کب یہ منظر نامہ بدلے گا،کب بسوں اورکوچز کے المناک تصادم میں معصوم شہری ہلاک ہوتے رہیں گے، کان کنوں کے حالات کارکب بہتر ہونگے۔ ہم دنیا کی بہترین شہری اور دیہی زندگیوں کے معیارکے تقابل میں کب بہترین مقام حاصل کریں گے۔ ان سوالوں کے جواب عوام کو جلد چاہئیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔