وفاقی کابینہ نے منی بجٹ کی منظوری دے دی

ویب ڈیسک  بدھ 23 جنوری 2019
سگریٹ اور گاڑیوں سمیت کئی درآمدی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان (فوٹو : فائل)

سگریٹ اور گاڑیوں سمیت کئی درآمدی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: وفاقی حکومت آج رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی بجٹ میں دی گئی تجاویز پر بریفنگ دی۔ اسد عمر نے کہا کہ ضمنی بجٹ لانا وقت کی ضرورت ہے، اس سے عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا، وفاقی کابینہ کے ارکان نے اسد عمر کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے آج دوسرا منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں سگریٹ اورگاڑیوں سمیت کئی درآمدی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ تنخواہ داروں کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 6 سے 8 لاکھ روپے، جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر ساڑھے 17 فیصد ہونے کا امکان ہے جب کہ نان فائلر زائد ٹیکس دے کر گاڑی اور جائیداد خرید سکیں گے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج کا دن اہم ہے، تحریک انصاف کی حکومت اپنا اقتصادی ایجنڈا عوام کے سامنے رکھنے جارہی ہے، مالیاتی ایمرجنسی سے نمٹ لیا ہے اب اپنا اقتصادی وژن دے رہے ہیں، 2019ء اصل اہداف کے حصول کا سال ہے۔

منی بجٹ پر اپوزیشن نے بھی کمر کس لی اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ اس حوالے سے شہباز شریف کی زیر صدارت اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔  متحدہ اپوزیشن نے منی بجٹ کے خلاف قومی اسمبلی میں شدید احتجاج اور بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما پرپیپلز پارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں انوکھا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، تیسرے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا، عوام پر نئے ٹیکس نہیں لگنے دیں گے، ایک اور منی بجٹ حکومت کی معاشی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس حکومت نے ادھار کا کشکول اٹھا کر ملک کی ناک کٹوا دی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔